پیر 12 اکتوبر 2026 - 02:08
ایک مثالی گھرانہ!

حوزہ/کسی گھرانے کی عظمت کا اندازہ اس کی دولت، شہرت یا ظاہری آسائشوں سے نہیں ہوتا۔ اصل عظمت وہاں جنم لیتی ہے جہاں علم کی قدر ہو، دین زندگی کا حصہ ہو، اہلِ علم کا احترام کیا جاتا ہو، مہمان کو نعمت سمجھا جاتا ہو اور اولاد کی تربیت اس انداز سے کی جاتی ہو کہ وہ آگے چل کر ایک باکردار، باصلاحیت اور معاشرے کے لیے مفید انسان بنے۔ ایسے گھرانے شور نہیں کرتے، مگر خاموشی سے نسلیں بناتے ہیں۔ ان کے اثرات گھروں کی چار دیواری سے نکل کر معاشرے اور آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔

تحریر: مولانا سیدکرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| کسی گھرانے کی عظمت کا اندازہ اس کی دولت، شہرت یا ظاہری آسائشوں سے نہیں ہوتا۔ اصل عظمت وہاں جنم لیتی ہے جہاں علم کی قدر ہو، دین زندگی کا حصہ ہو، اہلِ علم کا احترام کیا جاتا ہو، مہمان کو نعمت سمجھا جاتا ہو اور اولاد کی تربیت اس انداز سے کی جاتی ہو کہ وہ آگے چل کر ایک باکردار، باصلاحیت اور معاشرے کے لیے مفید انسان بنے۔ ایسے گھرانے شور نہیں کرتے، مگر خاموشی سے نسلیں بناتے ہیں۔ ان کے اثرات گھروں کی چار دیواری سے نکل کر معاشرے اور آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔

مولانا ظفریاب علی رضوی صاحب مرحوم کا گھرانہ بھی اسی نوعیت کا ایک مثالی گھرانہ تھا؛ ایک ایسا گھر جہاں علم صرف کتابوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ زندگی کا حصہ تھا، جہاں علماء کی آمد باعثِ افتخار سمجھی جاتی تھی، جہاں دینی خدمت عبادت کا درجہ رکھتی تھی اور جہاں مہمان نوازی محض سماجی روایت نہیں بلکہ محبت اور عقیدت کا عملی اظہار تھی۔ آج اسی تربیتی ماحول کی روشن جھلک اس خانوادے کی علمی و دینی روایت میں دیکھی جاسکتی ہے۔

مولانا ظفریاب علی رضوی صاحب نے اپنی ابتدائی علمی زندگی کا آغاز جوادیہ، بنارس سے کیا۔ اس کے بعد انجمن اسلام ہائی اسکول، ممبئی سے تعلیم حاصل کی، مگر علم کی پیاس ایسی تھی کہ رسمی تعلیم کی منزلیں بھی اسے سیراب نہ کرسکیں۔ چنانچہ جستجو کا یہ سفر آگے بڑھتا گیا اور انہوں نے ممبئی میں آیت اللہ شیخ محمد حسن نجفی سے استفادہ کیا، آقائے جواد کاشانی اور مولانا سید عاشق عباس صاحب سے مسلسل علمی فیض حاصل کیا۔ اہلِ علم کی صحبت، دینی مجالس اور علمی ماحول نے ان کے فکری ذوق کو وسعت دی اور ان کے اندر علم و دین سے وابستگی کو مزید پختہ اور گہرا کردیا۔

ممبئی میں دینی و علمی سرگرمیوں کے اس دور میں انہیں متعدد ممتاز علماء سے قریب رہنے اور ان کی خدمت و صحبت سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا۔ حجۃ الاسلام والمسلمین آقائے شیخ اسماعیل رجبی سے ان کی قربت رہی، جبکہ خطیبِ اعظم مولانا سید غلام عسکری صاحب، مولانا سید کاظم رضا واعظ، رئیس الواعظین مولانا سید کرار حسین، مولانا مظاہر علی، مولانا مرتضیٰ جعفری، مولانا شوکت عباس، پیام اعظمی، مولانا ظہیر عباس رضوی اور دیگر علماء و خطباء سے بھی ان کے گہرے علمی و دوستانہ تعلقات قائم رہے۔

مولانا ابوالقاسم رضوی صاحب سے رفاقت و محبت کی نسبت سے اس بندۂ حقیر کو بھی ممبئی میں قیام کے دوران اس خانوادے، بالخصوص مرحوم و مغفور مولانا ظفریاب علی رضوی صاحب کی محبت، شفقت اور بے تکلفانہ عنایتیں نصیب ہوئیں؛ یہ وہ محبتیں ہیں جن کی خوشبو وقت گزرنے کے ساتھ مدھم نہیں ہوتی بلکہ یادوں کے دریچوں سے بار بار آتی ہے اور دل کو ایک گزرے ہوئے خوب صورت عہد سے جوڑ دیتی ہے۔

ایک وہ زمانہ بھی تھا جب برصغیر میں دینی سرگرمیوں کے لیے وسائل محدود تھے اور ممبئی میں اہلِ علم کی تعداد بھی آج کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ ایسے ماحول میں جب سید جمال الدین، فرزندِ آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی، ممبئی تشریف لائے اور آیت اللہ گلپائیگانی کا وفد آیا، اسی طرح جب آیت اللہ سید مہدی حکیم پہلی مرتبہ ممبئی تشریف لائے تو مولانا ظفریاب صاحب نے ان مہمان علماء کی تقاریر اورگفتگو کی ترجمانی کے فرائض بھی انجام دیے۔ یہ واقعات ان کے علمی روابط، زبان دانی اور دینی ماحول سے گہری وابستگی کی نشان دہی کرتے ہیں۔

ممبئی میں علمی و دینی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کی عملی زندگی خدمتِ دین سے بھی وابستہ رہی۔ مدرسہ امین و شوستری کی مجالس اور دروس میں خدمات انجام دیں۔ آیت اللہ سید مرتضیٰ لنگرودی اور سید محمد موسوی سے بھی تعلق رہا۔ ممبئی کی خوجہ مسجد کی قرائت کمیٹی سے وابستگی رہی، گلستانِ ہند، جوہو میں مدرسے کی بنیاد رکھی، آشا کالونی، جوہو میں تنظیمی مدرسے کا آغاز کیا اور امامیہ کالونی، ہلاؤ پل، کرلا میں مسجد کی تعمیر کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔

ہلاؤ پل امامیہ کالونی کی مسجد کے لیے زمین کے حصول کا واقعہ بھی ان کے اخلاص اور اجتماعی تعاون کی ایک خوب صورت مثال ہے۔ مولانا ظفریاب صاحب کے دوست شیخ محمد تقی، جو میونسپل کارپوریشن میں ملازم تھے، نے اس سلسلے میں کوشش کی، جبکہ مرحوم نجف علی نے مسجد کے لیے زمین ہدیہ کردی۔ یوں ایک ضرورت مند آبادی کو نہ صرف عبادت گاہ میسر آئی بلکہ ایک ایسا مرکز وجود میں آیا جہاں اہلِ ایمان جمع ہوسکتے تھے اور دینی و اجتماعی زندگی کو آگے بڑھا سکتے تھے۔

لیکن ایک عالم کی زندگی کا ایک حصہ مدرسے، مسجد، مجلس اور منبر پر دکھائی دیتا ہے، جبکہ اس کا دوسرا اور شاید زیادہ خاموش حصہ گھر کی چار دیواری میں تشکیل پاتا ہے۔ مولانا ظفریاب صاحب کی علمی و دینی مصروفیات کے پیچھے ایک ایسی رفیقۂ حیات موجود تھیں جنہوں نے گھر کو سکون، محبت، خدمت اور مہمان نوازی کا مرکز بنائے رکھا۔ یہی وہ خاموش کردار تھا جس نے اس گھر کے علمی و دینی ماحول کو مکمل کیا۔

مرحومہ کی نمایاں خصوصیات میں گھریلو خدمت اور غیر معمولی مہمان نوازی شامل تھیں۔ ان کا گھر علماء، خطباء، طلبہ، زائرین اور اہلِ ایمان کے لیے محبت بھری پناہ گاہ بن گیا تھا۔ خصوصاً خطیبِ اعظم مولانا سید غلام عسکری صاحب طاب ثراہ اور دیگر بزرگ علماء و خطباء جب تشریف لاتے تو وہ عقیدت اور محبت سے ان کی میزبانی کرتیں۔ ضرورت مند طلبہ کے قیام کا انتظام ہو، ایران و عراق کے مقدس مقامات سے آنے والے زائرین ہوں، علاج کے لیے آنے والے عزیز و اقارب ہوں یا ایامِ عزا میں دور دراز سے آنے والے مومنین—گھر ہر ضرورت مند کے لیے کشادہ رہتا تھا۔

