تحریر: مولانا ظہور مہدی مولائی
حوزہ/قرآن حکیم اور اہل بیت طاہرین علیہم السلام کے ہدایات و تعلیمات اور معارف و ارشادات میں "شکران نعمت" فقط زبان سے "الحمدللہ" یا " شکراً للہ" کہنے کا نام نہیں ہے بلکہ ایسا فطری، قلبی، اخلاقی اور عرفانی عمل ہے جس میں بندہ کا دل نعمتیں عطا کرنے والے رب و پروردگار کی معرفت و محبت میں ڈوب کر زبان سے اس کی منعمی و فیاضی کے گن گاتے نہیں تھکتا اور وہ عملی طور پر اس کی نعمتوں کو وہیں صرف اور استعمال کرتا ہے جہاں اس کی رضا و خوشنودی ہوتی ہے۔
یہ تو ہر انسان جانتا ہے کہ اس کی حیات و زندگی اللہ تعالی کی بخشی ہوئی طرح طرح کی ان گنت نعمتوں سے بھری ہوئی ہے۔
ہم انسانوں سے خطاب کرتے ہوئے قرآن حکیم نے بھی فرمایا ہے:"ان تعدوا نعمة الله لا تحصوها"(1) اگر اللہ کی نعمتوں کو تم شمار کرنا چاہو گے تو شمار نہیں کر سکو گے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے اور یہ حقیقت ہر انسان پر روز روشن کی طرح آشکار ہے کہ اللہ رب العزت نے اس عالم ہستی میں اس کے لئے اتنی لاتعداد اور بیشمار نعمتیں خلق فرمائی ہیں کہ اگر وہ ساری زندگی سجدہ میں پڑا رہے تب بھی ان کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔
اس حوالے سے انسان کی عاجزی و ناتوانی کو امام الموحدین مولا علی علیہ السلام نے اس طرح بیان فرمایا ہے:
"وَاللَّهِ لَوِ انْمَاثَتْ قُلُوبُكُمُ انْمِيَاثًا، وَسَالَتْ عُيُونُكُمْ مِنْ رَغْبَةٍ إِلَيْهِ وَرَهْبَةٍ مِنْهُ دَمًا، ثُمَّ عُمِّرْتُمْ فِي الدُّنْيَا مَا الدُّنْيَا بَاقِيَةٌ، مَا جَزَتْ أَعْمَالُكُمْ عَنْكُمْ وَلَوْ لَمْ تُبْقُوا شَيْئًا مِنْ جُهْدِكُمْ"(2)
اللہ کی قسم! اگر تمہارے دل بالکل پگھل جائیں اور تمہاری آنکھوں سے اللہ کی محبت و رغبت اور اس کے خوف کی وجہ سے خون بہنے لگے اور تم دنیا میں اتنی مدت زندہ رہو کہ جب تک دنیا باقی رہے، تب بھی تمہارے طاعات و اعمال اللہ کی عظیم نعمتوں کا جواب نہیں بن سکتے، چاہے تم اپنی پوری کوشش میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑو۔
مولا کے اس بیان سے صاف واضح ہے کہ اللہ تعالی کی نعمتیں اتنی کثیر و عظیم ہیں کہ انسان کبھی بھی ان کا حق اور شکر ادا نہیں کر سکتا!!
ظاہر ہے کہ جب ان کا شمار کرنا اور گننا ہی ممکن نہیں ہے تو شکر بجالانا کیسے ممکن ہوگا اور جب ایسا ہے تو پھر کیا کریں اور کیسے شکر بجالائیں؟
اس مشکل سوال کے جواب میں حسب ذیل باتیں عرض خدمت ہیں:
1۔اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں فرمایا ہے" لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا" (3) یعنی اللہ کسی نفس کو اس کی وسعت و قوت سے زیادہ تکلیف و ذمہ داری نہیں دیتا۔
شاید اسی لئے خداوند حکیم و مہربان نے ہم سے شکر کا مطالبہ تو کیا ہے لیکن ہر ہر نعمت پر الگ الگ شکر بجالانے کا تقاضا نہیں فرمایا ہے چونکہ یہ ہماری بساط سے باہر ہے، لہذا ہمیں اپنی بساط کے لحاظ سے اس فریضہ کو ادا کرنا ہے۔
2۔ بلاشبہ ہم تمامتر نعمتوں کو شمار کرنےاور فرداً فرداً ان کا شکر ادا کرنے کی طاقت و قدرت نہیں رکھتے، لیکن مجموعی طور پر تو مسلسل دل، زبان اور عمل سے ان کا شکر اد اکر سکتے ہیں لہذا اس شکر سے ہمیں کبھی غافل نہیں ہونا چاہئے اور" الحمدللہ و لہ الشکر علی کل نعمہ"(حمدو ستائش اور شکر و سپاس ہے اللہ تعالی کے لئے اس کی عطا کی ہوئی ہر نعمت پر) جیسے کلمات کے ذریعہ بارگاہ رب العالمین میں اپنا نذرانہ شکر پیش کرتے رہنا چاہیئے۔
3۔ یاد رہے کہ مقام شکر و سپاس میں اللہ تعالی کی نعمتوں کی کثرت و عظمت کو محسوس کر کے دل کی گہرائی سے عشق الہی میں ڈوب کر پوری ٹرپ کے ساتھ اپنے معبود کے سامنے اس کا شکر بجا لانے کے سلسلہ میں اپنی ناتوانی اور عاجزی کا اظہار ہی اصل شکر و سپاس ہے اور بارگاہ الہی میں اس کی بڑی قدر و منزلت ہے۔
جس کا اندازہ حضرت داؤد علیہ السلام سے متعلق اس روایت سے لگایا جا سکتا ہے:
اوحی اللہ الی داود ، یا داود اشکرنی ، قال و کیف یارب ؟ والشکر من نعمک تستحق علیہ شکرا ، قال یا داود رضیت بھذا الاعتراف منک شکرا۔(4)
اللہ نے داؤدؑ کی طرف یہ وحی فرمائی کہ اے داؤد! میرا شکر ادا کرو۔
داؤدؑ نے عرض کی : اے میرے پروردگار میں تیرا شکر کیسے ادا کروں؟ جبکہ شکر بھی تیری نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جس پر خود شکر لازم آتا ہے؟
یہ (سن کر) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں شکر کے طور پر تمھارے اس اعتراف سے راضی ہوگیا۔
اس روایت سے ظاہر ہے کہ خداوند متعال کی بارگاہ اقدس میں حضرت داود نے شکر کی بابت جب اپنی عاجزی اور بے بسی کا اظہار کیا تو انھیں رضائے الہی حاصل ہوئی اور اس کا حاصل ہونا، قرآن کی نگاہ میں عظیم کامیابی ہے ، جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے:
"ورضوان من اللہ اکبر، ذلک ھوالفوز العظیم"(5)۔
خداوند متعال کے شکر کا حق ادا کرنے کے سلسلہ میں بندہ کی طرف سے واقعی عاجزی و بے بسی کے اقرار و اعتراف کا اس سے زیادہ بڑا اور عظیم فائدہ اور کیا ہوگا کہ اسے اس کے پروردگار کی رضا و خوشنودی اور اس کے صدقہ میں "فوز عظیم" نصیب ہو جاتی ہے۔
شکران نعمت کے عظیم ثمرات و برکات:
شکران نعمت کے سلسلہ میں ہم سب کو یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ خداوند منعم کا ہماری گردن پہ سب سے پہلا واجب و ضروری حق ہے جیسا مولا امیرالمومنین علیہ السلام کے اس قول سے ظاہر ہوتا ہے:
"أَوَّلُ مَا يَجِبُ عَلَيْكُمْ لِلَّهِ سُبْحَانَهُ شُكْرُ أَيَادِيهِ وَابْتِغَاءُ مَرَاضِيهِ"(6)۔
یعنی اللہ سبحانہ کا تم پر سب سے پہلا واجب حق یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کا شکر بجالاو اور اس کی مرضیوں کو حاصل کرو۔
یہی نہیں کہ اس اہم حق کا واجب ہونا فقط قرآن و سنت سے ثابت ہے، نہیں بلکہ اس کے ضروری و واجب ہونے کو عقل و فطرت بھی تسلیم کرتی اور ہمیں اس کی ادائیگی پر ابھارتی ہے۔
البتہ جب ہم عقل و فطرت اور دین و قرآن کے حکم کے مطابق اللہ تعالی کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر بجالاتے ہیں تو اس کے تمامترمنافع اور فوائد ہمیں کو نصیب ہوتے ہیں اور ہمارے اسے بجالانے یا نہ بجالانے سے خداوند غنی و صمد کا ذرہ برابر نہ کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ نقصان ، چنانچہ قرآن حکیم نے اس حقیقت کی طرف اس طرح اشارہ فرمایا ہے:
"ومن یشکر فانما یشکر لنفسہ" (7) یعنی اور جو شکر ادا کرتا ہے فقط وہ اپنی ذات کے فائدہ کے لئے شکر کرتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ شکر الہی بجالانے سے انسان کو فائدہ کے طور پر کیا کیا ثمرات و برکات حاصل ہوتے ہیں؟
جواباّ انھیں ہم ذیل میں بیان کر رہے ہیں:
1۔ موجودہ نعمتوں کا تحفظ:
حداوند وہاب و رزاق نے انسان کو بہت سی ان گنت قیمتی نعمتوں سے نوازا ہے جیسے حیات ، انسانیت ، عقل ، شعور ، صحت و سلامتی وغیرہ۔
اگر ہم سب انھیں باقی اور محفوظ رکھناچاہتے ہیں تو ہمیں اپنے پروردگار کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیئے، یہ وہ قیمتی راز ہے جسے مولا امیراالمومنین علیہ السلام نے اپنے اس گرانقدر جملہ میں ظاہر فرمایا ہے:
وَالشُّكْرَ حِرْزَ نِعْمَتِكَ، فَكُلُّ نِعْمَةٍ يُحَاطُ بِهَا الشُّكْرُ لَا تُسْلَبُ(8)
شکر تیری نعمت کا محافظ ہے، ہر وہ نعمت جس پر شکر کا احاطہ ہو چھینی نہیں جاتی۔
2۔نعمتوں میں یقینی اضافہ:
اللہ تعالی کی بخشی ہوئی نعمتوں پر اس کا شکر و سپاس بجا لانا یقینی طور پر نعمتوں کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے اور اس کا وعدہ خود رب کریم نے قرآن حکیم میں بڑے مضبوط انداز میں اس طرح فرمایا ہے:
لئن شکرتم لازیدنکم۔۔۔(9) یعنی اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور بالضرور تمھیں نعمتوں کی زیادتی سے نوازوں گا۔
3۔ شکر کا ثواب روزہ داری کے برابر:
دین اسلام میں روزہ ایک طولانی ترین عبادت ہے جو فجرصادق کی اذان سے شروع ہوکر مغرب کی اذان پر ختم ہوتا ہے ، یہ ایسی عظیم عبادت ہے کہ معبود برحق نے حدیث قدسی میں اس سے متعلق یہ اعلان فرمایا ہے:
الصوم لی و انا اجزی علیہ (10) یعنی روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔
تمام مسلمان جانتے ہیں کہ نماز ، حج ، خمس ، زکات ، جہاد اور صدقہ وغیرہ تمام عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور وہی سب کی جزا دے گا ، لیکن اس کے باوجود اللہ عز و جل کا روزہ کے لئے یہ کہنا کہ یہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، بلاشبہ روزہ سے خصوصی محبت و انسیت کی علامت ہے اور اس کی جزا بھی بہت عظیم ہے۔
اب سوچئے ہمارا شکر کرنا اللہ تعالی کو اتنا عزیز ہے کہ وہ اس پر ہمیں روزہ جیسی عبادت کا ثواب عنایت فرماتا ہے ، جیساکہ سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد مبارک ہے:
مَنْ أَكَلَ طَعَامًا وَشَكَرَ اللَّهَ عَلَيْهِ كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ أَجْرِ الصائم المحتسب(11)
جو شخص کھانا کھائے اور اس پر اللہ کا شکر بجالائے تو اس کے لئے ویسا اجر ہے جیسا ثواب و جزا کے امیدوار روزہ دار کا اجر ہوتا ہے۔
الحمدللہ ولہ الشکر علی ھذاالفضل واللطف والاحسان و الامتنان کما ھو اھلہ۔
4۔ شکر، وسیلہ مدح الہی:
خداوند متعال نے جن باعظمت صفات و کمالات کی وجہ سے اس آنے والی آیت میں حضرت ابراھیم علیہ السلام کو مدح و ستائش کا حقدار سمجھا ہے، ان میں"شکر" بھی داخل ہے، جو شکر کی غیر معمولی عظمت و اہمیت کو محسوس کرنے کے لئے کافی ہے اور وہ آیہ کریمہ یہ ہے:
