تحریر: سید شجیع مختار
علماء انبیائے کرام علیہم السلام کے وارث، دین کے محافظ، شریعت کے ترجمان اور معاشرے کے اخلاقی و روحانی رہنما ہوتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری صرف قرآن و حدیث کی تعلیم دینا، مسائلِ شرعیہ بیان کرنا اور منبر و محراب سے خطاب کرنا نہیں، بلکہ اپنے کردار، گفتار، اخلاق، اخلاص اور عملی زندگی کے ذریعے دین کی حقیقی تصویر پیش کرنا بھی ہے۔
دورِ حاضر میں، جب معاشرہ مختلف فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجوں سے دوچار ہے، علماء کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ ایسے حالات میں علماء کے درمیان اتحاد، باہمی احترام، اخلاص، سچائی، تواضع اور خیر خواہی کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔
اگر ایک عالم اپنی زبان سے قرآن و اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات بیان کرے، لیکن اس کے دل میں دوسرے عالم کے لیے حسد، کینہ، بغض اور نفرت ہو، تو اس کی علمی حیثیت اپنی جگہ، مگر اس کا اخلاقی کردار ان تعلیمات کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں رہتا۔
علم کا اصل حسن صرف معلومات کی کثرت میں نہیں، بلکہ اس نور میں ہے جو انسان کے کردار کو روشن کرے، اس کے نفس کی اصلاح کرے اور اسے دوسروں کے لیے باعثِ خیر بنائے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم قرآن مجید اور احادیثِ معصومین علیہم السلام کی روشنی میں علماء کی ان بنیادی ذمہ داریوں کا جائزہ لیں جو ایک صالح، مخلص اور باکردار عالمِ دین کی پہچان ہیں:
۱۔ حسد سے پاک ہونا: دوسرے عالم کی کامیابی پر خوش ہونا
حسد ایک ایسی اخلاقی بیماری ہے جو انسان کے دل کو بے سکون، اس کی فکر کو محدود اور اس کے تعلقات کو خراب کر دیتی ہے۔ جب ایک عالم دوسرے عالم کی مقبولیت، علمی ترقی، دینی خدمات یا عوامی پذیرائی کو برداشت نہیں کر پاتا، تو وہ علم کے مقصد سے دور ہونے لگتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ
ترجمہ: اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس کے ذریعے اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے۔(سورۂ نساء، 4:32)
یہ آیت انسان کو دوسروں کی عطا کردہ نعمتوں کے مقابلے میں حسد اور بے جا آرزو سے بچنے کی تعلیم دیتی ہے۔ ایک عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے عالم کی علمی، تبلیغی اور سماجی کامیابی کو دین کی خدمت کے تناظر میں دیکھے۔
اگر کوئی عالم زیادہ لوگوں کی اصلاح کر رہا ہے، اس کے بیانات سے نوجوان دین کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، یا اس کی کوششوں سے کوئی دینی کام آگے بڑھ رہا ہے، تو دوسرے علماء کو اس پر خوش ہونا چاہیے، نہ کہ اس کی مقبولیت سے پریشان ہونا چاہیے۔
یاد رکھیے! دین کی خدمت کوئی ذاتی مقابلہ نہیں کہ ایک کی کامیابی دوسرے کی ناکامی بن جائے۔ اگر ایک عالم کی کوشش سے دین کو فائدہ پہنچتا ہے تو یہ پوری دینی برادری کے لیے باعثِ مسرت ہے۔
علماء کو اپنے دلوں میں یہ وسعت پیدا کرنی چاہیے کہ وہ دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف کریں، ان کی کامیابیوں پر دعا دیں اور اپنے اندر بھی بہتر کام کرنے کا جذبہ پیدا کریں۔
۲ کینہ اور بغض سے اجتناب
حسد کبھی کبھی دل میں کینہ پیدا کرتا ہے، اور کینہ رفتہ رفتہ بغض، بدگمانی، غیبت اور باہمی دوری کا سبب بن جاتا ہے۔ جب علماء ایک دوسرے کے خلاف دل میں پرانی رنجشیں پالنے لگیں، تو ان کے علمی و دینی تعلقات متاثر ہوتے ہیں اور اس کا نقصان عام لوگوں تک پہنچتا ہے۔
قرآن مجید اہلِ ایمان کی ایک اہم دعا ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ایمان میں ہم سے پہلے گزر چکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ۔ اے ہمارے پروردگار! بے شک تو بڑا شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔(سورۂ حشر، 59:10)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اہلِ ایمان کے لیے دل کو کینے سے پاک رکھنا ایک اہم اخلاقی صفت ہے۔
علماء کے درمیان اختلافِ رائے ہونا فطری بات ہے۔ علمی اختلاف، فقہی بحث اور کسی مسئلے میں جداگانہ موقف بذاتِ خود برائی نہیں؛ لیکن اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کر دینا درست نہیں۔
ایک عالم کو چاہیے کہ وہ اختلاف کے باوجود دوسرے عالم کی عزت، اس کے علمی مقام اور اس کی دینی خدمات کا لحاظ رکھے۔ اگر کوئی شکایت ہو تو اسے انصاف، حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ حل کرے، نہ کہ اسے عمر بھر کی دشمنی بنا لے۔
اختلافِ رائے علم کی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن بغض و کینہ علم کی روح کو مجروح کر دیتا ہے۔
۳۔ اخلاص: ہر دینی عمل کا مقصد رضائے الٰہی ہو
علماء کی تمام ذمہ داریوں میں سب سے بنیادی ذمہ داری اخلاص ہے۔ اخلاص یہ ہے کہ انسان کا علم، تبلیغ، تقریر، تحریر، خدمت اور جدوجہد اللہ تعالیٰ کی رضا، دین کی سربلندی اور مخلوقِ خدا کی اصلاح کے لیے ہو، نہ کہ ذاتی شہرت، منصب، اقتدار یا لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے لیے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
ترجمہ: اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔(سورۂ بَیِّنہ، 98:5)
امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام سے منقول ہے:الْإِخْلَاصُ غَايَةُ الدِّينِ
ترجمہ: اخلاص دین کی غایت اور اس کی بلند ترین منزل ہے۔(غرر الحکم، روایت 727؛ منقولہ الفاظ کا ترجمہ)
ایک عالم کو ہر کام سے پہلے اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے:
کیا میں یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں؟
* کیا اس سے دین اور عوام کو حقیقی فائدہ پہنچے گا؟
* اگر اس کام میں میرا نام نہ آئے تو کیا میں پھر بھی اسے انجام دوں گا؟
* اگر اس خدمت کا سہرا کسی دوسرے عالم کے سر بندھ جائے تو کیا مجھے خوشی ہوگی؟
یہ سوالات انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
اگر ایک دینی پروگرام اس لیے منعقد کیا جائے کہ کسی عالم کی شخصیت کو نمایاں کیا جائے، اگر ایک مجلس اس لیے قائم کی جائے کہ کسی دوسرے عالم کی مجلس کی اہمیت کم ہو، یا اگر کسی خدمت کا مقصد صرف اپنا نام مشہور کرنا ہو، تو یہ طرزِ فکر اخلاص کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
مخلص عالم وہ ہے جو دین کو اپنی ذات کے لیے استعمال نہیں کرتا، بلکہ اپنی ذات کو دین کی خدمت کے لیے وقف کرتا ہے۔
۴۔ جھوٹ سے پرہیز اور سچائی کی پابندی
علماء کے لیے سچائی محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک عظیم دینی امانت ہے۔ لوگ عالمِ دین کی بات پر اعتماد کرتے ہیں، اس کی گواہی کو اہمیت دیتے ہیں اور اس کے بیان کردہ واقعات کو دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اس لیے ایک عالم کا جھوٹ بولنا، غلط خبر پھیلانا یا کسی کے بارے میں بے بنیاد بات کہنا زیادہ سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔(سورۂ توبہ، 9:119)
علماء کو بالخصوص ان امور میں سچائی کا خیال رکھنا چاہیے:
* کسی دوسرے عالم کے بارے میں کوئی بات بیان کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کریں۔
* کسی شخص کی طرف ایسا قول منسوب نہ کریں جو اس نے کہا ہی نہ ہو۔
* کسی واقعے کو اپنے مقصد کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش نہ کریں۔
* اپنی خدمات، کامیابیوں اور دینی کارناموں کے بارے میں مبالغہ آرائی سے بچیں۔
* اپنی غلطی واضح ہو جائے تو اسے تسلیم کرنے میں شرم محسوس نہ کریں۔
کسی عالم کی کردار کشی کے لیے جھوٹی خبر پھیلانا، اس کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانا یا لوگوں کے سامنے اس کی غلط تصویر پیش کرنا نہ صرف اس فرد کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ دین کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ایک عالم کی زبان سے لوگوں کو سچائی، عدل اور تقویٰ کی تعلیم ملنی چاہیے۔ اگر اس کی اپنی زبان ہی ان اصولوں کی پابند نہ ہو تو اس کی نصیحت کا اثر کمزور پڑ جاتا ہے۔
علماء کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ ان کی امانت داری کا گواہ ہونا چاہیے۔
۵۔ دوسرے عالم کے مدِمقابل کام کرنے کے بجائے تعاون کا جذبہ
علماء کے درمیان بعض اوقات علمی، تنظیمی، سماجی یا انتظامی اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اختلافات بذاتِ خود کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلاف کا مقصد اصلاح کے بجائے کسی دوسرے عالم کو شکست دینا بن جائے۔
اگر ایک عالم کوئی دینی ادارہ قائم کرتا ہے، تو دوسرا عالم محض اس کی مخالفت کے لیے اسی نوعیت کا ادارہ قائم کرے؛ اگر ایک عالم کسی دینی پروگرام کا اہتمام کرتا ہے، تو دوسرا جان بوجھ کر اسی وقت اپنا پروگرام رکھے تاکہ لوگ پہلے پروگرام میں شریک نہ ہوں؛ یا اگر کوئی عالم عوام میں مقبول ہو رہا ہو، تو دوسرے اس کی مقبولیت کم کرنے کے لیے سرگرم ہو جائیں، تو یہ طرزِ عمل سنجیدہ اخلاقی سوالات پیدا کرتا ہے۔
البتہ ہر مماثل پروگرام، الگ ادارہ یا مختلف تنظیم بنانا لازماً مخالفت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ضرورت، اختلافِ رائے یا خدمت کے مختلف طریقوں کی وجہ سے ایسا کرنا مناسب بھی ہو سکتا ہے۔ اصل معیار نیت، طریقۂ کار اور اس کے نتائج ہیں۔
قرآن مجید فرماتا ہے:وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ
ترجمہ: نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔(سورۂ مائدہ، 5:2)
اس قرآنی اصول کی روشنی میں علماء کو چاہیے کہ وہ مشترکہ دینی مفادات میں ایک دوسرے کا تعاون کریں۔ اگر کسی عالم کا کام درست اور مفید ہے تو اس کی حمایت کریں، چاہے اس کام سے ذاتی طور پر انہیں کوئی فائدہ نہ ہو۔
اگر اختلاف ہو تو باوقار مکالمہ کریں، اصلاح کی کوشش کریں اور جہاں ممکن ہو، مشترکہ مقاصد کے لیے ساتھ چلیں۔
دین کسی ایک عالم، ایک ادارے یا ایک تنظیم کی ذاتی ملکیت نہیں؛ دین کی خدمت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
۶۔ کسی کو نیچا دکھانے اور ذلیل کرنے سے اجتناب
ایک عالم کی عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ دوسروں کو چھوٹا ثابت کرے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ دوسروں کی عزت محفوظ رکھتے ہوئے حق بات بیان کرے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ
ترجمہ: اے ایمان والو! کوئی گروہ دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔(سورۂ حجرات، 49:11)
یہ آیت ہمیں تکبر، تمسخر اور دوسروں کو حقیر سمجھنے سے روکتی ہے۔
علماء کے لیے اس حکم کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ان کا طرزِ عمل ان کے شاگردوں، عقیدت مندوں اور معاشرے کے دیگر افراد پر اثر انداز ہوتا ہے۔
کسی عالم کی تقریر میں دوسرے عالم کا نام لے کر اس کا مذاق اڑانا، اس کے علمی مقام کو کم کرنے کی کوشش کرنا، اس کی ذاتی زندگی کو موضوعِ تضحیک بنانا یا مجمع میں اسے شرمندہ کرنا، اصلاح کا مناسب طریقہ نہیں۔
اگر کسی عالم سے علمی غلطی سرزد ہوئی ہو تو اس کی تصحیح کی جا سکتی ہے، لیکن تصحیح اور تذلیل میں فرق ہے۔
* تصحیح کا مقصد غلطی دور کرنا ہے۔
* تذلیل کا مقصد انسان کو لوگوں کی نگاہوں میں گرانا ہے۔
* نصیحت کا مقصد اصلاح ہے۔
* کردار کشی کا مقصد کسی کی عزت کو نقصان پہنچانا ہے۔
ایک بااخلاق عالم غلطی کی نشان دہی بھی کرے تو دلیل، شائستگی اور انصاف کے ساتھ کرے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت ہمیں عزتِ نفس، حق گوئی اور اخلاقی استقامت کا درس دیتی ہے۔ اسی طرح اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے اخلاق سے حق کی خوب صورتی ظاہر کرے۔
جو عالم اپنی عزت بڑھانے کے لیے دوسرے عالم کی عزت گھٹاتا ہے، اسے اپنے مقصد اور اپنے طریقۂ کار دونوں کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
۷۔ شہرت طلبی اور ریاکاری سے حفاظت
شہرت کا حاصل ہونا بذاتِ خود کوئی عیب نہیں۔ اگر کسی عالم کو اس کی علمی قابلیت، اخلاص، خدمت اور اخلاق کی وجہ سے شہرت ملتی ہے تو یہ ایک فطری نتیجہ ہو سکتا ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب شہرت مقصد بن جائے اور دین کی خدمت اس مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ۔
قرآن مجید میں ریاکاری کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ
ترجمہ: پس ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے جو ریاکاری کرتے ہیں۔(سورۂ ماعون، 107:4-6)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ ظاہری عبادت بھی اس وقت خطرے میں پڑ جاتی ہے جب اس کا مقصد لوگوں کو دکھانا بن جائے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا، تصاویر، ویڈیوز اور تشہیری سرگرمیوں کے ذریعے دینی خدمات کو عوام تک پہنچانا ایک مفید ذریعہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے علم پھیلایا جا سکتا ہے، دینی پروگراموں کی اطلاع دی جا سکتی ہے اور لوگوں کو فلاحی سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔
لیکن اس سہولت کو ذاتی نمائش، دوسروں سے مقابلہ یا اپنی عظمت جتانے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
عالم کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اس کی ہر خدمت کی تصویر ضرور شائع ہو، ہر پروگرام میں اس کا نام سب سے نمایاں ہو، ہر مجلس میں اسی کی تعریف ہو اور ہر دینی کام کا مرکز اسی کی شخصیت ہو۔
بلکہ اسے یہ سوچنا چاہیے کہ اگر اس کا نام نمایاں نہ بھی ہو، تب بھی دین کا کام آگے بڑھ رہا ہے تو یہی کامیابی ہے۔
شہرت مل جائے تو اسے امانت سمجھیں، اور شہرت نہ ملے تو خدمت چھوڑنے کا بہانہ نہ بنائیں۔
۸۔ علم کو ذاتی اقتدار اور برتری کا ذریعہ نہ بنانا
علم انسان کو ذمہ دار بناتا ہے، متکبر نہیں۔ عالم کی علمی حیثیت جتنی بلند ہو، اس کے اندر تواضع، برداشت اور جواب دہی کا احساس اتنا ہی زیادہ ہونا چاہیے۔
اگر کوئی عالم اپنے علم کی بنیاد پر دوسروں کو کمتر سمجھے، ہر اختلاف کو اپنی توہین قرار دے، اپنی رائے کو تنقید سے بالاتر سمجھے یا اپنی حیثیت منوانے کے لیے سخت رویہ اختیار کرے، تو اسے اپنے اخلاق کا جائزہ لینا چاہیے۔
علم کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حق بات کو پہچانے، دلیل قبول کرے اور اپنی غلطی کی اصلاح کے لیے آمادہ رہے۔
کسی عالم کا احترام کرنا ضروری ہے، لیکن احترام کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر بات کو بلا تحقیق درست تسلیم کیا جائے۔ اسی طرح کسی عالم سے علمی اختلاف کا مطلب اس کی توہین یا بے ادبی نہیں۔
دینی قیادت کا حقیقی معیار صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ کسی عالم کی بات سنتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے علم کو کس طرح استعمال کرتا ہے، اپنے مخالفین کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے اور اپنے نفس پر کس قدر قابو رکھتا ہے۔
علم کا کمال صرف دوسروں کو قائل کرنے میں نہیں، بلکہ خود حق کے سامنے جھک جانے میں بھی ہے۔
۹۔ اختلاف کے باوجود اتحاد اور احترام برقرار رکھنا
علماء کا ہر مسئلے میں متفق ہونا ضروری نہیں۔ علمی، فقہی، سماجی اور انتظامی معاملات میں اختلاف پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن اختلاف کے باوجود باہمی احترام اور مشترکہ دینی ذمہ داریوں کا احساس برقرار رہنا چاہیے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
ترجمہ: اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔(سورۂ آلِ عمران، 3:103)
اس آیت کا تقاضا ہے کہ علماء اختلافات کو اس حد تک نہ بڑھنے دیں کہ وہ باہمی دشمنی، گروہ بندی اور دینی نقصان کا سبب بن جائیں۔
اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ تمام علمی اختلافات ختم کر دیے جائیں، یا کسی غلط بات پر خاموشی اختیار کر لی جائے۔ بلکہ اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود انصاف، دلیل، شائستگی اور مشترکہ دینی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔
علماء کو چاہیے کہ وہ ایسے امور میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں جن سے معاشرے کی اصلاح، نوجوانوں کی دینی تربیت، ضرورت مندوں کی مدد اور مذہبی تعلیمات کی ترویج ہوتی ہو۔
اگر کسی مسئلے میں اختلاف ہو تو اسے ذاتی دشمنی بنانے کے بجائے علمی گفتگو اور باہمی مشاورت سے حل کرنے کی کوشش کریں۔
علماء کا اتحاد حق پر قائم ہو، اور ان کا اختلاف بھی اخلاق و انصاف کی حدود میں رہے۔
۱۰۔ اپنی نیت اور کردار کا مسلسل محاسبہ
ایک عالم کی سب سے اہم ذمہ داریوں میں سے ایک اپنے نفس کا محاسبہ ہے۔ دوسروں کی غلطیاں دیکھنا آسان ہے، لیکن اپنی نیت، اپنے رویے اور اپنے پوشیدہ مقاصد کا جائزہ لینا زیادہ مشکل ہے۔
ہر عالم کو وقتاً فوقتاً اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے:
کیا میرے دل میں کسی عالم کے خلاف حسد موجود ہے؟
کیا میں کسی کی کامیابی سے پریشان ہوتا ہوں؟
کیا میں کسی شخص کو نیچا دکھانے کے لیے گفتگو کرتا ہوں؟
کیا میری دینی خدمات میں اخلاص ہے یا میں تعریف کا منتظر رہتا ہوں؟
کیا میں کسی کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف ایسی باتیں کرتا ہوں جو اس کی موجودگی میں نہیں کہہ سکتا؟
کیا میں حق بات کو اس لیے قبول نہیں کرتا کہ وہ میرے مخالف کی زبان سے نکلی ہے؟
کیا میں اپنی ذات اور اپنے ادارے کے مفاد کو دینی مفاد پر ترجیح دیتا ہوں؟
یہ سوالات کسی دوسرے پر حکم لگانے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی اصلاح کے لیے ہیں۔
اگر انسان اپنے اندر حسد، کینہ، تکبر یا شہرت کی خواہش محسوس کرے تو اسے مایوس ہونے کے بجائے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ دعا، عبادت، ذکرِ الٰہی، مطالعۂ سیرتِ اہلِ بیت علیہم السلام اور عملی طور پر دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف، نفس کی تربیت میں مددگار ہو سکتے ہیں اور ایک عالم کی حقیقی کامیابی یہ ہے کہ اس کے علم کے ساتھ اس کا کردار بھی ترقی کرے اور اس کی ظاہری و باطنی زندگی میں ہم آہنگی پیدا ہو۔
اختتامی کلمات: علماء کی اصلاح، معاشرے کی اصلاح ہے
آج امت اور معاشرے کو ایسے علماء کی ضرورت ہے جن کے پاس علم بھی ہو، تقویٰ بھی؛ جن کی زبان پر حق بھی ہو، دل میں اخلاص بھی؛ جن کے پاس دینی غیرت بھی ہو، دوسروں کے لیے وسعتِ قلب بھی؛ اور جن کی شخصیت میں وقار بھی ہو، تواضع بھی اور ہمیں ایسے علماء کی ضرورت ہے جو ایک دوسرے کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھیں، ایک دوسرے کی ناکامی پر خوش ہونے کے بجائے اصلاح کی کوشش کریں، اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھیں اور اپنی تمام تر صلاحیتیں دین اور مخلوقِ خدا کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔
علماء کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے سرگرم رہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ سب مل کر دین کی خدمت میں آگے بڑھیں۔
علماء کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ ایک دوسرے کے عیوب تلاش کریں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے کردار سے اصلاح کا نمونہ عمل پیش کریں۔
علماء کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ اپنی شہرت کے لیے دین کو استعمال کریں، بلکہ یہ ہے کہ وہ دین کی سربلندی کے لیے اپنی شہرت، صلاحیت اور وقت کو استعمال کریں۔
اور علماء کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو نیچا دکھائیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ حق، اخلاق اور اخلاص کے ذریعے اپنے علم کی عظمت ثابت کریں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ منبر کی بلندی انسان کے مرتبے کی ضمانت نہیں، اور عوام کی کثرت کسی کے اخلاص کا قطعی ثبوت نہیں۔ اصل قدر اللہ تعالیٰ کے نزدیک تقویٰ، نیت، کردار اور عمل کی ہے۔
ایک عالم اگر اپنے علم سے ہزاروں لوگوں کی اصلاح کرے، لیکن اپنے دل کو حسد، کینہ، بغض اور تکبر سے پاک کرنے کی کوشش نہ کرے، تو اسے اپنی روحانی تربیت کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اس کے برعکس، جو عالم خاموشی کے ساتھ اخلاص سے خدمت کرتا ہے، دوسروں کی عزت کرتا ہے، حق بات کہتا ہے، جھوٹ سے بچتا ہے اور اپنی ذات کے بجائے دین کو مقدم رکھتا ہے، وہ معاشرے کے لیے ایک حقیقی اسوہ و نمونہ عمل بن سکتا ہے۔
آئیے! ہم عہد کریں کہ ہماری علمی رقابت، ذاتی دشمنی نہیں بنے گی؛ ہمارا اختلاف، بغض کا سبب نہیں بنے گا؛ ہماری تبلیغ، شہرت کا ذریعہ نہیں بنے گی؛ ہماری زبان، کسی کی تذلیل کا وسیلہ نہیں بنے گی؛ اور ہماری دینی خدمات، صرف رضائے الٰہی کے لیے ہوں گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حسد، کینہ، بغض، تکبر، جھوٹ، ریاکاری اور شہرت طلبی سے محفوظ رکھے۔ ہمیں اخلاص، تقویٰ، سچائی، تواضع، اتحاد اور خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں قرآن مجید اور محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے، اور ہمارے علم کو ہمارے لیے، معاشرے کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے باعثِ ہدایت و نجات قرار دے۔










آپ کا تبصرہ