نذر و نیاز کا اہتمام، مہمانوں کی خاطر تواضع اور ہر آنے والے کے ساتھ اپنائیت سے پیش آنا اس گھر کے دینی مزاج کا حصہ تھا۔ یہ سب کچھ محض گھریلو مصروفیات نہیں تھیں؛ یہ علم، علماء، اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت اور خدمتِ دین سے وابستگی کا عملی اظہار تھا۔ بہت سی ایسی خدمات ہوتی ہیں جن کا کوئی تحریری ریکارڈ نہیں بنتا، مگر جن لوگوں نے ان کی محبت، خلوص اور خدمت پائی ہو، ان کے دلوں میں وہ ہمیشہ محفوظ رہتی ہیں۔

خطیبِ اعظم مولانا سید غلام عسکری صاحب کی اہلیہ سے بھی مرحومہ کی گہری محبت اور قربت تھی۔ جب بھی وہ ممبئی آتیں تو زیادہ تر وقت مرحومہ کے ساتھ گزارتیں۔ یہ تعلق صرف رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں تھا بلکہ ایک دیرینہ محبت اور باہمی اپنائیت میں ڈھلا ہوا تھا۔

مولانا ظفریاب علی رضوی صاحب کے انتقال کے بعد بھی اس تعلق کی گہرائی ایک دردناک مگر محبت بھری یاد کی صورت میں سامنے آئی۔ خطیبِ اعظم کی اہلیہ نے کرلا کے پیش نماز مولانا غلام عسکری صاحب کی اہلیہ، جو مرحومہ کی بھتیجی ہیں، سے فون نمبر حاصل کیا اور تعزیت کے لیے رابطہ کیا۔ مولانا فرمان صاحب کی اہلیہ، جو مرحومہ کی صاحبزادی ہیں، سے بات کی، تعزیت پیش کی اور پھر خواہش ظاہر کی کہ جب آپ اپنی والدہ کے گھر جائیں تو ان سے بھی بات کرا دیجیے گا۔ یوں فون پر تعزیت کے ساتھ پرانی یادیں بھی تازہ ہوئیں، ماضی کے وہ دن بھی یاد آئے جب گھر میں بزرگ علماء کی آمد رہتی تھی، مجالس سجتی تھیں اور محبت و خدمت کا ایک پورا ماحول آباد تھا۔ پھر ایک دردناک حقیقت سامنے تھی: وہ سب بزرگ رفتہ رفتہ اس دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔

یہی وہ ماحول تھا جس میں اولاد کی تربیت ہوئی۔ اولاد صرف نصیحتوں سے نہیں بنتی؛ بچے اپنے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ جب ایک بچہ اپنے گھر میں یہ دیکھتا ہے کہ والد علم کو اہمیت دیتے ہیں، اہلِ علم سے محبت اور احترام رکھتے ہیں، دینی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں اور والدہ علماء، طلبہ، زائرین اور ضرورت مندوں کی خدمت کو سعادت جانتی ہیں تو یہ مناظر خاموشی سے اس کے مزاج میں اترتے چلے جاتے ہیں۔ گھر کا ماحول اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے اور والدین کا کردار اس کے لیے ایک خاموش نصاب بن جاتا ہے۔

اسی تربیتی آنگن سے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ابوالقاسم رضوی صاحب نے پرورش پائی۔ والد کی علمی نسبت، والدہ کی تربیت و دعائیں، گھر کے دینی ماحول اور اہلِ علم کی صحبت نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں اپنا حصہ ادا کیا۔ انہوں نے علم، خطابت اور تبلیغ کا راستہ اختیار کیا اور مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے فروغ کو اپنی زندگی کی ذمہ داری بنایا۔ تقریباً دو دہائیوں سے آسٹریلیا میں مقیم ہونے کے باوجود ان کی علمی و تبلیغی سرگرمیاں کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہیں۔

یہاں ایک بنیادی تربیتی حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ اولاد اچانک نہیں بنتی۔ ایک باکردار انسان کے پیچھے برسوں کی تربیت، والدین کی دعائیں، گھر کا ماحول، اہلِ علم کی صحبت، قربانیاں اور مسلسل محنت کارفرما ہوتی ہے۔ فرد کی اپنی صلاحیت، محنت اور جدوجہد اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کامیابی کے پس منظر میں وہ گھر بھی موجود ہوتا ہے جہاں علم کو عزت، علماء کو احترام، دینی خدمت کو سعادت اور مہمان نوازی کو عبادت سمجھا جاتا ہے۔

قرآن مجید ماں کی عظمت اور اس کی مشقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ﴾’’اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرکے اسے اٹھائے رکھا۔‘‘(سورۂ لقمان: 14)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حسنِ سلوک کے سب سے زیادہ حق دار کے بارے میں تین مرتبہ فرمایا: ’’تمہاری ماں‘‘، پھر فرمایا: ’’تمہارا باپ۔‘‘

آج جب حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ابوالقاسم رضوی صاحب کی والدۂ محترمہ کو دنیا سے رخصت ہوئے چالیس روز گزر چکے ہیں اور آج ان کا چہلم ہے، تو یہ موقع صرف جدائی کے غم کو تازہ کرنے کا نہیں بلکہ ان کی پوری زندگی کی ان خاموش خدمات کو یاد کرنے کا بھی ہے جو شاید کبھی کسی کتاب میں درج نہ ہوئیں، مگر بہت سے دلوں پر لکھی جاچکی ہیں۔

وہ علماء جن کی خدمت انہوں نے کی، وہ طلبہ جن کے لیے گھر کے دروازے کھلے رہے، وہ زائرین جنہوں نے اس گھر میں اپنائیت پائی، وہ عزیز و اقارب جو علاج یا کسی ضرورت کے موقع پر یہاں ٹھہرے، وہ مومنین جو ایامِ عزا میں اس گھر کو اپنا مسافر خانہ سمجھ کر آئے اور وہ بزرگ علماء جن کی میزبانی کو انہوں نے سعادت سمجھا—یہ سب ان کی زندگی کی انمول یادوں کے امین ہیں۔

ماں رخصت ہوجاتی ہے، مگر ماں کی تربیت رخصت نہیں ہوتی۔ اس کی آواز خاموش ہوجاتی ہے، مگر اس کے الفاظ اولاد کے کردار میں بولتے رہتے ہیں۔ اس کے ہاتھ دنیا سے اٹھ جاتے ہیں، مگر اس کی دعاؤں کا سایہ اولاد کی زندگی پر قائم رہتا ہے۔ اس کا وجود نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے، مگر اس کی محبت، خدمت اور تربیت آنے والی نسلوں میں اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔

شاید یہی اس گھرانے کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ مولانا ظفریاب علی رضوی صاحب نے اپنی زندگی علم اور دین کی خدمت میں گزاری، ان کی رفیقۂ حیات نے اس علمی و دینی زندگی کے لیے گھر کو سکون، محبت اور خدمت کا مرکز بنائے رکھا، اور اسی ماحول سے ایک ایسی نسل پروان چڑھی جو اس علمی و اخلاقی میراث کو آگے لے جانے کا ذریعہ بنی۔ یوں ایک باپ کی علمی میراث، ایک ماں کی تربیت و دعا اور ایک گھر کی دینی فضا مل کر صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بنتی بلکہ پورے گھرانے کے لیے صدقۂ جاریہ بن جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ مولانا ظفریاب علی رضوی صاحب مرحوم کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی علمی میراث کو زندہ و تابندہ رکھے۔ مرحومہ کی علماء، طلبہ، زائرین اور اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کی خدمت، مہمان نوازی، نذر و نیاز اور اپنی اولاد کی بہترین تربیت کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ قرار دے، ان کی قبر کو نور و رحمت سے بھر دے اور محمد و آلِ محمد علیہم السلام کے صدقے ان کے درجات بلند فرمائے۔

اللہ تعالیٰ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ابوالقاسم رضوی صاحب کو اپنے والدین کی علمی، اخلاقی اور روحانی میراث کا بہترین امین بنائے، ان کی علمی، تبلیغی اور دینی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور انہیں اپنے والدین کے لیے صدقۂ جاریہ قرار دے۔ ان کے اہلِ خانہ اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور مرحومہ کو محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی شفاعت نصیب فرمائے۔

وہ ماں آج ہمارے درمیان نہیں، مگر اس کی تربیت موجود ہے؛

اس کی آواز خاموش ہے، مگر اس کی دعائیں باقی ہیں؛

اس کے ہاتھ دنیا سے اٹھ گئے، مگر اس کی خدمت کی خوشبو باقی ہے؛

اور اس کا وجود نظروں سے اوجھل ہوگیا، مگر اس کی محبت اولاد کے کردار میں آج بھی زندہ ہے۔

یہی ایک مثالی گھرانے کی اصل پہچان ہے کہ لوگ چلے جاتے ہیں، مگر ان کی نیکیاں باقی رہتی ہیں؛ نسلیں بدل جاتی ہیں، مگر تربیت کا چراغ بجھتا نہیں؛ اور ایک گھر کی خاموش خدمت کبھی کبھی ایک پوری نسل کے کردار میں روشنی بن کر جاری رہتی ہے۔

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha