جمعرات 10 ستمبر 2026 - 14:07
التجائیہ کلام/اے علمدار کربلا آقا! اس علمدار کی مدد فرما

حوزہ/مولانا ظہور مولائی کا التجائیہ کلام پیش خدمت ہے۔

شاعر: مولانا ظہور مولائی قمی

حوزہ نیوز ایجنسی|

اے علمدار کربلا آقا
اس علمدار کی مدد فرما
اے خدائے کریم کے شیدا
اس علمدار کی مدد فرما

اسکے دشمن ہیں اھل ظلم و ستم
اس پہ دائم رکھیں نگاہ کرم
اور سایہ بھی اپنے پرچم کا
اے علمدار کربلا آقا
اس علمدار کی مدد فرما

یہ علمدار، رب کا عاشق ہے
یہ علمدار، عبد صادق ہے
یہ ہے سچا غلام آل عبا
اے علمدار کربلا آقا
اس علمدار کی مدد فرما

یہ علمدار، دیں کا خادم ہے
اک فہیم و بصیر، عالم ہے
اور فدائی ہے دین و مذھب کا
اے علمدار کر بلا آقا
اس علمدار کی مدد فرما

یہ علمدار ، فخر امت ہے
یہ علمدار ، جان ملت ہے
یہ ہے در اصل آپ کا شیعہ
اے علمدار کربلا آقا
اس علمدار کی مدد فرما

یہ فقیہ امین ہے دیں کا
درحقیقت معین ہے دیں کا
رہنما ہے یہ قوم و ملت کا
اے علمدار کربلا آقا
اس علمدار کی مدد فرما

پیکر زھد و پارسائی ہے
دشمنوں کے لئے تباھی ہے
کربلائی ہے حوصلہ اس کا
اے علمدار کربلا آقا
اس علمدار کی مدد فرما

شکر خالق بصد وقار و حشم
یہ اٹھائے ہے کربلا کا علم
اس کو ہو قوت مزید عطا
اے علمدار کربلا آقا
اس علمدار کی مدد فرما

یہ ہے تاثیر عشق حیدر کی
اس سے خائف ہے نسل ، خیبر کی
اور لرزاں ہیں اھل مکر و دغا
اے علمدار کربلا آقا
اس علمدار کی مدد فرما

قائد جانثار حزب اللہ
یہ ہے عز و وقار حزب اللہ
فتح کامل ہو اس کو جلد عطا
اے علمدار کربلا آقا
اس علمدار کی مدد فرما

مرحب عصر کی کمر مولا
توڑ دے جلد مجتبی آقا
تاکہ ملت میں جشن ہو برپا
اے علمدار کربلا آقا
اس علمدار کی مدد فرما

یہ تمنائے قلب مضطر ہے
یہ دعا آج سب کے لب پر ہے
جلد ہو اب ظہور مہدی کا
اے علمدار کربلا آقا
اس علمدار کی مدد فرما

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha