حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمن علوم قرآن و تفسیر جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کراچی کے زیر اہتمام رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے افکار کے موضوع پر ایک علمی نشست کتاب خانہ امام خامنہ ای میں منعقد ہوئی۔
جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کراچی کے مدیر ڈاکٹر عمار ہمدانی نے رہبر انقلاب کے افکار کے حوالے سے منعقدہ علمی نشست کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے طلاب کو تحقیقی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے کی تاکید کی۔
اس موقع پر حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر محمد اعجاز نگری نے ’’رہبر شہید آیت اللہ خامنہ ای کے قرآنی و تمدنی افکار اور اہل قلم کی ذمہ داری‘‘ کے عنوان سے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا: رہبر شہید انقلاب (رہ) کی شخصیت اور افکار کے حوالے سے اس وقت پوری دنیا میں تحقیقی کام جاری ہے جبکہ ان کے قرآنی افکار پر تحقیق کا سلسلہ خود ان کی حیات میں شروع ہوچکا تھا۔ اس حوالے سے ایران اور پاکستان میں مختلف علمی نشستیں بھی منعقد ہوچکی ہیں۔

ڈاکٹر محمد اعجاز نگری نے رہبر انقلاب کی علمی و فقہی شخصیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: ولی فقیہ کے لیے مرجع تقلید ہونا ضروری ہے یا نہیں، یہ ایک اہم علمی بحث رہی ہے، تاہم رہبر انقلاب کی شخصیت کا جائزہ لیا جائے تو وہ سیاست، فقہ، اقتصاد اور عسکری امور سمیت مختلف شعبوں میں صاحب نظر اور جامع فکر کے حامل تھے، جس کی تائید اپنے دور کی متعدد عظیم علمی شخصیات اور فقہا نے بھی کی۔
انہوں نے کہا: رہبر انقلاب قرآن کریم کو محض مطالعے کی کتاب نہیں بلکہ کتاب زندگی اور عمل سمجھتے تھے اور ان کی زندگی و جدوجہد کا محور قرآن کریم تھا۔
المصطفی ورچوئل یونیورسٹی کے مدیر نے رہبر انقلاب کی سیاسی بصیرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: عالمی سطح پر مختلف رہنماؤں، بالخصوص روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، سابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان اور دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی رہبر انقلاب کی سیاسی بصیرت اور کامیابی کا اعتراف کیا ہے۔
ڈاکٹر محمد اعجاز نگری نے رہبر شہید انقلاب کی شخصیت کے معنوی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: توسل، عبادت اور شب زندہ داری ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔ وہ مشکل حالات اور مسائل کے دوران امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر یا مسجد جمکران تشریف لے جاتے، جو ان کے خداوند متعال سے گہرے تعلق اور روحانی وابستگی کی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: رہبر انقلاب کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو سادہ زیستی کے حوالے سے وہ اپنے جد امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد اعجاز نگری نے اپنے خطاب کے اختتام پر طلاب کو رہبر انقلاب کے افکار کے مطالعے، تحقیق اور مقالہ نویسی میں بھرپور حصہ لینے کی تاکید کرتے ہوئے کہا: ہمیں فارسی اور عربی زبان میں موجود رہبر انقلاب کے قرآنی افکار اور علمی آثار سے استفادہ کرنا چاہیے اور ان افکار کو تحقیق و تحریر کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔










آپ کا تبصرہ