حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ستار آباد میں او ٹی ایس اسکول کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے طلبہ و طالبات سے ملاقات، ان سے گفتگو کی اور بچوں میں کتابیں تقسیم کیں۔
اس موقع پر انہوں نے تعلیم کی اہمیت، علم کے حصول اور نئی نسل کی علمی و اخلاقی تربیت پر زور دیا۔
طلبہ و طالبات سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ اسلام نے علم کو غیر معمولی اہمیت دی ہے اور قرآن مجید کی پہلی وحی ہی لفظ ’’اقرأ‘‘ یعنی ’’پڑھیے‘‘ سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ اسلام انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم، شعور اور معرفت کی روشنی میں آگے بڑھنے کی دعوت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾ترجمہ: کہہ دیجیے! کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہو سکتے ہیں؟ (سورۃ الزمر، آیت 9)
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی تعلیمات میں علم کے حصول، حکمت کے فروغ اور انسان کی فکری و اخلاقی تعمیر پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ علم انسان کو حق و باطل میں تمیز کرنے، معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام اور انسانیت کی خدمت کا شعور عطا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں وہی قومیں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں جو تعلیم، تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید علوم پر توجہ دے رہی ہیں۔ آج دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور نئی نسل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے معیاری تعلیم کی فراہمی ناگزیر ہے۔ طلبہ و طالبات کو چاہیے کہ وہ محنت، لگن اور مستقل مزاجی کے ساتھ علم حاصل کریں اور اپنی صلاحیتوں کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے وقف کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں تعلیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ سندھ کی ترقی بھی اسی وقت ممکن ہے جب صوبے کے ہر بچے اور بچی کو معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی، اسکولوں کی بہتری، اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور طلبہ کو کتابوں سمیت ضروری تعلیمی وسائل فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ کتاب انسان کی بہترین دوست اور علم و شعور کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہے۔ بچوں میں کتابیں تقسیم کرنے کا مقصد ان میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا، علم سے محبت کو فروغ دینا اور انہیں ایک روشن مستقبل کی طرف راغب کرنا ہے۔ والدین، اساتذہ، سماجی رہنماؤں اور معاشرے کے تمام طبقات کو چاہیے کہ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار نسل تیار ہو سکے۔
انہوں نے پسماندہ علاقوں میں تعلیم کے فروغ کیلئے او ٹی ایس کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے فروغ، نئی نسل کی علمی و اخلاقی تربیت اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔ کیونکہ تعلیم یافتہ نسل ہی ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔ اس موقع پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے بچوں کو حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ بھی سنایا۔










آپ کا تبصرہ