حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمعۃ المبارک، 16 اکتوبر 2026ء کو مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو بلتستان میں نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے دینی و اخلاقی تربیت، والدین کی ذمہ داریوں، نوجوان نسل کی اصلاح، تعلیمی اداروں میں اسلامی ثقافت کے فروغ اور خاندانی نظام کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے اپنے پہلے خطبے میں سورۂ تحریم کی آیت 6 کی روشنی میں تربیتِ اولاد کی اہمیت واضح کی، جبکہ دوسرے خطبے میں علاقائی و عالمی صورتِ حال اور گلگت بلتستان کے عوامی مسائل پر اظہارِ خیال کیا۔
تربیتِ اولاد قرآن کریم کی روشنی میں
علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے خطبے کے آغاز میں امتِ مسلمہ، پاکستان کے استحکام اور اسلامی جمہوریہ ایران کی سربلندی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے بیماروں کی شفایابی، پریشان حال افراد کی مشکلات کے خاتمے اور بے اولاد افراد کو نیک و صالح اولاد عطا ہونے کے لیے بھی بارگاہِ الٰہی میں دعا کی۔
انہوں نے سورۂ تحریم کی آیت 6 تلاوت کرتے ہوئے کہا: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا» ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ۔
انہوں نے کہا: اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو اپنی ذات کے ساتھ اپنے اہل و عیال کی حفاظت اور تربیت کی ذمہ داری بھی سونپی ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں دینی و اخلاقی تربیت کا فقدان ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے، جس کے اثرات خاندانوں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی رویوں میں نمایاں ہیں۔
معاشرتی بگاڑ اور خاندانی نظام کو درپیش چیلنجز
علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے کہا: اولاد کی تربیت میں غفلت، طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح، خودکشیوں کا رجحان اور نوجوان نسل کو درپیش اخلاقی مسائل ایسے معاملات ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان مسائل کے اسباب میں دینی و اخلاقی تربیت کی کمی ایک اہم سبب ہے، لہٰذا والدین اور معاشرے کے ذمہ دار طبقات کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔

انہوں نے تعلیمی اداروں میں ثقافت کے نام پر منعقد ہونے والی بعض مخلوط سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد تعلیم و تربیت ہونا چاہیے۔ اسلامی ثقافت اور دینی اقدار کو پس منظر میں دھکیلنے کے بجائے نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور دینی تربیت پر توجہ دی جانی چاہیے۔
خطیب جمعہ نے بلتستان کی دینی و تہذیبی روایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس خطے میں سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلامی تعلیمات پر عمل کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان روایات کو دوبارہ زندہ کیا جائے اور نئی نسل کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کی جائے۔
کھیلوں میں اعتدال اور دینی ترجیحات کی اہمیت
علامہ فدا حسن عبادی نے کھیلوں اور نوجوان نسل کے حوالے سے کہا: کھیل اور ورزش صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہیں، تاہم انہیں نفرت، تعصب اور باہمی دشمنی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ کھیلوں کے مقابلوں کو مثبت سرگرمی اور صحت مند مسابقات تک محدود رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: بعض اوقات فٹبال گراؤنڈ میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں، لیکن نمازِ جمعہ میں اتنا بڑا اجتماع نظر نہیں آتا۔ ہمیں اپنی ترجیحات کا جائزہ لینا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ ہماری دینداری صرف ماہِ رمضان تک محدود کیوں ہو جاتی ہے۔ دین، اخلاق اور اسلامی اقدار سے وابستگی سال کے بارہ مہینے برقرار رہنی چاہیے۔
انہوں نے علماء اور مجتہدین کی زندگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: دینی شخصیات کی زندگیوں میں عبادت، نظم و ضبط اور دینی تعلیمات سے وابستگی نمایاں ہوتی ہے۔ ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں دین کو بنیادی اہمیت دینی چاہیے اور اپنی ترجیحات اسلامی تعلیمات کے مطابق ترتیب دینی چاہییں۔
والدین کی ذمہ داریاں اور کردار سازی
علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے کہا: والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کی پرورش اور ان کی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں، بلکہ ان کی دینی و اخلاقی تربیت اور کردار سازی بھی ضروری ہے۔ والدین کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی اولاد کن سرگرمیوں میں مصروف ہے، کہاں آتی جاتی ہے اور کن لوگوں کے ساتھ میل جول رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا: بچوں کو ادب و آداب، وضو، نماز، شرعی مسائل اور دینی احکام سکھانا والدین کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اگر والدین خود یہ ذمہ داری پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو انہیں اپنی اولاد کے لیے مناسب دینی تعلیم و تربیت کا انتظام کرنا چاہیے۔

خطیب جمعہ نے مزید کہا: اچھی تربیت انسان کو خوددار، باکردار اور بااصول بناتی ہے۔ جو بچے دینی، اخلاقی اور عملی تربیت حاصل کرتے ہیں، وہ زندگی کے مشکل حالات میں بھی اپنے اصولوں پر قائم رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ والدین، اساتذہ اور معاشرے کے دیگر ذمہ دار افراد کو تربیت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش
علامہ فدا حسن عبادی نے خاندانی نظام کو درپیش مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: صرف ایک ماہ کے دوران محکمہ شرعیہ سکردو میں طلاق سے متعلق بیس درخواستوں کا موصول ہونا تشویش ناک صورتِ حال کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس معاملے میں خاندانی تربیت، اخلاقی اقدار اور ازدواجی ذمہ داریوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا: مضبوط خاندانی نظام کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ والدین اپنی اولاد کی تربیت کے ساتھ انہیں باہمی احترام، برداشت، ذمہ داری اور حسنِ معاشرت کی تعلیم بھی دیں۔
نیک اولاد اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا درس
علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے اولاد کے نیک اعمال اور والدین کے لیے رحمت کے حوالے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے منسوب ایک واقعہ بیان کیا۔ ان کے مطابق، ایک شخص کی وفات کے بعد اس کی اولاد میں سے ایک فرد نے لوگوں کے لیے راستہ کھول کر ان کی آمدورفت آسان بنائی، جس کے نتیجے میں اس کے والد کے لیے رحمت کا معاملہ ہوا۔
انہوں نے اس واقعے سے استدلال کرتے ہوئے کہا: اولاد کے نیک اعمال والدین کے لیے بھی رحمت و برکت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کے راستے بند کرنے اور ان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے بجائے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہییں۔ اولاد کے لیے مال و دولت چھوڑنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اسے اچھے اخلاق، انسانی ہمدردی اور خدمتِ خلق کی تربیت دی جائے۔
امام رضا علیہ السلام کی سخاوت سے سبق
علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے امام علی رضا علیہ السلام کی سخاوت سے منسوب ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا: انسان کو دوسروں کی ضرورت کا احساس کرنا اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کرنا چاہیے۔
انہوں نے واقعے کا مفہوم بیان کیا کہ ایک ضرورت مند شخص امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی مالی پریشانی کا ذکر کیا۔ امامؑ نے اسے انگور عطا فرمائے، لیکن اس نے اپنی ضرورت کے مقابلے میں انہیں ناکافی قرار دیا۔ بعد ازاں ایک دوسرے شخص نے امامؑ سے ملنے والے انگوروں پر خوشی اور شکرگزاری کا اظہار کیا اور انہیں اپنے اہلِ خانہ اور محلے کے لوگوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ امامؑ نے اس کے اظہارِ تشکر اور دوسروں کے ساتھ بانٹنے کے جذبے کو دیکھتے ہوئے اسے مزید نوازا۔
خطیب جمعہ نے کہا: اس واقعے میں سخاوت، شکرگزاری، قناعت اور دوسروں کے لیے خیر خواہی کا درس موجود ہے۔ معاشرے میں ہمدردی اور لوگوں کی ضروریات کا احساس عام ہو تو باہمی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور معاشرتی زندگی میں خیر و برکت پیدا ہوتی ہے۔
یمن اور سعودی عرب کی کشیدگی؛ پاکستان کے ثالثی کردار پر زور
دوسرے خطبے میں علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: علاقائی تنازعات سے امتِ مسلمہ کو نقصان پہنچتا ہے، جبکہ عالمی طاقتوں کی مداخلت صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے احترام کو تمام مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا: ان مقدس مقامات کا احترام ہر مسلمان کے ایمان اور دینی وابستگی کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا: ان کے نزدیک آلِ سعود کے مقابلے میں دیگر مسلمان بھی حرمین شریفین کے احترام کے حوالے سے زیادہ حساسیت رکھتے ہیں۔
خطیب جمعہ نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ وہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے خاتمے، جنگ بندی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مؤثر ثالثی کردار ادا کرے۔
انہوں نے پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک سے اپیل کی کہ وہ باہمی اختلافات اور محاذ آرائی کے بجائے اتحادِ امت، قیامِ امن اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دیں۔

گلگت بلتستان میں بیس سال بعد بلدیاتی انتخابات کا اعلان خوش آئند
علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے گلگت بلتستان میں تقریباً بیس سال بعد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے اعلان اور 5 دسمبر کو انتخابی شیڈول جاری کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔ تاہم انہوں نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بلدیاتی فنڈز کے استعمال اور ان کے حساب کتاب کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے شفافیت اور جواب دہی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے عوامی نمائندوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: منتخب نمائندوں کو عوام کی آواز بننا چاہیے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ عوامی نمائندگی کا تقاضا یہ ہے کہ بنیادی مسائل کو حکومتی ترجیحات میں شامل کرایا جائے اور عوام کو عملی ریلیف فراہم کیا جائے۔
بجلی کا بحران اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی
علامہ فدا حسن عبادی نے گلگت بلتستان میں بجلی کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: بجلی کی مسلسل عدم دستیابی سے نظامِ زندگی متاثر ہو رہا ہے، بچوں کی تعلیم میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں اور کاروباری سرگرمیاں بھی مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا: صحت، پانی، بجلی اور روزگار جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ متعلقہ حکام اور منتخب نمائندوں کو عوامی مسائل نظرانداز کرنے کے بجائے ان کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہییں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوامی مشکلات کا ازالہ نہ کیا گیا تو بے چینی اور احتجاج میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے امن و امان کی صورتِ حال بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
فضائی کرایوں میں اضافہ اور بے روزگاری
علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے گلگت بلتستان میں فضائی کرایوں میں اضافے کو غریب اور بیمار عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث قرار دیا۔ انہوں نے کہا: سردیوں کے موسم میں علاج کی غرض سے دوسرے شہروں کا سفر کرنے والے افراد کو پہلے ہی متعدد مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، ایسے میں فضائی کرایوں میں اضافہ ان کی پریشانیوں کو بڑھا دیتا ہے۔
انہوں نے عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فضائی کرایوں میں غیر ضروری اضافے کے خلاف مؤثر آواز اٹھائیں اور عوام کو سفری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔
خطیب جمعہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ حکومت کو صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور عوامی احتجاج کو روکنے کے بجائے ان شکایات کا ازالہ کرنا چاہیے جو احتجاج کا سبب بنتی ہیں۔
علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے اپنے خطاب کے اختتام پر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حکمرانوں کو اخلاص کے ساتھ قوم و ملت کی خدمت کرنے، عوامی نمائندوں کو اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرنے اور معاشرے کو دینی و اخلاقی اقدار کے مطابق بہتر بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، پاکستان کے استحکام اور عوامی مشکلات کے خاتمے کے لیے بھی دعا کی۔










آپ کا تبصرہ