تحریر: مولانا ظہور مہدی مولائی قمی
حوزہ نیوز ایجنسی| ماہ ذوالقعدۃ الحرام 173 ھجری کی پہلی بابرکت تاریخ تھی کہ جب ایک پاک و پاکیزہ بی بی نے مرکز دین و دیانت، کاشانہ علم و معرفت اور خانہ امامت و ولایت میں آنکھیں کھولیں اور اپنے پدر بزرگوار حضرت امام موسی کاظم علیہ الصلوۃ والسلام اور مادر گرامی نجمہ خاتون علیھا السلام کی آنکھوں کو راحت و مسرت کی ٹھنڈک بخشی۔
اس مبارک بی بی کا اسم گرامی " فاطمہ " رکھا گیا، چونکہ اس نام سے انھیں ان کی ولادت سے بہت پہلے ان کے جد بزرگوار حضرت امام جعفرصادق علیہ الصلوۃ والسلام موسوم فرما چکے تھے۔
جس کا ثبوت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول اس روایت سے بخوبی ملتا ھے:
اِنَّ لِلّهِ حَرَما وَ هُوَ مَكَّةُ، وَ لِرَسُولِهِ حَرَما وَ هُوَ الْمَدينَةُ، وَ لاَِميرِ الْمُؤمِنينَ حَرَما وَ هُوَ الكُوفَةُ، وَ لَنا حَرَما وَ هُوَ قُم، وَ سَتُدْفَنُ فيها امْرَأةٌ مِنْ وُلْدى تُسَّمى فاطِمةُ، مَنْ زارَها وَ جَبَتْ لَهُ الجَنَّةُ (قَالَ عليه السلام ذلِكَ وَ لَمْ تُحْمَلْ بِمُوسى أُمَّهُ)۔(1)
بلاشبہ اللہ کا ایک حرم ھے اور وہ مکہ ھے ، اس کے رسول کا ایک حرم ھے اور وہ مدینہ ھے ، امیر المومنین کا ایک حرم ھے اور وہ کوفہ ھے اور ھم سب کا ایک حرم ھے اور وہ قم ھے ، عنقریب وہاں میری اولاد سے ایک خاتون دفن ھوگی ، جس کا نام فاطمہ ھوگا، جو اس کی زیارت کرے گا ، اس پر جنت واجب ھو جائے گی۔
واضح رھے کہ یہ حدیث مولا نے اس وقت ارشاد فرمائی تھی ، جب بی بی معصومہ قم کے والد مکرم حضرت امام کاظم علیہ السلام بھی پیدا نہیں ھوئے تھے۔
چونکہ اس بی بی کو خداوند متعال نے اپنی مشیت اور لطف و کرم سے نہایت مبارک گھر میں پیدا کیا تھا ، اس لئے انھوں نے اس عظیم نعمت کی قدرانی و شکر گزاری کرتے ھوئے اپنے نفس و قلب کو علم و معرفت ، دین و ایمان اور اعلی اخلاق و کردار سے اس طرح آراستہ کیا کہ آپ کو طاھرہ ، تقیہ ، رضیہ ، مرضیہ ، نقیہ ، حمیدہ ، رشیدہ ، سیدہ ، اخت الرضا اور محدثہ جیسے باعظمت القاب سے یاد کیا جانے لگا۔(2)
بلاشبہ آپ کے اس بلندئ ایمان و کردار پر فائز ھونے کے دو حسب ذیل سبب تھے :
۱۔ براہ راست حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ الصلوۃ والسلام کی اعلی تربیت و نظارت کا آپ کو حاصل ھونا۔
۲۔ آپ کا اپنے امام وقت اور معصوم پدر بزرگوار اور برادر مکرم حضرت امام رضا علیہما الصلوۃ والسلام کے فیوض و برکات سے بھرپور استفادہ کرنا۔
افسوس کہ آپ نے اپنے بابا کے ھدایت و سعادت افروز سائے میں اپنی زندگی کی فقط چھ یا سات بہاریں ھی طے کی تھیں کہ حاکم جور ھارون الرشید ملعون نےانھیں مدینہ سے جلاوطن کر کے آپ کو ان کے مبارک سایہ عاطفت و رحمت سے محروم کردیا۔
البتہ یہ ضرور ھوا کہ اس جانکاہ حادثہ کے بعد آپ کو قدرے سکون اس لئے حاصل رہا کہ سرپرستی کے طور پر آپ کے برادر عالیمقام سرکار امام علی رضا علیہ الصلوۃ والسلام موجود تھے۔
لیکن جب مامون ملعون نے یہ عظیم سہارا بھی آپ اور آپ کے اھل خانہ و اقارب سے چھین لیا تو آپ پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
تاریخی بیان کے مطابق ۲۵ ذواقعدۃ الحرام ۲۰۰ ھجری قمری کو حاکم جائر مامون ملعون نے حضرت امام رضا علیہ الصلوۃ والسلام کو مدینہ چھوڑنے اور " مرو " ایران کی طرف ھجرت کرنے پر مجبور کیا(3) اور اس کے شدید اصرار پر امام علیہ السلام کو اس کی ولی عہدی کا منصب بھی ظاہراً قبول کرنا پڑا(4)۔
آنحضرت کے مدینہ سے ھجرت کرنے کے بعد بنی عباس کے جبر و تشدد کی وجہ سے بنی ہاشم (کہ جن میں زیادہ ترتعداد موسوی سادات کی تھی) پر زندگی بہت سخت ھوگئی تھی۔
بالخصوص بی بی معصومہ علیھا السلام کے لئے اپنے وقت کے امام اور برادر بزرگوار کی یہ ھجرت و فرقت انتہائی دردناک تھی ، جسے آپ ایک سال سے زیادہ برداشت نہ کر سکیں اور ۲۰۱ ھجری قمری کو مدینہ منورہ سے خراسان کے لئے عازم سفر ھوگئیں۔
یہ سفر بظاھر تو آپ نے اپنے برادر بزرگوار حضرت امام رضا علیہ الصلوۃ والسلام کے دیدار مبارک کے لئے فرمایا تھا لیکن حقیقت یہ ھے کہ اپنے عزیز بھائی اور وقت کے امام کی زیارت و قربت کے قالب میں اس سفر کے دوسرے اھداف و مقاصد بھی آپ کے مد نظر تھے۔
شاید اسی لئے جب آپ نے اس سفر کا آغاز کیا تو آپ تنہا مدینہ سے نہیں نکلیں بلکہ موسوی سادات کی اھم اور موثر شخصیات کو اپنے ساتھ لے کر چلیں۔
آپ کا یہ تبلیغی و احتجاجی قافلہ آپ کے بھائیوں فضل، جعفر، ھادی، زید، قاسم، چند بھتیجوں، کچھ غلاموں اور کنیزوں پر مشتمل تھا۔(5)
اور بعض کتابوں میں اس قافلہ میں شامل آپ کی چند بہنوں میمونہ ، فاطمہ صغریٰ اور خدیجہ کا بھی ذکر ملتا ھے اور افراد فاقلہ کی کل تعداد 400 بتائی گئی ھے۔(6)
دوسری اھم بات یہ ھے کہ آپ کا یہ قافلہ اسلام ناب (تشیع) کی تبلیغ و ترویج اور حکومت جائر و ظالم کے ظلم و استبداد پر احتجاج کرنے کے لئے مدینہ منورہ سے چل کر بہت سے ان اھم شہروں اور دیہاتوں سے گزرا جن سے مامونی ظالم حکومت نے سرکار امام رضا علیہ السلام کی سواری کو گزرنے نہیں دیا تھا۔
ظاھر ھے کہ ان اھم شہروں اور دیہاتوں کا انتخاب حضرت معصومہ اور آپ کے بھائیوں اور بھتیجوں نے مذکورہ اھم اھداف ھی کے لئے کیا تھا۔
محققین نے حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کے اس سفر کی متعدد وجوہات بیان کی ہیں ، جو حسب ذیل ہیں:
۱۔ اپنے برادر بزرگوار حضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت کا اشتیاق شدید۔
چونکہ اپنے والد مکرم حضرت امام موسی کاظم علیہ الصلوۃ والسلام کی غریبانہ و مظلومانہ شہادت کے بعد بی بی پورے طور پر اپنے عزیز بھائی اور مفترض الطاعت امام سرکار امام رضا علیہ الصلوۃ والسلام سے وابستہ ھو گئی تھیں اور اس وقت انھیں کی ذات مبارک آپ کی سرپرست اور پناھگاہ تھی اور وھی آپ کی قلبی ، دینی و ایمانی محبت و عقیدت نیز دینی و علمی فیوض و برکات کے حصول کا مرکز تھے ، اس لئے ان کی فرقت آپ کے لئے قابل تحمل نہیں تھی ، بنابراین آپ کو یہ سفر کرنا پڑا۔(7)
۲۔ مامون الرشید کی خلافت و حکومت میں سرکار امام رضا علیہ الصلوۃ والسلام کا اھم اور عظیم مقام و مرتبہ اس بات کی وجہ بنا کہ دین برحق اور تشیع کی ترویج و تبلیغ کے لئے سادات ، اولاد ائمہ اور آگاہ شیعہ ہر طرف سے ایران کی سمت ھجرت کریں اور الحمدللہ انھوں نے بڑے پیمانے پر یہ ھجرت انجام دی ، جس کا زندہ ثبوت تاریخی کتابوں کے علاوہ ایران میں پائے جانے ان کے کثیر و عظیم مزارات کی شکل میں باقاعدہ موجود ھے۔
۳۔ بعض محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ سرکار امام رضا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک خط کے ذریعہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کو ایران آنے کی دعوت دی تھی۔
چنانچہ محقق علی اکبر مہدی پور نے اس خط کی سند کتاب "من لا یحضرہ الفقیہ" کو قرار دیتے ھوئے لکھا ھے کہ :
حضرت امام رضا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے غلام و خادم کو ایک خط دے کر مدینہ بھیجا جس میں جناب معصومہ کو خراسان آنے کا حکم دیا گیا تھا ، پس جناب معصومہ یہ حکم پاتے ھی ایران کی طرف عازم سفر ھوگئیں۔(8)
۴۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا نے یہ سفر ان اھم اور حساس آبادیوں سے طے فرمایا ، جن آبادیوں سے مامونی ظالم حکومت نے سرکار امام رضا علیہ الصلوۃ والسلام کو گزرنے سے منع کیا تھا، چونکہ وہ آبادیاں شیعہ نشین تھیں۔
بی بی نے اپنی دینی و ایمانی بصیرت و فراست سے اس اھم مسافرت میں ان آبادیوں کو شامل فرمایا۔ (9) تاکہ اس عصر و وقت کے امام کی غربت و مظلومیت کو بیان کر کے موجودہ ظالم و جابر اور مکار و عیار حکومت کی نقاب کشائی کرسکیں اور اسلام ناب یعنی تشیع کے قالب میں تازہ روح پھونک سکیں ، اس اعتبار سے یہ باعظمت سفر احتجاجی بھی تھا اور تبلیغی و ترویجی بھی۔
اھم نکتہ :
اس میں کوئی شک نہیں ھے کہ حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیھا کا یہ عظیم سفر بلاشبہ متعدد دینی ، سیاسی ، تبلیغی و احتجاجی اھداف اور علل و وجوہات کا حامل تھا ، اسی لئے مامونی حکومت سے برداشت نہیں ھوسکا اور اس نے بی بی معصومہ قم علیھا السلام کے اس عظیم فاقلہ پر ساوہ میں رات کی گھنی تاریکی میں بہیمانہ و قاتلانہ حملہ کرا دیا ، جس میں آپ کے بہت سے بھائیوں اور بھتیجوں کی شہادت واقع ھوئی اور آپ کو عالم غربت و مسافرت میں اس جانکاہ صدمہ سے دوچار ھونا پڑا اور وہیں آپ کو مسموم بھی کردیا گیا۔(10)
حوالہ جات:
1۔ مجلسی ، بحارالانوار ، ج 60 ، ص 261۔
2۔ لقمانی، یاس یاسین ، ص 35۔
3۔ اربلی ، کشف الغمہ ، ج 2 ص 823۔
4۔ فتال نیشاپوری ، روضۃ الواعظین ، ص 225۔
5۔ ربیعی ، تاریخ زندگانی امام کاظم علیہ السلام، ص۲۴۔
6۔ عاملی مرتضیٰ ، الحیاۃ السیاسی للامام الرضا علیہ السلام ، ص ۴۲۸۔
7۔ میر عظیمی ، بارگاہ فاطمہ معصومہ ، ص ۲۴۔
8۔ مہدی پور ، علی اکبر ، کریمہ اھل بیت ، ص 493۔
9۔پاک، محمدرضا، قم در دو قرن نخست هجری، فصلنامه تخصصی تاریخ اسلام، تابستان، 82، مؤسسه باقرالعلوم، شماره 14، ص 35۔
10. محمدي، اشتهاردي، محمد؛ حضرت معصومه فاطمه دوم، قم، انتشارات علامه، 1375، ص 118









آپ کا تبصرہ