حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کوئٹہ پاکستان میں ہزارہ شیعہ علماء اور معزز شخصیات کے ایک وفد نے امارتِ اسلامی افغانستان کے قونصل خانے میں قونصل جنرل مولوی فضل الحق شاکر سے ملاقات اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔


وفد میں امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی، امام جمعہ کوئٹہ علامہ علی حسنین حسینی، جناب عبدالعلی اصغری، علامہ شیخ ولایت حسین جعفری، علامہ سید محمود الحسینی، جناب حاجی ٹھیکیدار سرور، جناب حاجی الطاف حسین اور جناب حاجی غلام حسین اخلاقی شامل تھے۔
ملاقات کے آغاز میں علامہ سید ہاشم موسوی نے افغانستان میں ہزارہ برادری کو درپیش مسائل اور مبینہ مظالم کے حوالے سے کوئٹہ کے عوام کے تحفظات تفصیل سے بیان کیے، جن میں درج ذیل امور شامل تھے:
نوآباد، غزنی علاقے کے رہائشیوں کو جبری طور پر بے دخل کرنے کا فیصلہ۔
شہرک سبز (شہرک نبی زادہ): رہائشی علاقے کو خالی کروانے کا فیصلہ۔
جبرائیل، ہرات: املاک اور دکانوں کو خالی کروانے کا فیصلہ۔
کابل: مدرسۂ خاتم النبیینؐ اور کابل یونیورسٹی کی بندش۔

علامہ علی حسنین حسینی نے پہلے سے تیار کردہ تحریری یادداشت پڑھ کر سنائی، جس میں مذکورہ مسائل اور عوام کے اعتراضات کو واضح کیا گیا تھا۔

جناب عبدالعلی اصغری نے عبدالرحمن کے دور سے منسوب غصب شدہ اراضی کے معاملے پر گفتگو کی اور اس حوالے سے ایک تحریری یادداشت قونصل جنرل کے حوالے کی۔

علامہ سید ہاشم موسوی نے بھی ان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے غصب شدہ اراضی کے مسئلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
ملاقات کے اختتام پر قونصل جنرل مولوی فضل الحق شاکر نے وفد کو خوش آمدید کہا اور یقین دہانی کروائی کہ پیش کیے گئے اعتراضات اور تحفظات حکومتِ کابل تک ضرور پہنچائے جائیں گے۔










آپ کا تبصرہ