"ان ابراهیم کان امه قانتا لله حنیفا و لم یک من المشرکین شاکرا لا نعمه اجتباه و هداه الی صراط مستقیم"(12)۔
واضح ہے کہ اس آیہ مبارکہ میں خداوند کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قانت، حنیف، موحد اور شکر گزار ہونے کی وجہ سے اپنی مدح و تعریف کا حقدار قرار دیا ہے۔
5۔ شکر، مایہ ثواب اخروی:
قرآن حکیم کا ارشاد مبارک ہے:
"و من یرد ثواب الاخره نؤته منها و سنجزی الشاکرین"(13)۔
یعنی جو ثواب آخرت چاہتا ہے ہم اسے دیں گے اور عنقریب ہم شکر کرنے والوں کو جزا دیں گے۔
6۔ شکر، باعث امان از عذاب الہی:
یہ بہت بڑی بات ہے کہ اللہ رب العزت کی
طرف سے جنھوں نے شکر کیا اور جو ایمان لائے ، ان پر اپنا عذاب نہ کرنے کا وعدہ اس آیہ کریمہ میں فرمایا گیا ہے:
"ما یفعل الله بعذابکم ان شکرتم و آمنتم و کان الله شاکرا علیما" (14)۔
اللہ تمھیں عذاب نہیں فرمائے گا اگر تم نے شکر کیا اور ایمان لائے اور اللہ تو شکر قبول والا، خوب علم و آگاہی والا ہے۔
7۔شکرِ مسلسل، ذریعہ حصول بہشت:
اللہ تعالی جو نمایاں انعام اپنے بندوں کو آخرت میں عنایت فرمائے گا، اس کا نام مبارک "بہشت و جنت " ہے اور وہ الہی نعمتوں پر مسلسل شکر کرنے والے بندوں کو عطا ہوگی، جیساکہ اس روایت سے استفادہ ہوتا ہے:
"عَنْ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: إِذَا شَرِبَ الرَّجُلُ الْمَاءَ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ شَرِبَ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ شَرِبَ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، حَتَّى يَفْرُغَ، قَالَ: فَيُوجِبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا الْجَنَّةَ"(15)۔
ابو بصیر حضرت امام جعفر صادقؑ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ:
آپؑ نے فرمایا: جب آدمی پانی پئے اور کہے: ’’الحمد للہ‘‘، پھر پئے اور کہے: ’’الحمد للہ‘‘، پھر پئے اور کہے: ’’الحمد للہ‘‘، یہاں تک کہ وہ پانی سے فارغ ہو جائے، تو اللہ عزوجل اس کے لئے اس عمل کے سبب جنت واجب فرما دیتا ہے۔
ان کے علاوہ شکران نعمت کے اور بھی ثمرات و برکات ہیں ، لیکن ان کا بیان خوف طوالت کی وجہ سے یہاں ممکن نہیں ہے
لہذا اس مقالہ کو اس دعا کے ساتھ ختم کیا جاتا ہے کہ:
رب رحیم و کریم ہمیں زیادہ زیادہ اپنی نعمتوں کو محسوس کرنے اور دل ، زبان اور عمل کے ذریعہ مسلسل ان کا شکر و سپاس بجالانے کی توفیق کرامت فرمائے آمین یارب العالمین۔
حوالہ جات:
1۔ قرآن حکیم ، پارہ 14 ، سورہ نحل ، آیہ 18۔
2۔ نہج البلاغہ ، خطبہ 52 ، تحت عنوان" نعم اللہ"۔
3۔ قرآن حکیم، پارہ 3 ، سورہ بقرہ ، آیت 286۔
4۔ابن فہد الحلی، عدّة الداعي ونجاح الساعي، ص 225۔
5۔ قرآن حکیم ، پارہ 10، سورہ توبہ ، آیت72۔
6۔ آمدي، عبد الواحد بن محمد تميمي، غرر الحكم ودرر الكلم، حدیث نمبر 3329۔
7۔قرآن حکیم ، پارہ21 ، سورہ لقمان ، آیت 12۔
8۔غرر الحکم و درر الکلم ، حدیث نمبر 5831۔
9۔ قرآن حکیم ، پارہ 13، سورہ ابراھیم ، آیت 7۔
10۔محمد بن یعقوب کلینی، الکافی، ج 4، ص 63، کتاب الصیام، باب فضل الصوم والصائم، حدیث 6۔
11۔الکافی، ج 2، کتاب الإيمان والكفر، باب الشکر، حدیث 1۔
12۔ قرآن حکیم ، پارہ 14 ، سورہ نحل ، آیت120۔
13۔قرآن حکیم ، پارہ 4 ، سورہ آل عمران ، آیت 145۔
14۔قر آن حکیم ، پارہ 5 ، سورہ نساء ، آیت 147۔
15۔الکافی، ج 2، کتاب الإيمان والكفر، باب الشکر، حدیث 16۔










آپ کا تبصرہ