تحریر:سیدہ فاطمہ شیرازی
جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا، ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اکلوتی اولاد ہونے کے ساتھ ساتھ، خدا کے نزدیک عالی ترین مقامات کی حامل تھیں۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارہا مختلف مواقع پر اپنے اصحاب اور ازواج کے سامنے جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی منزلت بیان فرمائی۔ کبھی آپ کو اپنے وجود کا حصہ قرار دیا تو کبھی سیدۃ النساء العالمین کہہ کر مخاطب فرمایا۔ آپ نے جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی رضا کو خدا کی رضا اور آپ کی ناراضگی کو خدا کی ناراضگی قرار دیا۔
پیامبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدا کے حکم سے جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا عقد امیرالمومنین علیہ السلام سے فرمایا۔ شعبِ ابی طالب کی سختیوں اور دینِ اسلام کی دعوت کے دوران آپ کے دو مضبوط حامیوں، حضرت خدیجہ اور حضرت ابو طالب، کی وفات کے بعد جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا اور امیرالمومنین علیہ السلام نے ہر موقع پر پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھرپور ساتھ دیا۔
آیتِ مبارکہ «بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ» (سورۂ مائدہ، آیت 67) کے نزول کے بعد، خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، آپ نے مقامِ غدیر پر امیرالمومنین علیہ السلام کی ولایت و خلافت کا اعلان فرمایا۔ اسی طرح آیتِ مبارکہ «وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ» (سورۂ اسراء، آیت 26) کے نزول پر باغِ فدک جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کو ہدیہ فرمایا۔
مگر آپ کی رحلت کے بعد، مقامِ غدیر پر خدا کے حکم سے منصبِ جانشینی پر فائز ہونے والے امام کو گوشہ نشینی پر مجبور کر دیا گیا۔ امیرالمومنین علیہ السلام کا حقِ خلافت غصب کر لیا گیا اور جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا سے وہ متبرک ہدیہ، یعنی باغِ فدک، چھین لیا گیا جو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو عطا فرمایا تھا۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فتحِ خیبر کے بعد مدینہ واپس تشریف لائے تو شکست خوردہ یہودیوں نے آپ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ وہ آپ سے صلح کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے فدک کا نصف حصہ آپ کو ہدیہ کیا۔ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی صلح نامے پر دستخط فرمائے۔ یوں فدک خالصتاً رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملکیت قرار پایا، کیونکہ قرآنِ کریم میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ جو مال جنگ کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ آئے، اسے غنیمت کی صورت میں تقسیم نہیں کیا جائے گا، بلکہ وہ خالصتاً پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملکیت ہوگا۔ (سورۂ حشر، آیات 6 و 7)
یاد رکھیے کہ باغِ فدک محض ایک مادی ہدیہ نہیں تھا، بلکہ تسبیحِ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی طرح ایک معنوی ہدیے کی حیثیت بھی رکھتا تھا؛ کیونکہ یہ صرف ایک باغ نہیں، بلکہ ولایتِ امیرالمومنین علیہ السلام اور اہلِ بیت علیہم السلام کے بلند مقام و مرتبے کی ایک سند تھا۔
غاصبانِ کرسیِ ولایت بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے فوراً بعد ایک من گھڑت حدیث کی بنیاد پر فدک پر قبضہ کر لیا اور اسے بیت المال کا حصہ قرار دے دیا۔
اگر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں باغِ فدک امیرالمومنین علیہ السلام اور جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کے اختیار میں تھا۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں غصبِ فدک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اور بہترین حاکم اور فیصلہ کرنے والا خدا ہے۔‘‘ (نہج البلاغہ، نامہ 45)
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے فوراً بعد، واقعۂ سقیفہ میں غصبِ خلافت کے ساتھ ہی باغِ فدک کو اہلِ بیت علیہم السلام سے کیوں چھین لیا گیا؟
روایات اور تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفۂ اول جس حدیث کی بنیاد پر پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت کی نفی کر رہے تھے، خود بھی اس حدیث کی صحت کے معاملے میں مطمئن نہیں تھے۔ جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کے دلوں کو بیدار کر دینے والے خطبے کے بعد حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا: ’’میں نے ایک دستاویز لکھی ہے تاکہ فاطمہ الزہرا کو ان کی میراث واپس کر دوں۔‘‘ حضرت عمر نے وہ دستاویز لے کر پھاڑ دی۔ (السیرۃ الحلبیہ، جلد 3، صفحہ 512)
اسی طرح بسترِ مرگ پر بھی خلیفۂ اول جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کو فدک واپس نہ کرنے پر پشیمانی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ پھر روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ ابوبکر نے وصیت کی کہ انہیں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب دفن کیا جائے اور اس کے لیے اپنی بیٹی عائشہ سے اجازت لی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفۂ اول، پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے لیے ان کے گھروں کی ملکیت کے قائل تھے، گویا وہ میراثِ پیغمبر کے قائل تھے۔
یہ ایک ایسا معمہ ہے جسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ دراصل، باغِ فدک کا اہلِ بیتِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اختیار میں ہونا بذاتِ خود اہلِ بیت علیہم السلام کے مقام و منزلت کی دلیل اور ان کے اہلِ قربیٰ ہونے کی واضح سند تھا۔ شیعہ اور سنی روایات میں موجود ہے کہ آیتِ مبارکہ «وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ» کے نزول کے بعد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فدک جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کو ہدیہ فرمایا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل تھا کہ اہلِ بیت علیہم السلام ہی دراصل پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین ہیں۔ گویا باغِ فدک کا منصبِ خلافت سے گہرا تعلق تھا۔ یہی وجہ تھی کہ خلافت غصب کرنے کے ساتھ ساتھ فدک بھی چھین لیا گیا۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ اہلِ بیت علیہم السلام کو اقتصادی طور پر کمزور کرنا چاہتے تھے۔ تاریخ میں ہمیشہ یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب کسی بڑی شخصیت یا ملت کو تنہا کرنا مقصود ہو تو اس کا اقتصادی محاصرہ کیا جاتا ہے۔ جس طرح قریش نے شعبِ ابی طالب میں مسلمانوں کا اقتصادی محاصرہ کیا تھا، اسی طرح اہلِ بیت علیہم السلام کا اقتصادی محاصرہ کرنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اہلِ بیت علیہم السلام کو تنہا کر دیا جائے، مگر نہ مشرکین کی یہ سازش کامیاب ہوئی اور نہ ہی منافقین اپنی اس گھناؤنی سازش میں کامیاب ہو سکے۔ آج بھی پوری دنیا میں اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والے موجود ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، اگر وہ جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کے فدک کو میراث کے طور پر واپس کرنے کا مطالبہ قبول کر لیتے تو کل امیرالمومنین علیہ السلام کے لیے ان کی خلافت کا مطالبہ بھی قبول کرنا پڑتا۔
اہلِ سنت کے مشہور عالم ابن ابی الحدید معتزلی لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد سے پوچھا: ’’کیا جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے دعوائے ملکیت میں سچی تھیں؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’ہاں!‘‘ میں نے پوچھا: ’’تو پھر خلیفۂ اول نے فدک واپس کیوں نہیں کیا؟‘‘ استاد مسکرائے اور طنزیہ انداز میں جواب دیا: ’’اگر ابوبکر اس دن فدک کو جناب زہرا کے دعوے پر واپس کر دیتے تو کل آپ اپنے شوہر کے لیے خلافت کا دعویٰ کرتیں، اور تب ابوبکر کے پاس کوئی جواب یا دفاع باقی نہ رہتا۔‘‘ (ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 4، صفحہ 78)
اہلِ سنت کے ان دو عالمان کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ باغِ فدک محض ایک باغ نہیں، بلکہ ولایت و خلافتِ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ایک واضح دلیل تھا۔
فدک کی داستان بھی عجب غم انگیز ہے۔ یہ سرسبز اور حاصل خیز باغ مختلف خلفاء کے ادوار میں مختلف مشکلات کا شکار رہا۔ کوئی اسے واپس اولادِ علی علیہ السلام کے حوالے کر دیتا تو کوئی دوبارہ چھین لیتا۔ یہ سلسلہ اس قدر جاری رہا کہ آخرکار یہ سرسبز و شاداب باغ بالکل ویران ہو گیا۔ کبھی اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے اسے فرزندانِ جناب زہرا سلام اللہ علیہا کو واپس کر دیا تو کبھی یزید بن عبدالملک نے دوبارہ غصب کر لیا۔ کبھی ایک عباسی خلیفہ نے اسے بنی فاطمہ کے حوالے کیا تو دوسرے نے دوبارہ چھین لیا۔
یاد رہے کہ لوگ بھی اس باغ کو اہلِ بیت علیہم السلام کی ملکیت سمجھتے اور اسے بابرکت مانتے تھے۔ متوکل عباسی کے دور میں، حج کے موسم میں، جب باغِ فدک بنی فاطمہ کے اختیار میں تھا تو لوگ اس کی کھجوریں تبرک کے طور پر دگنی قیمت پر خریدا کرتے تھے۔ (ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 16، صفحہ 217)
لوگ اس غصب کے معاملے کی اہمیت سے بھی واقف تھے۔ روایات میں ہے کہ جب مامون لوگوں کی شکایات سننے کے لیے آیا تو سب سے پہلی شکایت فدک کے معاملے میں کی گئی۔ اس نے گریہ کیا اور پھر صدا دی: ’’فاطمہ کا وکیل کون ہے؟‘‘ ایک بوڑھا شخص آگے بڑھا۔ مامون نے اسے اہلِ بیت علیہم السلام کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے فدک اس کے حوالے کر دیا۔
یہاں دعبل خزائی کا وہ مشہور شعر بھی قابلِ ذکر ہے:
أَصْبَحَ وَجْهُ الزَّمَانِ قَدْ ضَحِكَ
بِرَدِّ مَأْمُونٍ هَاشِمٍ فَدَكَا
یعنی زمانے کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا، کیونکہ مامون نے فدک بنی ہاشم کو واپس کر دیا۔ (شرح نہج البلاغہ، جلد 16، صفحہ 217)
مگر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد متوکل عباسی نے، جو اہلِ بیت علیہم السلام سے شدید کینہ اور بغض رکھتا تھا، دوبارہ فدک غصب کر لیا اور یہ سلسلہ جاری رہا۔
واضح سی بات ہے کہ ایسا باغ جو ایک دن کسی کے ہاتھ میں ہو اور دوسرے دن کسی دوسرے کے ہاتھ میں، اور جو حکمرانوں کے لیے ایک بازیچہ بن کر رہ جائے، اس کا ویران ہونا ہی مقدر ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح حقِ ولایتِ امیرالمومنین علیہ السلام چھین کر ایک دوسرے میں بانٹ لیا گیا اور مسلمانوں کی تیرہ بختی کا آغاز ہوا۔
بہرحال، فدک کی ملکیت کی اس مسلسل تبدیلی سے معلوم ہوتا ہے کہ خلفاء فدک کے معاملے میں کس قدر حساس تھے۔ ہر کوئی اسے اپنے سیاسی نظریے کے مطابق دیکھتا تھا۔ گویا فدک کا معاملہ اقتصادی پہلو سے کہیں بڑھ کر سیاسی اہمیت رکھتا تھا۔ اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت رکھنے والے اسے واپس کر دیتے، جبکہ ان سے بغض رکھنے والے اسے ایک سیاسی حربے کے طور پر دوبارہ چھین لیتے تھے۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کے بعد ائمہ علیہم السلام نے فدک کے معاملے میں کبھی مداخلت نہیں کی۔ نہ مولا علی علیہ السلام نے اور نہ ہی دوسرے ائمہ کرام نے اسے قبول کیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ مولا علی علیہ السلام نے اپنے دورِ حکومت میں بھی فدک کے معاملے میں مداخلت نہیں کی۔ یہاں تک کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے ایک خط میں غصبِ فدک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے فدک اور غیر فدک سے کیا سروکار، جب کہ کل مجھے سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔ (نہج البلاغہ، نامہ 45)
گویا آپ نے واضح کر دیا کہ ہم فدک کو محض ایک اقتصادی ذریعے کے طور پر نہیں چاہتے تھے، بلکہ فدک مسئلۂ ولایت اور جانشینیِ پیغمبر کے لیے ایک سند تھا۔ اب جب کہ وہ وقت گزر چکا تھا تو اسے واپس لینے کا کیا فائدہ؟
یہی وجہ ہے کہ جب ہارون رشید نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے کہا: «حَدِّدْ فَدَكاً حَتَّى أَرُدَّهَا إِلَيْكَ» یعنی ’’فدک کی حدود متعین کر دیجیے تاکہ میں اسے آپ کو واپس کر دوں‘‘، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ’’میں فدک کو اس کی حقیقی حدود کے مطابق واپس لیے بغیر قبول نہیں کروں گا۔‘‘ ہارون نے پوچھا: ’’اس کی حقیقی حدود کیا ہیں؟‘‘ امام علیہ السلام نے فرمایا: ’’اگر میں اس کی حقیقی حدود بتا دوں تو تم اسے قبول نہیں کرو گے۔‘‘ ہارون نے کہا: ’’آپ کو پیغمبر کی قسم، اس کی حدود بیان فرمائیے۔‘‘ امام علیہ السلام نے فرمایا: ’’اس کی پہلی حد سرزمینِ عدن ہے۔‘‘ یہ سن کر ہارون حیران رہ گیا اور کہنے لگا: ’’عجب، عجب!‘‘ امام علیہ السلام نے فرمایا: ’’اس کی دوسری حد سمرقند ہے۔‘‘ پھر آپ نے فرمایا: ’’اس کی تیسری حد افریقہ ہے اور چوتھی حد ساحلِ دریائے خضر اور ارمنستان ہے۔‘‘ ہارون نے کہا: ’’بس، اب ہمارے لیے کچھ نہیں بچا۔ آئیے اور میری جگہ لوگوں پر حکومت کیجیے۔‘‘ امام علیہ السلام نے فرمایا: ’’میں نے تم سے کہا تھا کہ اگر میں اس کی حدود متعین کر دوں تو تم ہرگز اسے واپس نہیں کرو گے۔‘‘ (مجلسی، بحار الانوار، جلد 8، صفحہ 106)
یہ روایت فدک اور خلافت کے باہمی تعلق کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کے بعد ہارون نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا۔
یہی وجہ تھی کہ بعض خلفاء، جو اہلِ بیت علیہم السلام سے اپنی ارادت کا اظہار کرنا چاہتے تھے، فدک کو ائمہ علیہم السلام کے حوالے کرنے کے بجائے آپ کے خاندان کے دوسرے افراد کے حوالے کر دیا کرتے تھے؛ کیونکہ نہ تو ائمہ علیہم السلام فدک قبول فرماتے تھے اور نہ ہی حکمران چاہتے تھے کہ ائمہ علیہم السلام اقتصادی طور پر مضبوط ہوں اور ان کی حکومت کے لیے خطرہ بن جائیں۔
فدک کی داستان کس قدر غم انگیز ہے! بظاہر تو یہ ایک باغ تھا، مگر رہتی دنیا تک تاریخِ اسلام میں اہلِ بیت علیہم السلام کے مقام و منزلت کے ساتھ ساتھ ان کی مظلومیت کی ایک بڑی دلیل بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ منافقین اور دشمنانِ اہلِ بیت کی سازشوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ آج بھی جو شخص فدک کے اس معمہ کو حل کرنے میں کامیاب ہو جائے، وہ اسلام کے حقیقی دشمنوں کو پہچان کر اہلِ بیت علیہم السلام کے سیدھے راستے کا راہی بن جاتا ہے۔










آپ کا تبصرہ