حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،پاک جرمن ماڈل سکول پشاور پاکستان کے زیر اہتمام خانہءِ فرہنگ ایران پشاور میں دنیا بھر کے مظلوموں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے موضوع پر صوبائی انٹر سکول تقریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔

تقریری مقابلے میں خیبر پختونخوا کے متعدد اسکولوں کے طلبہ وطالبات کے علاوہ سیاسی، ثقافتی، علمی اور مذہبی شخصیات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ان مقابلوں کا مقصد نئی نسل کی صلاحیتوں کی نشاندہی اور تربیت، فنِ خطابت کو فروغ دینا اور انسانی، اسلامی اور بین الاقوامی امور کے بارے میں طلبہ میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔

اس تقریب میں ڈپٹی قونصل جنرل اسلامی جمہوریہ ایران حسن معظمی، خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران پشاور کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حسین چاقمی، خیبر پختونخوا کے سابق گورنر اور سینئر قانون دان بیرسٹر مسعود کوثر، سابق رکنِ صوبائی اسمبلی سید ایوب شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر سید طاہر عباس شاہ، پاکستان ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر اور ممتاز ماہرِ تعلیم خواجہ یاور نصیر، پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے نائب صدر کامریڈ انور زیب، جامعہ شہیدعارف حسینی پشاور کے مدرس علامہ عابد حسین شاکری، مولانا مقصوداحمد سلفی، ماہرِ تعلیم ڈاکٹر عابد خان، تحریکِ بیداریِ امتِ مصطفٰی پشاور کے صدر ڈاکٹر ذیشان حیدر، جامعہ عائشہ پشاور کے مہتمم جمیل منصوری اور دیگر علمی شخصیات نے شرکت کی۔

مقابلے کے جیوری بورڈ میں ماہرِ تعلیم اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان کےسابق ڈائریکٹر سید وقار حیدر شیرازی اور ماہرِ تعلیم و بین الاقوامی تقریری مقابلوں کے شریک سید ریاض حسین شیرازی شامل تھے، جنہوں نے طلبہ کی تقاریر کی ججمنٹ اور منصفانہ ارزیابی کی ذمہ داری نبھائی۔
پہلے مرحلے میں تقریباً 29 سکولوں کے 48 طلبہ وطالبات نے ان مقابلوں میں حصہ لیا۔
ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد 18 سکولوں کے 32 طلبہ وطالبات کو دوسرے مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا، جس کے بعد 10 طلبہ وطالبات فائنل راؤنڈ میں پہنچے۔
آخر میں بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے تین طلبہ کو نقد انعامات سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ فائنل میں پہنچنے والے دیگر سات طلبہ کی حوصلہ افزائی اور ان کی صلاحیتوں کے اعتراف میں بھی نقد انعامات پیش کیے گئے۔












آپ کا تبصرہ