پیر 12 اکتوبر 2026 - 20:46
اسلامی جمہوریہ ایران: عزم و استقامت، خودداری اور مزاحمت کی ایک داستان/استعمار و استکبار کے مقابلے میں ثابت قدمی کا پیغام

حوزہ/ دنیا کی تاریخ میں بعض قومیں اپنی عسکری طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی وسائل کی بدولت پہچانی جاتی ہیں، جب کہ بعض قومیں اپنے عزم، حوصلے، نظریاتی وابستگی اور قربانیوں کے باعث تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کرتی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

تحریر: عاشق حسین یتو

حوزہ نیوز ایجنسی | دنیا کی تاریخ میں بعض قومیں اپنی عسکری طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی وسائل کی بدولت پہچانی جاتی ہیں، جب کہ بعض قومیں اپنے عزم، حوصلے، نظریاتی وابستگی اور قربانیوں کے باعث تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کرتی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایران نے سخت اقتصادی پابندیوں، سیاسی دباؤ، سفارتی کشمکش اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنی قومی خودمختاری اور سیاسی آزادی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

ایران کی جدوجہد محض ایک ملک کی سیاسی یا عسکری داستان نہیں، بلکہ اس میں خودمختاری، قومی تشخص، نظریاتی وابستگی اور اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کے حق جیسے اہم موضوعات بھی شامل ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل جیسی عسکری و تکنیکی اعتبار سے طاقتور ریاستوں کے ساتھ ایران کی کشمکش نے عالمی سیاست میں طاقت کے توازن، علاقائی سلامتی، مزاحمت اور خودمختاری کے حوالے سے متعدد سوالات پیدا کیے ہیں۔

تاہم کسی قوم کی کامیابی کا تعین صرف میدانِ جنگ کے نتائج سے نہیں ہوتا۔ اس کی سیاسی بصیرت، عوامی حمایت، معاشی خودکفالت، سائنسی ترقی، سفارتی حکمتِ عملی اور داخلی استحکام بھی قومی قوت کے بنیادی پیمانے ہیں۔ حقیقی کامیابی اسی وقت بامعنی ہوتی ہے جب قومی خودداری کے ساتھ عوامی فلاح، انصاف اور امن کے تقاضے بھی پورے کیے جائیں۔

امام خمینیؒ کا پیغام: تعداد نہیں، عزم اہم ہے!

انقلابِ اسلامی ایران کے بانی، امام آیت اللہ روح اللہ خمینیؒ، کی سیاسی فکر میں خودمختاری، عوامی قوت، استقامت اور بیرونی تسلط سے آزادی کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والے انقلاب نے ایران کے سیاسی نظام کو تبدیل کیا اور ملک کی داخلی و خارجی پالیسیوں کو ایک نئی سمت عطا کی۔

انقلابی جدوجہد کا ایک بنیادی سبق یہ ہے کہ کسی قوم کی قوت کا تعین صرف اس کے مادی وسائل، آبادی یا عسکری سازوسامان سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اجتماعی عزم، مقصد سے وابستگی اور مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت سے بھی ہوتا ہے۔ تاریخ میں ایسی متعدد مثالیں ملتی ہیں جہاں بظاہر کمزور قوموں نے مضبوط تر قوتوں کے مقابلے میں اپنی آزادی اور تشخص کے تحفظ کے لیے طویل جدوجہد کی۔

امام خمینیؒ سے منسوب ایک قول میں اسی جذبے کی ترجمانی ان الفاظ میں کی گئی ہے:

’’نہ تعداد کی کمی سے ڈریے، نہ شکست و ناکامی سے گھبرائیے؛ جب کام خدا کے لیے ہو تو اس میں شکست نہیں ہوتی۔‘‘

وضاحت: اس قول کا لفظ بہ لفظ مستند حوالہ دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اسے امام خمینیؒ کا ثابت شدہ اقتباس قرار دینا مناسب نہیں۔ تاہم اسے ایک عمومی فکری پیغام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو عزم، امید اور مقصد سے وابستگی کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔

آج جب ہم ایران کے سیاسی سفر، اس کی مشکلات اور اس کے تجربات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ قومی خودمختاری کا تحفظ ایک دشوار مرحلہ ہے۔ اس کے لیے صرف بلند حوصلہ کافی نہیں، بلکہ دوراندیش قیادت، دانشمندانہ فیصلوں، مضبوط اداروں اور عوامی اعتماد کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

پابندیاں، دباؤ اور خودمختاری کی جدوجہد

1979ء کے انقلابِ اسلامی کے بعد ایران کو مختلف ادوار میں اقتصادی پابندیوں، سفارتی کشیدگی، سلامتی کے خطرات اور بیرونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حالات نے ملک کی معیشت، بین الاقوامی تجارت، سرمایہ کاری اور عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ اس کے باوجود ایران نے دفاعی پیداوار، سائنسی تحقیق، طب، توانائی اور بعض جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنی صلاحیتیں بڑھانے کی کوشش جاری رکھی۔

یہ تجربہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ مشکلات اور پابندیاں کسی ملک کے لیے سنگین رکاوٹیں ضرور پیدا کرتی ہیں، لیکن ان کے درمیان داخلی صلاحیتوں کو فروغ دینے، انسانی وسائل سے فائدہ اٹھانے اور متبادل راستے تلاش کرنے کی گنجائش بھی موجود رہتی ہے۔ تاہم ان کوششوں کے نتائج کا منصفانہ جائزہ لینے کے لیے ترقی کے ساتھ اس کی حدود، معاشی مشکلات اور عوام پر مرتب ہونے والے اثرات کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کسی قوم کو اپنے مستقبل کے فیصلے دوسروں کی شرائط کے مطابق کرنے چاہییں، یا اسے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے آزادانہ فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے؟

بلاشبہ ہر خودمختار ریاست کو اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا حق حاصل ہے۔ لیکن خودمختاری محض بیرونی دباؤ سے آزادی کا نام نہیں؛ اس کے ساتھ عوامی فلاح، معاشی انصاف، انسانی حقوق، قانون کی بالادستی اور بین الاقوامی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔

ایران کے تجربے سے یہ سبق حاصل کیا جا سکتا ہے کہ حقیقی قومی طاقت صرف جدید ہتھیاروں یا دفاعی صلاحیت میں نہیں، بلکہ جرأت و استقامت، تعلیم و تحقیق، مضبوط معیشت، قومی اتحاد اور دانشمندانہ حکمتِ عملی میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر کوئی ملک اپنی سائنسی، صنعتی اور معاشی صلاحیتوں کو مستحکم کرتا ہے تو اس کی خودمختاری کی بنیاد بھی زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں ایران کا مؤقف

عالمی سیاست میں امریکہ اور اسرائیل کی عسکری و تکنیکی برتری ایک اہم حقیقت ہے، جب کہ ایران نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی، میزائل پروگرام، علاقائی اثرورسوخ اور مزاحمتی پالیسی کے ذریعے اپنے مخالفین کے مقابلے میں ایک الگ طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔ اس کشمکش نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور علاقائی سلامتی کی صورتِ حال کو پیچیدہ بنایا ہے۔

ایران کے حامی اس کی پالیسی کو قومی خودمختاری کے تحفظ اور بیرونی تسلط کے خلاف مزاحمت کے تناظر میں دیکھتے ہیں، جب کہ ناقدین اس کی بعض علاقائی پالیسیوں اور مختلف مسلح گروہوں کی حمایت کے نتائج پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اس لیے ایران کی حکمتِ عملی کا جامع جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے مقاصد، وسائل، کامیابیوں، مشکلات اور علاقائی اثرات سب کو سامنے رکھا جائے۔

اس کشمکش کو محض اس سوال تک محدود نہیں کیا جا سکتا کہ کون سی ریاست زیادہ طاقتور ہے۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ طاقت کا استعمال کس مقصد کے لیے ہوتا ہے، اس کے نتائج عام انسانوں پر کیا مرتب ہوتے ہیں اور آیا اس سے خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوتی ہے یا تنازعات مزید شدت اختیار کرتے ہیں۔

کسی بھی ریاست کو اپنی سرزمین، عوام اور قومی خودمختاری کے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی تنازعات میں تمام فریقوں پر لازم ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون، شہری آبادی کے تحفظ اور انسانی جانوں کے احترام کو ملحوظ رکھیں۔ جب عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات محض فوری جنگی صورتِ حال تک محدود نہیں رہتے، بلکہ نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان کشیدگی کے دوران ہونے والے واقعات کا جائزہ لیتے وقت ہر دعوے کو شواہد کی روشنی میں پرکھنا ضروری ہے۔ کسی فریق کی کامیابی یا دوسرے فریق کی شکست کا فیصلہ محض سیاسی بیانات یا جذباتی نعروں کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے عسکری نتائج، سفارتی تبدیلیوں، معاشی اثرات اور مستقبل کی سلامتی کی صورتِ حال کا جائزہ لینا ہوگا۔

اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ کسی ملک کی خودمختاری کو محض اس کی مادی کمزوری کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بڑی طاقتوں کے مقابلے میں اپنے قومی مفادات کا دفاع کرنے کی کوشش بذاتِ خود ایک اہم سیاسی مسئلہ ہے۔ البتہ اس کوشش کی حقیقی کامیابی کا معیار یہ ہونا چاہیے کہ اس سے ملک کا استحکام بڑھے، عوام کی زندگی بہتر ہو اور علاقائی امن کے امکانات روشن ہوں۔

اصل بہادری صرف طاقتور دشمن کے سامنے کھڑے ہونے میں نہیں، بلکہ مشکل حالات میں درست فیصلے کرنے، غلطیوں سے سبق سیکھنے اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے میں بھی ہے۔ کسی بھی قیادت کی کامیابی کا فیصلہ اس کے دعووں سے زیادہ اس کے عملی نتائج، عوامی فلاح اور مستقبل پر مرتب ہونے والے اثرات کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔

فلسطینی عوام کی حمایت اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری

فلسطین کا مسئلہ عالمِ اسلام کے اہم ترین انسانی، سیاسی اور اخلاقی مسائل میں سے ایک ہے۔ کئی دہائیوں سے فلسطینی عوام آزادی، خودارادیت، تحفظ اور ایک باعزت مستقبل کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کی مشکلات نے عالمی ضمیر کے سامنے انصاف، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون سے متعلق بنیادی سوالات کھڑے کیے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے طویل عرصے سے فلسطینی کاز کی حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ بنایا ہے۔ اس حمایت کی نوعیت، اس کے طریقۂ کار اور علاقائی اثرات کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں، لیکن فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق، شہریوں کے تحفظ اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خاتمے کا سوال اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔

فلسطین کی حمایت محض جذباتی نعروں یا سیاسی بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ مظلوموں کی آواز مؤثر انداز میں بلند کی جائے، انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت پیدا کی جائے، شہری آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کی حمایت کی جائے اور ایک ایسے منصفانہ حل کے لیے کوشش کی جائے جس میں فلسطینی عوام کو آزادی، سلامتی اور خودارادیت حاصل ہو۔

اس مقصد کے لیے سفارتی کوششیں، انسانی امداد، علمی و ابلاغی آگاہی اور بین الاقوامی اداروں کے ذریعے مؤثر کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مظلوموں کی حمایت اسی وقت زیادہ بامعنی ہوتی ہے جب اس کے ساتھ انسانی جانوں کے احترام اور انصاف کے اصولوں کو بھی یکساں طور پر ملحوظ رکھا جائے۔

قرآنِ مجید عدل و انصاف پر ثابت قدم رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو، خواہ وہ گواہی خود تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘(سورۃ النساء، آیت 135 کا مفہوم)

یہ قرآنی تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انصاف کا معیار صرف اپنی قوم، جماعت یا نظریے کی حمایت نہیں، بلکہ حق اور سچائی کے ساتھ کھڑے رہنا ہے۔ اگر ہم مظلوموں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہمیں ہر جگہ، ہر حال میں انسانی جان، عدل اور انصاف کے اصولوں کی پاسداری بھی کرنی چاہیے۔

امتِ مسلمہ کے لیے ایک اہم سبق

آج عالمِ اسلام کو متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے۔ سیاسی تقسیم، معاشی کمزوری، سائنسی تحقیق میں محدود سرمایہ کاری، باہمی اختلافات اور بیرونی طاقتوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار ان میں نمایاں ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے محض جذباتی وابستگی کافی نہیں، بلکہ ٹھوس منصوبہ بندی، علمی ترقی اور عملی تعاون درکار ہے۔

ایران کا تجربہ مسلم ممالک کے سامنے کئی اہم سوالات رکھتا ہے۔

کیا ہم اپنی نئی نسل کو جدید علوم، سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق کے میدانوں میں آگے بڑھنے کے مناسب مواقع فراہم کر رہے ہیں؟

کیا ہم اپنی معیشت کو اس قدر مضبوط بنا رہے ہیں کہ مشکل حالات میں اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کر سکیں؟
کیا ہمارے درمیان اختلافات کے باوجود مشترکہ انسانی، معاشی اور معاشرتی مسائل پر تعاون کی گنجائش موجود ہے؟

اور کیا ہم اپنے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر فلسطین سمیت دنیا کے مظلوم انسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں؟

ان سوالات کے جواب محض تقاریر میں نہیں، بلکہ عملی اقدامات میں پوشیدہ ہیں۔ علمی اداروں کی مضبوطی، تحقیق پر سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، معاشی شفافیت، بہتر طرزِ حکمرانی اور نوجوانوں کو مواقع کی فراہمی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی معاشرے کو حقیقی معنوں میں مضبوط بناتے ہیں۔

مسلم دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اتحاد کا مطلب تمام معاملات میں یکساں رائے رکھنا نہیں، بلکہ اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات، انسانی وقار اور انصاف کے لیے تعاون کرنا ہے۔ مختلف مسلم ممالک کے سیاسی نظام، معاشی حالات اور خارجہ پالیسیاں ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن تعلیم، صحت، سائنسی ترقی، انسانی امداد اور معاشی تعاون جیسے شعبوں میں مشترکہ کوششوں کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

ایران ہو یا کوئی دوسرا مسلم ملک، کسی بھی ریاست کے تجربات اسی وقت پوری امت کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں جب ان سے مثبت سبق حاصل کیا جائے، کامیابیوں کو سمجھا جائے، ناکامیوں کا غیر جانب دارانہ تجزیہ کیا جائے اور ان نتائج کو اپنی قومی ضروریات کے مطابق بروئے کار لایا جائے۔

کامیابی کا راستہ: استقامت کے ساتھ حکمت بھی ضروری ہے

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں صرف نعروں اور جذباتی وابستگی سے ترقی نہیں کرتیں۔ پائیدار ترقی کے لیے مسلسل محنت، مضبوط ادارے، جواب دہ قیادت، تعلیم یافتہ عوام، سائنسی پیش رفت، معاشی منصوبہ بندی اور انصاف پر مبنی نظام ضروری ہوتے ہیں۔

استقامت ایک بڑی قوت ہے، لیکن استقامت کے ساتھ حکمت، تدبر اور حالات کا درست تجزیہ بھی ناگزیر ہے۔ کسی مقصد سے وابستگی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی سے انکار کر دے۔ اس کے برعکس، حقیقی بصیرت یہی ہے کہ اصولوں پر قائم رہتے ہوئے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق مناسب فیصلے کیے جائیں۔

کسی بھی قومی جدوجہد کی کامیابی کا حقیقی معیار یہ ہونا چاہیے کہ اس سے انسانی زندگی بہتر ہو، عوام کو انصاف ملے، معاشی مشکلات کم ہوں، تعلیمی و سائنسی ترقی کے مواقع بڑھیں اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل کی راہیں کھلیں۔

اگر کوئی قوم شدید دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری کے تحفظ کی کوشش کرتی ہے تو اس کے تجربے کا مطالعہ ضرور کیا جانا چاہیے۔ تاہم اس مطالعے میں کامیابیوں کے ساتھ مشکلات، غلطیوں، داخلی مسائل اور اختیار کی گئی پالیسیوں کے نتائج کو بھی دیانت داری سے دیکھنا ضروری ہے۔ تنقیدی جائزہ کسی قوم کی جدوجہد کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اس سے حاصل ہونے والے اسباق کو زیادہ مستند اور قابلِ عمل بناتا ہے۔

اسی طرح عسکری طاقت کا مقصد صرف مخالف کو زیر کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے اس انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے کہ شہریوں کا تحفظ، قومی سلامتی اور پائیدار امن ممکن ہو سکے۔ جنگ کے نقصانات، انسانی المیوں اور معاشی تباہی کو سامنے رکھتے ہوئے سفارت کاری، مکالمے اور تنازعات کے پُرامن حل کی کوششیں ہمیشہ اہم رہتی ہیں۔

طاقت کا بہترین استعمال یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن میں جنگ کی ضرورت کم سے کم ہو اور اختلافات کو انصاف، گفت و شنید اور باہمی احترام کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ یہی سوچ قومی خودداری کو انسانی فلاح اور علاقائی امن کے ساتھ جوڑ سکتی ہے۔

تاریخ کا پیغام اور مستقبل کی امید

اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ، انقلاب، اقتصادی پابندیوں اور علاقائی کشمکش کا مطالعہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ کسی قوم کی شناخت صرف اس کے وسائل سے نہیں بنتی، بلکہ اس کے نظریات، اجتماعی شعور، اداروں اور مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت سے بھی تشکیل پاتی ہے۔

انقلابی جدوجہد سے وابستہ استقامت کا پیغام آج بھی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مشکلات کے سامنے ہمت ہار دینا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ تاہم ثابت قدمی کو حقیقی کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے نیک نیتی کے ساتھ درست حکمتِ عملی، انصاف، عوامی اعتماد اور انسانی جانوں کا احترام بھی ضروری ہے۔

عالمِ اسلام کو چاہیے کہ وہ ایران سمیت تمام مسلم ممالک کے تجربات سے مثبت اسباق حاصل کرے، اپنی علمی و معاشی قوت میں اضافہ کرے، باہمی اختلافات کو کم کرے اور مظلوم فلسطینی عوام سمیت دنیا بھر کے محروم انسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

ہمیں ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کی ضرورت ہے جہاں قومیں اپنی خودمختاری کے ساتھ زندہ رہ سکیں، مظلوموں کو انصاف ملے، طاقتور کمزوروں کے حقوق کا احترام کریں اور عالمی تنازعات کا حل تباہی و بربادی کے بجائے مکالمے، قانون اور انصاف کے ذریعے تلاش کیا جائے۔

کیونکہ تاریخ کا سب سے روشن باب وہ نہیں ہوتا جس میں صرف دشمن کی شکست درج ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جس میں انسانیت کی فتح، انصاف کی سربلندی اور امن کی امید زندہ ہو۔

اسلامی جمہوریہ ایران کا تجربہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ قوموں کی قوت ان کے عزم و استقامت، ان کی خودداری ان کے کردار، اور ان کی پائیدار کامیابی علم، انصاف، عوامی فلاح اور انسانیت کی خدمت سے وابستہ ہوتی ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو کسی قوم کی جدوجہد کو محض سیاسی کشمکش سے بلند کرکے ایک وسیع تر انسانی پیغام میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha