منگل 20 اکتوبر 2026 - 07:25
امتِ مسلمہ جسدِ واحد کی مانند ہے، تنازعات کے حل کے لیے پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے

قائد ملت جعفریہ پاکستان:

امتِ مسلمہ جسدِ واحد کی مانند ہے، تنازعات کے حل کے لیے پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے

رہبر انقلاب اسلامی ایران اور شیخ الازہر کے بیانات خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے مثبت رہنمائی ہیں

حوزہ / علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: رہبر انقلاب اسلامی ایران اور شیخ الازہر کے بیانات خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے مثبت رہنمائی ہیں۔ فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، دشمن کی سازشوں سے ہوشیار رہنا ہوگا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی ماحول پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: امت مسلمہ جسدِ واحد ہے اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ موجودہ کشیدہ صورتحال کا خاتمہ اور امت مسلمہ کو مضبوط بنانا تمام مسلم ممالک اور ذمہ دار شخصیات کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان کو ایک بار پھر باہمی تنازعات کے حل اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے خطے کی سنگین صورتحال اور رہبر انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور شیخ الازہر مصر ڈاکٹر احمد الطیب کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ان رہنماؤں کی جانب سے امن، ثالثی اور مصالحت کے لیے پیش کی جانے والی تجاویز حوصلہ افزا ہیں۔ یہ بیانات خطے میں امن و استحکام کے فروغ، معاشی مشکلات کے خاتمے اور ترقی کی راہیں ہموار کرنے کے لیے مثبت اور سنجیدہ رہنمائی فراہم کرتے ہیں، تاہم ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا: قرآن حکیم کا آفاقی پیغام ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اس تعلیم کی روشنی میں امت مسلمہ کو باہمی اختلافات اور تنازعات ختم کرکے اتحاد، اخوت اور باہمی احترام کو فروغ دینا چاہیے۔ امت مسلمہ کی فلاح، ترقی اور مضبوطی کا راستہ باہمی احترام، بھائی چارے اور اتحاد بین المسلمین سے ہو کر گزرتا ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے رہبر انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں ایران کی جانب سے بارہا ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے شیخ الازہر مصر ڈاکٹر احمد الطیب کے اس بیان کو بھی اہم قرار دیا، جس میں انہوں نے تنازعات کے حل کے لیے ایک فوری ثالثی و مصالحتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ ان کے مطابق اس کمیٹی میں ایسے مخلص، صاحبِ عقل و حکمت اور امن و استحکام کے خواہاں افراد شامل ہونے چاہییں جو فریقین کے درمیان مصالحت کی راہ ہموار کرسکیں۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے زور دیا کہ اس سلسلے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان ایک اہم اسلامی اور ایٹمی ریاست ہونے کے ناطے تنازعات کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان پر مختلف فریقین کا اعتماد اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں سنجیدہ سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا: پاکستان کو ماضی کی طرح ایک بار پھر اسی سنجیدگی اور جذبے کے ساتھ امن و مصالحت کی کوششوں کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔ ایسی کوششوں کے دوررس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، جن سے نہ صرف خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا بلکہ کشیدگی کے باعث معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات میں کمی، باہمی تعاون میں اضافہ اور ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال کے خاتمے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں بروئے کار لانا ضروری ہیں۔ اس نازک مرحلے پر اشتعال انگیز اور منفی بیانات سے اجتناب کرتے ہوئے دشمن کی سازشوں سے ہوشیار رہنا ہوگا، تاکہ اختلافات کو مزید ہوا دینے کے بجائے اتحاد، افہام و تفہیم اور سفارتی کوششوں کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha