تحریر : مولانا ظہور مہدی مولائی
حوزه نیوز ایجنسی!
مقدمہ
محترم سیدعبد الکریم موسوی کے کریم و نجیب بیٹے شہید سید حسن نصراللہ طاب ثراہ مشرقِ وسطیٰ کی ایک نہایت مقبول و موثر سیاسی و انقلابی شخصیت تھے۔ وہ 1992ء سے ستمبر 2024 تک لبنان کی اسلامی، سیاسی و انقلابی تنظیم حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری رہے اور انھوں نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک اس حزب و تنظیم کو لبنان کے سیاسی، سماجی اور عسکری و دفاعی منظرنامہ کا ایک اہم اور فعال و موثر گروہ بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔
ان کی سرپرستی و راہنمائی میں حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ کئی جنگوں اور جھڑپوں میں حصہ لیا، وہ لبنان کی پارلیمانی سیاست میں داخل ہوئی ، اس نے وہاں سماجی خدمتوں کا دائرہ وسیع و کشادہ کیا اور شام کی خانہ جنگی میں بھی فوجی مدد بہم پہنچائی۔
سید حسن نصر اللہ طاب ثراہ ایک نہایت غیرت دار مجاھد ، پختہ کار سیاسی لیڈر ، دینی و اسلامی قدروں کے سچے اور طاقتور محافظ ، فلسطین کی مظلوم ملت کے عظیم حامی و مدافع اور نظام ولایت فقیہ کے حقیقی پیروکار و پاسدار تھے۔
ان کی شرافت و کرامت لبریز زندگی کے اہم نقوش کو حسب ذیل خصوصیات کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے:
1۔ ابتدائی زندگی اور فکری نشو و نما
حجت الاسلام والمسلمین آقائے سید حسن نصراللہ طاب ثراہ برج حمود ، بیروت لبنان کے ایک شیعہ گھرانے میں 31 اگست 1960 کو پیدا ہوئے ، ان کے بچپن کازمانہ وہیں گزرا ، چونکہ وہ 1975 تک وہیں رہے ، جبکہ ان کے والد مکرم جناب سید عبد الکریم نصراللہ جنوب لبنان کے گاوں " البازوریہ " سے تعلق رکھتے تھےاور سید کا آبائی وطن وہی گاوں تھا۔ لبنان میں جب خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو ان کی فیملی پھر جنوبی لبنان جبل عامل صور کے علاقہ میں اپنے آبائی وطن " البازوریہ" چلی گئی تھی۔ سید نے نوجوانی میں شیعہ سیاسی و عسکری تحریک" امل" سے وابستگی اختیار کی اور اس کے بعد پہلے نجف اشرف اور پھر قم مقدس میں دینی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے قیام کیا اور وہیں کی دینی و فکری فضا نے انھیں ایک دینی ، سیاسی و انقلابی موثر و بصیر شخصیت میں تبدیل کیا۔
قابل ذکر ہے کہ 1980 کی شروعات میں حزب اللہ کی تاسیس و تشکیل اس وقت معرض وجود میں آئی ، جب اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا اور اس کے جنوبی علاقہ میں پڑاو ڈالا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حزب اللہ کے نظریاتی و عسکری ڈھانچہ کی تشکیل و تعمیر میں ایران کے اسلامی انقلاب کی ہدایت و حرارت اور پاسدارانِ انقلاب کی مدد نے بہت اہم رول ادا کیا ہے، اور سید حسن نصراللہ رضوان اللہ علیہ اسی زمانہ سے اس حزب و تبظیم کے دلداہ تھے اور اس کے اہم اراکین و اساطین میں گنے جاتے تھے۔
2۔حزب اللہ کی قیادت و سرپرستی
حجت الاسلام والمسلمین سید عباس موسوی حزب اللہ کے پہلے جنرل سکریٹری 1992 میں جب اسرائیلی حملہ کی زد میں آکر شہید ہوگئے تو ان کی شہادت کے بعد حجت الاسلام والمسلمین سید حسن نصراللہ کو اس حزب کی قیادت و سرپرستی سونپی گئی اور انھوں نے تقریباً 32 سال تک یہ ذمہ داری نہایت فراست و کیاست اور شجاعت و بصیرت کے ساتھ انجام دی۔ شہید نصراللہ علیہ الرحمہ کی قیادت کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ انھوں نے حزب اللہ کے مختلف شعبوں( دینی ، سیاسی، سماجی اور عسکری )کو ایک مرتبط و منظم ڈھانچہ میں رکھنے کی کوشش کی ، ان کے زمانہ میں حزب اللہ نے لبنان کی پارلیمانی سیاست میں بھی حصہ لیا، حکومت میں وزارتی عہدے بھی حاصل کئے اور ساتھ ہی ساتھ اپنا عسکری ڈھانچہ بھی برقرار رکھا۔
3۔ سیاسی و انقلابی خصوصیات
3۔1۔ عملی سیاست
شہید سید حسن نصراللہ کی سیاسی و انقلابی شخصیت کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ نظری سیاست اور عملی سیاست کے مابین توازن و ہماہنگی برقرار کرنے کی بھرپور کوشش کرتے تھے۔ حزب اللہ کا بنیادی اعتقادی و نظریاتی دستور العمل اسلامی انقلاب ایران کی بھرپور حمایت و تاسی ، اسرائیل کے خلاف مسلسل مزاحمت اور مغربی اثر و رسوخ کی مخالفت کی تاکید کرتا تھا، لیکن آخری دور میں اس تنظیم کو لبنان کے پیچیدہ فرقہ وارانہ سیاسی سسٹم کے اندر پارلیمانی سیاست کو بھی قبول کرنا پڑا اور اس کے لئے بھی پالیسی تیار کرنی پڑی۔ حزب اللہ کے 2009 کے نئے دستور و منشور میں پہلے کے بالمقابل زیادہ سیاسی زبان استعمال کی گئی ہے اور اس میں ’’حقیقی جمہوریت‘‘ جیسے نظریات کو بھی جگہ دی گئی ہے، البتہ اس تبدیلی کو کچھ تجزیہ نگاروں نے اس حزب کو لبنانی سیاست میں ایک لمبی مدت سے موجود رہنے کے پس منظر میں دیکھا ہے۔

3۔2۔ عوام سے مستحکم و موثر رابطہ
شہید سید حسن نصراللہ طاب ثراہ کی ایک عظیم سیاسی و نقلابی خصوصیت یہ تھی کہ عملی اقدامات و خدمات کے علاوہ اپنے ملک کی عوام سے اپنی دلنشین اور گرجدار خطابت کے ذریعہ بھی مسلسل رابطہ میں رہتے تھے۔وہ اپنی شاندار تقریروں کے ذریعہ لبنان کی عوام تک سیاسی حالات و واقعات کو شرح و وضاحت کے ساتھ پہنچاتے اور حزب اللہ کے موقف کو دینی ، ملکی ، قومی اور علاقائی سطح پر بیان کرتے تھے۔ان کی حقائق پر مبنی پرجوش تقریریں لبنان سے باہر پوری عرب بلکہ غیر عرب دنیا میں بھی بڑے ذوق و شوق کے ساتھ نہایت عقیدت سے سنی جاتی تھیں۔
عام طور سے ان کی تقریروں میں یہ تین چیزیں زیادہ نمایاں ہوتی تھیں:
الف ؛ اسرائیل کے خلاف مسلسل مزاحمت۔
ب ؛ فلسطین کی پرزور حمایت اور اس کا دفاع۔
ج ؛ ایران، شام اور علاقہ میں موجود اتحادی قوتوں کے ساتھ سیاسی و عسکری ہماہنگی اور باہمی تعاون۔
3۔3۔سماجی خدمات اور سرگرمیاں
شہید سید حسن نصراللہ نے حزب اللہ کو بہت مضبوط و مستحکم سیاسی ، انقلابی و عسکری تنظیم کے ہمراہ ایک وسیع سیاسی اور سماجی و عوامی نیٹ ورک بنادیا تھا۔ انھوں نے اس تنظیم کی مدد سے بہت سے ہوسپیٹلس ، کلینکس، اسکولز اور متعدد و متنوع سماجی خدمات کا سلسلہ پائدار سسٹمک انداز میں قائم کیا ، اسی لئے حزب اللہ اور شہید علیہ الرحمہ آج بھی لبنان کے اکثر عوام و خواص بالخصوص مستضعف طبقہ کی محبت و عقیدت کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
3۔4۔ جذبہ مزاحمت و مقاومت
حقیقت یہ ہے کہ عرب بلکہ پوری دنیا میں شہید نصراللہ اور حزب اللہ کو فلسطین کی پرزور حمایت و مذافعت اور اسرائیل کی جارحیت و بربریت کے خلاف مزاحمت و مقاومت کے تابناک عنوان سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ شہید نصراللہ کی طاقتور قیادت کا کرشمہ تھا کہ حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج پر عرصہ حیات اتنا تنگ کردیا تھا کہ اسے دم دباکر پچھلے پاوں بھاگنا پڑا۔ یہ سچ ہے کہ مئی 2000 میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی ظالم و سفاک فوج کے بزدلانہ کوچ کرنے کے بعد شہید نصراللہ اور حزب اللہ کی مقبولیت میں بیحد اضافہ ہواتھا۔ اس کے بعد 2006 میں بھی 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ کی شاندار کامیابی اور منحوس و مردود اسرائیل کی کھلی شکست انھیں کی کامیاب اور مدبرانہ و شجاعانہ قیادت کا کارنامہ ہے۔
3۔5۔ لبنان کی داخلہ پالیسی میں موثر رول
شہید نصراللہ علیہ الرحمہ نے حزب اللہ کے سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھاتے ہوئے لبنان کے داخلی سیاسی سسٹم میں اپنی قابل قدر جگہ بنائی اور اس میں نہایت اہم رول ادا کیا۔ حزب اللہ لبنانی پارلیمنٹ میں قابل توجہ سیٹیں حاصل کرتی رہی ، متعدد حکومتوں کے ساتھ شریک رہی اور مختلف اتحادی گروپس کے ساتھ سیاسی وحدتیں اور ہماھنگیاں برقرار کرتی رہی۔
3۔6۔ دین و سیاست کا امتزاج
انقلاب اسلامی ایران اور نظریہ ولایت فقیہ سے عمیق دینی ، اعتقادی و ایمانی وابستگی کی وجہ سے شہید نصراللہ علیہ الرحمہ دین و سیاست دونوں کو ایک دوسرے سے مرتبط سمجھتے تھے اور ان دونوں میں جدائی کو دشمنان اسلام کی سازش قرار دیتے تھے۔اسی لئے وہ دشمنان اسلام اور ظالموں کے خلاف مزاحمت و مقاومت اور مظلوموں کی بھر پور حمایت و مدافعت نیز اس راہ میں شہادت جیسے دینی تعلیمات کو سیاسی امور و مصالح سے ہماہنگ قرار دیتے تھے اور خصوصی و عوامی ہر فلیٹ فارم سے اسی کی تبلیغ و ترویج کرتے تھے۔
3۔7۔ شوق شہادت
انقلابی شخصیتوں کے اہم خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ان کا شوق شہادت سے لبریز ہونا ہے اور یہ عظیم خصوصیت ہمیں شہید مظلوم سید نصراللہ علیہ الرحمہ کے یہاں بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے ، چنانچہ انھوں نے لبنان کے دار السلطنت بیروت کے ضاحیہ علاقہ میں ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بڑے مشتاقانہ و شجاعانہ انداز میں فرمایا تھا:"انا ارید ان اموت شھیدا ولا خائنا"میں شہید بن کر مرنا چاہتا تھا ، غدار بن کر مرنا نہیں چاہتا۔
آخرش اللہ رب العزت نے ان کی یہ آرزو پوری فرمادی اور وہ 64 سال کی عمر میں 27 ستمبر 2024 کو بیروت میں اسرائیلی درندوں کے ہاتھوں ہونے والے بم دھماکوں میں شہید ہوگئے۔
سبحان اللہ ، کیا کہنا ، عاش سعیدا و مات شھیدا۔
آخرکلام میں رب رحیم و کریم عز و جل سے بحق اھل بیت طاھرین علیہم السلام دعا ہے:
اللھم اجعلہ عندک فی اعلی علیین ، واحشرہ مع اجداہ الطاھرین و رفقائہ المستشھدین و ارحمہ برحمتک یا ارحم الراحمین ، آمین۔
مآخذ
1۔آگسٹس رچرڈ نورٹن، حزب اللہ: ایک مختصر تاریخ (Hezbollah: A Short History)، پرنسٹن یونیورسٹی پریس، ۲۰۱۸۔
2۔جوزف الغا، حزب اللہ کی شناخت کی تشکیل (Hizbullah's Identity Construction)، روٹلیج، ۲۰۱۱۔
3۔احمد نزار حمزہ، حزب اللہ کے راستے میں (In the Path of Hizbullah)، سائراکیوز یونیورسٹی پریس، ۲۰۰۴۔
4۔بیروت ضاحیہ میں 22 ستمبر 2006 کے ایک عظیم اجتماعی خطاب سے اقتباس۔










آپ کا تبصرہ