جمعہ 16 اکتوبر 2026 - 19:35
مسلم ممالک طاقت کے بجائے باہمی مذاکرات سے علاقائی بحرانوں کا حل نکالیں، علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی

خطبہ جمعہ مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس کراچی:

مسلم ممالک طاقت کے بجائے باہمی مذاکرات سے علاقائی بحرانوں کا حل نکالیں، علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر معاشرتی اصلاح کی بنیاد، مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانا دینی ذمہ داری ہے

حوزہ / علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کراچی میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے کہا: اگر نمازِ جمعہ میں شریک افراد اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کر دیں تو معاشرے کی اصلاح کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔ برائیوں پر خاموشی اختیار کرنا یا ان کا حصہ بن جانا مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کراچی کی مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس میں 4 جمادی الاول 1448ھ، بمطابق 16 اکتوبر 2026ء کو نمازِ جمعہ کے خطبے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر، سیرتِ اہل بیتؑ کی پیروی، معاشرتی اصلاح، فضول اخراجات سے اجتناب، نوجوانوں کی فنی تربیت اور مظلوموں کی حمایت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا: معاشرے میں برائیوں کے خاتمے کے لیے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی، جبکہ ضرورت مندوں کی مدد، نوجوانوں کی درست رہنمائی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا دینی و اخلاقی فریضہ ہے۔

علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے قرآن مجید اور تعلیماتِ اہل بیتؑ کی روشنی میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے معاشرے میں پھیلنے والی برائیوں کی روک تھام، دینی اقدار کے تحفظ، نوجوان نسل کی تربیت اور عوامی و معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر تفصیلی گفتگو کی۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر انبیاء کا راستہ ہے

علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انبیائے الٰہی کا راستہ اور صالحین کا منہج ہے۔ قرآن مجید نے اس فریضے کو واضح طور پر بیان کیا ہے اور سورۂ آل عمران کی آیات 104 اور 110 میں نیکی کی دعوت دینے، برائی سے روکنے اور ایمان کی حفاظت کی تاکید کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا: خطبۂ جمعہ کا ایک بنیادی مقصد لوگوں کی رہنمائی کرنا ہے تاکہ معاشرے میں جن اچھے کاموں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، ان کی طرف توجہ دلائی جائے اور جن برائیوں کو معمول سمجھ لیا گیا ہے، ان کی روک تھام کی جائے۔

انہوں نے امام حسین علیہ السلام کے قیام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امام حسینؑ نے اپنی جدِ امجد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی اصلاح، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے قیام فرمایا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ فریضہ صرف انفرادی عبادات تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے میں ظلم، فساد اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد بھی اس کا حصہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا: امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ذریعے واجبات کا احیا، معاشرتی زندگی کی اصلاح، دشمنوں کے مقابلے میں حق و انصاف کا قیام اور الٰہی احکام کا نفاذ ممکن ہوتا ہے۔

برائی کی روک تھام کا آغاز اپنی ذات سے ہونا چاہیے

علامہ شبیر حسن میثمی نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مراحل بیان کرتے ہوئے کہا: اس فریضے کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ انسان برائی کو دل سے برا سمجھے۔ اگر کسی شخص کے دل میں برائی کے خلاف نفرت ہی باقی نہ رہے تو اس کے لیے عملی طور پر اس کی روک تھام کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا: دوسرا مرحلہ زبان کے ذریعے اصلاح کرنا ہے، لیکن اس کے لیے حکمت، اچھے الفاظ، احترام اور نرم لہجے کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید بھی حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعے دعوت دینے کی تعلیم دیتا ہے۔ سختی اور غصے کے بجائے محبت اور دلیل کے ساتھ کی جانے والی بات زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

خطیب جمعہ نے کہا: اگر کسی برائی کو زبان سے روکنا ممکن نہ ہو اور حالات عملی مداخلت کا تقاضا کریں تو شرعی حدود، حالات اور اپنی استطاعت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی روک تھام کی جائے۔

انہوں نے معاشرتی بے حسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اگر نمازِ جمعہ میں شریک افراد اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کر دیں تو معاشرے کی اصلاح کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔ برائیوں پر خاموشی اختیار کرنا یا ان کا حصہ بن جانا مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

اہل بیتؑ کی سیرت میں نرمی اور حسنِ اخلاق کی اہمیت

علامہ شبیر حسن میثمی نے والدین، علماء، ذاکرین اور دینی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ نئی نسل کی اصلاح کے لیے محبت، حکمت اور دلیل کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو نصیحت اور امام حسن علیہ السلام کے حسنِ اخلاق کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا: اختلاف رکھنے والے اور نادان افراد کے ساتھ بھی احترام اور شفقت کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا: اہل بیت علیہم السلام کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصلاح کا مقصد کسی کی تحقیر نہیں، بلکہ اسے صحیح راستے کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ والدین اور دینی رہنما اگر مؤثر اور محبت آمیز انداز میں اپنی ذمہ داری ادا کریں تو نئی نسل کو دینی اقدار سے قریب رکھا جا سکتا ہے۔

دینی مقدسات اور اسلامی شخصیات کے احترام کا تحفظ

علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے اہل بیت علیہم السلام اور صحابۂ کرام کے احترام اور دفاع کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: اسلامی معاشرے میں مقدسات کے تحفظ اور تاریخی و دینی شخصیات کے بارے میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا: اگر معاشرے کے ذمہ دار افراد حساس معاملات میں خاموشی اختیار کریں تو غلط تصورات اور اشتعال انگیز بیانیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔ اس لیے دفاعِ اسلام، دفاعِ نبوت، دفاعِ اہل بیتؑ اور دفاعِ صحابہ کے لیے علمی، اخلاقی اور ذمہ دارانہ انداز اپنانا چاہیے۔

ختمِ نبوت کے عقیدے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے اور اس عقیدے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کا عزم ضروری ہے۔ انہوں نے غدیر کے پیغام اور امامت کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ امت کو اپنے عقائد کی درست تفہیم اور دینی تعلیمات کے فروغ پر توجہ دینی چاہیے۔

غربت، بھوک اور فضول اخراجات کے خلاف عملی اقدامات کی ضرورت

علامہ شبیر حسن میثمی نے معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی غربت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ملک میں بھوک اور غربت جیسے مسائل کے پیش نظر ہر صاحبِ استطاعت شخص کو اپنے اخراجات اور طرزِ زندگی پر غور کرنا چاہیے۔ ایسے حالات میں جب بہت سے لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہوں، غیر ضروری اخراجات اور نمائشی تقریبات پر بے دریغ رقم خرچ کرنا مناسب نہیں۔

انہوں نے کہا: انسان کے پاس موجود مال، وسائل، صلاحیتیں اور منصب سب اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں۔ ان کا استعمال ذمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اگر معاشرے میں لوگ بھوک کا شکار ہوں اور دوسری طرف وسائل رکھنے والے افراد غیر ضروری نمود و نمائش میں مصروف رہیں تو یہ اجتماعی احساسِ ذمہ داری کے منافی ہے۔

خطیب جمعہ نے اہل ثروت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اپنے اخراجات میں کمی کریں اور بچنے والے وسائل ضرورت مندوں، غریبوں اور مستحق خاندانوں کی مدد کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی نصیحت صرف اسراف و تبذیر سے اجتناب تک محدود نہیں، بلکہ عام اخراجات میں بھی اعتدال پیدا کرکے دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

نوجوانوں کو جدید فنی تعلیم اور کمپیوٹر کی تربیت دینے پر زور

خطبۂ ثانی میں علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے تعلیم، بے روزگاری اور نوجوانوں کے مستقبل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیمی صلاحیتوں، بدلتے ہوئے حالات اور روزگار کے امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی رہنمائی کریں۔

انہوں نے کہا: محض روایتی ڈگری حاصل کرنا نوجوانوں کے مستقبل کی ضمانت نہیں، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں ایسے ہنر اور فنی مہارتیں سکھائی جائیں جن کے ذریعے وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ کمپیوٹر سائنس، جدید ٹیکنالوجی اور دیگر تخصصی شعبوں میں تربیت نوجوانوں کے لیے روزگار اور معاشی خودمختاری کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔

خطیب جمعہ نے اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: کمپیوٹر تربیتی مراکز کے ذریعے نوجوانوں کو آن لائن تعلیم و تربیت فراہم کی جا رہی ہے اور بعض تربیت یافتہ افراد اب خود دوسروں کو سکھانے کے قابل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مغل ہزارہ گوٹھ، گلستانِ جوہر میں قائم کمپیوٹر مرکز اور گلگت و نگر میں تربیتی مراکز کے قیام کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: نوجوانوں کو عملی مہارتیں فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بچوں کی دلچسپی اور استعداد کو پہچانیں، انہیں مناسب فنی تعلیم دلائیں اور تعلیمی اخراجات کے ساتھ مستقبل میں روزگار کے امکانات کو بھی پیش نظر رکھیں۔ ان کے مطابق، رسمی تعلیم کے ساتھ ہنر مندی اور عملی تجربہ نوجوانوں کی معاشی خودمختاری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی صورت حال پر تشویش

علامہ شبیر حسن میثمی نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا: ملک کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے سنجیدہ مکالمے اور باہمی مشاورت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات کریں جن سے کشیدگی کم ہو اور پاکستان کو درپیش مسائل کا قابلِ عمل حل نکل سکے۔

انہوں نے کہا: پاکستان سے مخلص تمام قوتوں کو ملک کے استحکام، امن اور سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

یمن کی صورت حال اور اسلامی ممالک کے مشترکہ کردار کی ضرورت

علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے یمن کی صورت حال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے اسلامی ممالک کے درمیان مشاورت اور سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا: علاقائی تنازعات کو محض طاقت کے استعمال سے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ مسلم ممالک کو مل بیٹھ کر ایسے راستے تلاش کرنے چاہییں جن سے مزید تباہی اور انسانی مشکلات سے بچا جا سکے۔

خطیب جمعہ نے یمن میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں کو درپیش خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: آبنائے باب المندب اور دیگر اہم بحری گزرگاہوں میں رکاوٹیں عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، ایسی صورت حال کے اثرات صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر کے عوام کو مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے پاکستان، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔

مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانا دینی ذمہ داری ہے

علامہ شبیر حسن میثمی نے فلسطین کے مظلوم عوام کا ذکر کرتے ہوئے دوہرے معیار پر تنقید کی اور کہا: مظلوموں کے حقوق کے دفاع میں مذہب، مسلک اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ فلسطینی عوام کی مشکلات، شہادتوں اور انسانی مصائب پر خاموشی اختیار کرنا جبکہ دوسرے معاملات پر شدید ردعمل ظاہر کرنا قابلِ غور رویہ ہے۔

انہوں نے کہا: مسلمانوں کو ہر مظلوم کے حق میں آواز اٹھانی چاہیے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی علاقے یا مسلک سے ہو۔ اگر سوشل میڈیا اور دیگر دستیاب ذرائع کے ذریعے ظلم کے خلاف مؤثر آواز اٹھائی جا سکتی ہے تو اس ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔

خطیب جمعہ نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: کسی بھی واقعے کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے حقائق کو سمجھنا اور ان کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ظالم کے خلاف اور مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنے کو دینی و اخلاقی فریضہ قرار دیا۔

ایامِ فاطمیہ میں شرکت اور ضرورت مندوں کی مدد کی تاکید

خطبے کے اختتام پر علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے ایامِ فاطمیہ کی مجالس میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا: اہل بیتؑ کی سیرت ہمیں قربانی، ایثار، توحید کے پرچم کو بلند رکھنے اور رشتہ داروں، پڑوسیوں اور ضرورت مندوں کی خبرگیری کا درس دیتی ہے۔

انہوں نے قرآن مجید کی سورۂ منافقون کی آیت 10 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: انسان کو موت آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے انفاق کرنا چاہیے، کیونکہ موت کے وقت انسان مہلت کی خواہش کرے گا، لیکن اس وقت عمل کا موقع باقی نہیں رہے گا۔

انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول نصیحت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے حاضرین کو موت اور آخرت کی یاد دلائی اور کہا: انسان کو اپنی زندگی کو ایک موقع سمجھ کر نیکی، خدمتِ خلق اور انفاق میں صرف کرنا چاہیے۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے آخر میں اپیل کی کہ ہر شخص اپنی مالی استطاعت کے مطابق اخراجات میں کمی کرے اور بچنے والے وسائل اللہ کی راہ میں ضرورت مندوں پر خرچ کرے۔ انہوں نے کہا: معاشرے کی اصلاح صرف تقریروں سے نہیں، بلکہ عملی اقدامات، احساسِ ذمہ داری، ایثار اور دینی تعلیمات پر عمل سے ممکن ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha