بدھ 28 اکتوبر 2026 - 19:28
امریکہ ایران سے کیا چاہتا ہے؟ صلح کا مشورہ یا دفاعی طاقت ختم کرنے کی کوشش؟

حوزہ/امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشمکش کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم صرف موجودہ حالات پر نظر نہ رکھیں، بلکہ ماضی کے ان واقعات کو بھی یاد کریں جن سے عالمی سیاست کے کئی تلخ حقائق سامنے آتے ہیں۔ آج بعض لوگ ایران کو بار بار صلح، تحمل اور عقل مندی کا مشورہ دے رہے ہیں۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشمکش کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم صرف موجودہ حالات پر نظر نہ رکھیں، بلکہ ماضی کے ان واقعات کو بھی یاد کریں جن سے عالمی سیاست کے کئی تلخ حقائق سامنے آتے ہیں۔ آج بعض لوگ ایران کو بار بار صلح، تحمل اور عقل مندی کا مشورہ دے رہے ہیں۔ یقیناً جنگ کسی مسئلے کا اچھا حل نہیں اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات ختم کرنا ہمیشہ بہتر راستہ ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ صلح کی شرائط کیا ہیں؟

کیا امریکہ واقعی ایران کے ساتھ پُرامن تعلقات چاہتا ہے، یا وہ ایران کی دفاعی طاقت محدود کرکے اسے اپنی مرضی کے مطابق چلنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں عراق اور لیبیا کی تاریخ سے سبق لینا ہوگا۔

مجھے آج بھی عراق کا واقعہ یاد آتا ہے۔ صدام حسین کی حکومت نے اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے معائنے اور تخفیفِ اسلحہ کے مطالبات کا سامنا کیا،

اور جیسے یہ بات واضح ہوگئی کہ ایران کے پاس کچھ بھی نہیں تو 2003ء میں امریکہ نے عراق پر حملہ کر دیا۔ اس جنگ کا ایک بڑا جواز یہ بتایا گیا تھا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں، مگر بعد میں ان دعووں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ عراق تباہ ہو گیا، اس کا نظام بدل گیا، لاکھوں انسان جنگ اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے متاثر ہوئے، لیکن وہ ہتھیار برآمد نہ ہو سکے جن کے نام پر جنگ کا جواز پیش کیا گیا تھا۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی ملک اپنے دفاعی پروگراموں کے بارے میں رعایتیں دیتا رہے، معائنوں کا سامنا کرے اور اپنی پوزیشن کمزور کرتا جائے، لیکن اس کے باوجود اس کی سلامتی کی ضمانت نہ ہو، تو وہ آخر کس بنیاد پر مطمئن ہو سکتا ہے؟

عراق کی تاریخ ہمیں کم از کم یہ ضرور سکھاتی ہے کہ امریکہ کے وعدوں پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرنا خطرے سے خالی نہیں۔

لیبیا کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ معمر قذافی نے 2003ء میں اپنے جوہری اور بعض دوسرے حساس ہتھیاروں کے پروگرام ختم کرنے کا اعلان کیا اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد مغرب کے ساتھ اس کے تعلقات میں بہتری بھی آئی، لیکن 2011ء میں لیبیا میں داخلی بغاوت اور خانہ جنگی کروا کر نیٹو نے فوجی مداخلت کی، جس کے نتیجے میں قذافی کی حکومت ختم ہو گئی اور ملک طویل بدامنی کا شکار ہو گیا۔

حقیقت یہی ہے کہ لیبیا پر حملہ صرف اس لیے ہوا کہ اس نے اپنا جوہری پروگرام ختم کر دیا تھا، اگر وہ جوہری پروگرام ختم نہ کرتا تو اِ بھیڑیوں کو ہمت نہ ہوتی،

اس واقعے نے ایک اہم سبق ضرور دیا کہ اپنے ہتھیار ختم کر دینے اور مغرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے سے کسی ملک کو امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک سے تحفظ نہیں بلکہ اس پر حملہ آور ہو کر بربادی کا تحفہ ضرور ملتا ہے۔

لیبیا کے تجربے نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا۔

اب اسی پس منظر میں ایران کے معاملے کو دیکھیے۔ امریکہ مسلسل ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں اور سخت نگرانی چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ پر بھی پابندی لگا کر اسے محدود کرنا چاہتا ہے۔ گویا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنائے گا یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایران کے پاس اپنے دفاع کے لیے کتنی طاقت باقی رہے گی اور وہ خطے میں کس حد تک آزادانہ کردار ادا کر سکے گا۔

ایران کے لیے میزائل اور ڈرون محض جنگی ہتھیار نہیں، بلکہ اس کی دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہیں۔ ایران جانتا ہے کہ اس کے مقابلے میں امریکہ ایک بڑی فوجی طاقت ہے اور اسرائیل کے پاس بھی جدید اسلحہ اور ایٹم بم موجود ہے۔ ایسے حالات میں ایران اپنی دفاعی صلاحیت کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل ان صلاحیتوں کو اپنے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں اور انہیں محدود کرنا چاہتے ہیں۔

یہیں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں قبول کر لے، اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کو محدود کر دے اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ بھی کم کر لے، تو کیا امریکہ اسے مستقبل میں حملے سے محفوظ رہنے کی ضمانت دے گا؟

اگر ایسی ضمانت دی جائے تو اس کی حیثیت کیا ہوگی؟

اور اگر کل امریکی حکومت بدل جائے یا واشنگٹن اپنی پالیسی تبدیل کر لے تو ایران کی حفاظت کون کرے گا؟

یہ سوالات محض ایران کے حامیوں کے نہیں، بلکہ ہر اس شخص کے لیے اہم ہیں جو بین الاقوامی سیاست کو جذبات کے بجائے عقل اور تجربے کی روشنی میں سمجھنا چاہتا ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایران کو ہر قیمت پر امریکہ سے صلح کر لینی چاہیے۔ ان سے عرض ہے کہ صلح یقیناً ہونی چاہیے، لیکن ایسی صلح جس میں دونوں فریقوں کے حقوق اور مفادات کا احترام ہو۔ اگر ایک فریق سے مسلسل مطالبات کیے جائیں، اس کی دفاعی طاقت محدود کر دی جائے اور بدلے میں اسے کوئی قابلِ اعتماد ضمانت نہ ملے تو اسے پائیدار امن کیسے کہا جا سکتا ہے؟

امن کا مطلب یہ نہیں کہ ایک ملک تمام شرائط مان لے اور دوسرا اپنی مرضی کے مطابق جب چاہے معاہدے کی روح بدل دے۔

اس بحث کا ایک اور اہم پہلو ایران کے جوہری معائنے ہیں۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنے جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ جوہری مواد اور تنصیبات کا استعمال کس نوعیت کا ہے۔ اس لیے صرف معائنوں کا مطالبہ کرنے سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ امریکہ کسی نئے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ لیکن جب یہی مطالبات سخت پابندیوں اور فوجی دباؤ کے ماحول میں سامنے آتے ہیں تو ایران کے لیے یہ سوال اٹھانا فطری ہے کہ معائنوں کے بعد اسے کیا حاصل ہوگا؟

کیا اس کے بدلے پابندیاں ختم ہوں گی؟

کیا اس کی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا؟

اور کیا مستقبل میں اس پر حملہ نہ کرنے کی کوئی قابلِ اعتماد ضمانت دی جائے گی؟

یہی وہ مقام ہے جہاں ایران کو بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ اسے نہ تو ہر معائنے کو دشمنی سمجھنا چاہیے اور نہ ہی اپنی سلامتی سے متعلق خدشات کو نظرانداز کرنا چاہیے۔ اصل ضرورت ایسے معاہدے کی ہے جس میں نگرانی اور شفافیت کے ساتھ ایران کے جائز حقوق اور سلامتی کا بھی تحفظ ہو۔

اب ایک اور تشویش ناک سوال سامنے آتا ہے: کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

اس بارے میں احتیاط سے بات کرنا ضروری ہے۔ اس وقت دستیاب معتبر عوامی شواہد کی بنیاد پر یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا کہ امریکہ یا اسرائیل نے ایران کے خلاف ایسے ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کسی زیرِ زمین تنصیب کو تباہ کرنے کے لیے بھی لازماً جوہری ہتھیار استعمال کرنا ضروری نہیں، کیونکہ امریکہ کے پاس مضبوط اور زیرِ زمین اہداف کو نشانہ بنانے والے روایتی ہتھیار موجود ہیں۔

البتہ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر کسی جنگ میں روایتی ہتھیار مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکیں تو کیا کشیدگی مزید خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے؟

اس امکان پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی مصدقہ ثبوت کے بغیر اسے امریکہ یا اسرائیل کا طے شدہ منصوبہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ حالت کے بارے میں بھی مکمل اور آزادانہ تصدیق نہ ہونے کے باعث کئی سوالات ابھی باقی ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ امریکہ ایران سے صرف ایک مسئلے پر اختلاف نہیں رکھتا۔ جوہری پروگرام، میزائل اور ڈرون، علاقائی اثر و رسوخ، اسرائیل کی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن، یہ سب اس تنازعے کے اہم پہلو ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ صرف جوہری معائنے قبول کر لینے سے ایران اور امریکہ کے تمام اختلافات ختم ہو جائیں گے، حقیقت پسندانہ سوچ نہیں۔

عراق اور لیبیا کے واقعات سے سب سے اہم سبق یہی ملتا ہے کہ کسی ملک کو اپنی سلامتی کے معاملے میں صرف دوسروں کے وعدوں پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔ اسے امن کے لیے مذاکرات بھی کرنے چاہییں، لیکن اپنی دفاعی صلاحیت، خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔

جو لوگ ایران کو صلح اور عقل مندی کا مشورہ دیتے ہیں، ان سے اختلاف نہیں؛ لیکن ان سے اتنی گزارش ضرور ہے کہ صلح کا مشورہ دیتے وقت عراق اور لیبیا کی تاریخ کو بھی یاد رکھیں۔ یہ بھی دیکھیں کہ طاقتور ممالک اپنے مفادات کے لیے کس طرح اپنی پالیسیاں تبدیل کرتے ہیں اور کمزور ریاستوں کو کس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آخر میں سوال پھر وہی ہے: امریکہ ایران سے کیا چاہتا ہے؟

اگر اس کا مقصد واقعی جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا اور خطے میں امن قائم کرنا ہے تو اسے ایسے معاہدے کی حمایت کرنی چاہیے جس میں ایران کے جائز حقوق، پابندیوں کے خاتمے اور مستقبل میں فوجی حملے سے تحفظ کے سوالات بھی حل ہوں۔ لیکن اگر مطالبات کا دائرہ بڑھتا جائے اور ایران سے اس کی دفاعی طاقت محدود کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی کردار بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا جائے تو پھر یہ محض جوہری مسئلہ نہیں رہے گا، بلکہ ایران کی مجموعی طاقت اور خودمختاری کا معاملہ بن جائے گا۔

امن کی خواہش کمزوری نہیں، لیکن امن کے نام پر اپنی سلامتی کو دوسروں کی مرضی کے حوالے کر دینا بھی دانش مندی نہیں۔ حقیقی صلح وہی ہے جس میں جنگ کا خطرہ کم ہو، فریقین کے حقوق محفوظ ہوں اور کسی ملک کو یہ خوف نہ رہے کہ آج کی رعایت کل اس کے خلاف استعمال کی جائے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha