تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| ’’رافضی‘‘ نہ تو کوئی قرآنی اصطلاح ہے اور نہ ہی رسول اللہؐ نے کبھی شیعانِ علیؑ کے لیے یہ لقب استعمال کیا ہو۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جسے تاریخ میں شیعوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور انہیں بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
یہ اصطلاح ان ناصبی حرامخور ملاؤں، دین فروشوں اور درباری مفتیوں کے ہتھیار کے طور پر سامنے آئی جن کا دین و ایمان اور جن کے فتوے حکمرانوں کے اشاروں پر چلتے تھے۔ ان کے نزدیک حق وہ تھا جس سے بادشاہ خوش ہو، اور باطل وہ جس سے دربار ناراض ہو۔ یہ وہ شیطان اور خبیث لوگ تھے جو اپنے پیٹ اور درہم و دینار کے لیے دین کا سودا کرتے، حکمرانوں کے ظلم پر خاموش رہتے اور اہلِ بیتؑ سے محبت کرنے والوں کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے۔
جن کی ناپاک نسلیں آج بھی موجود ہیں اور جو امتِ مسلمہ کے لیے ایک ناسور بنی ہوئی ہیں؛ آج بھی جن کے دین و ایمان، ضمیر و غیرت اور فتوے امریکہ و اسرائیل کے مفادات کے تابع ہیں، جن کی وفاداریاں قبلۂ حق کے بجائے سامراجی طاقتوں کے درباروں سے وابستہ ہیں، اور جو اپنے سیاسی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے امت کے اتحاد، خودمختاری اور مظلوموں کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز کو کمزور کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
شجرۂ ملعونہ بنی امیہ کے دور میں اہلِ بیتؑ اور ان کے چاہنے والوں کے خلاف دشمنی اور مخالفت کو اقتدار کے ذریعے ہوا دی گئی۔ حکمرانوں نے اپنے مفادات کے لیے مذہب کو استعمال کیا اور درباری مذہب فروشوں نے ان کے مفادات کو دینی رنگ دینے کی کوشش کی۔ ایسے ماحول میں مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے مختلف القاب استعمال کیے گئے، جن میں ’’رافضی‘‘ بھی شامل ہے۔
لیکن ذرا سوچیے! کیا کسی کو کوئی لقب دے دینے سے اس کا عقیدہ غلط ثابت ہو جاتا ہے؟
کیا کسی کو گالی دینے سے دلیل کا جواب مل جاتا ہے؟
اور کیا اہلِ بیتؑ سے محبت کرنے والوں کو بدنام کرکے ان کی محبت کو دلوں سے نکالا جا سکتا ہے؟
ہرگز نہیں!
شیعانِ علیؑ کی شناخت کسی مخالف کے دیے ہوئے نام سے نہیں، بلکہ ان کے عقیدے، کردار اور رسول اللہؐ کے اہلِ بیتؑ سے محبت سے ہے۔
اختلاف کرنا ہر شخص کا حق ہے، لیکن اختلاف کی آڑ میں کسی پورے مکتبِ فکر کو گالی دینا، اس پر تہمتیں لگانا اور نفرت پھیلانا کسی بھی صورت میں درست نہیں۔
تاریخ کا ایک تلخ سبق یہ بھی ہے کہ جب دین ضمیر فروشوں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے تو وہ حکمرانوں کے مفادات کو مذہب کا نام دینے لگتے ہیں۔ ایسے لوگ حق کی خدمت نہیں کرتے، بلکہ اقتدار کی خدمت کرتے ہیں۔
یاد رکھیے! کسی اصطلاح کا بار بار استعمال اسے قرآنی اصطلاح نہیں بنا دیتا، اور کسی پر تہمت لگانے سے حقیقت نہیں بدل جاتی۔ حق کو سمجھنے کے لیے گالی نہیں، دلیل؛ نفرت نہیں، انصاف؛ اور تعصب نہیں، تحقیق ضروری ہے۔










آپ کا تبصرہ