جمعہ 25 ستمبر 2026 - 21:46
یاد رکھیے، علی کے چاہنے والے کبھی جھکتے نہیں / ایرانی صدر نے عالمی فورم پر ڈٹ کر اپنا مؤقف پیش کیا

خطیب جمعہ مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ ڈیفنس کراچی:

یاد رکھیے، علی کے چاہنے والے کبھی جھکتے نہیں / ایرانی صدر نے عالمی فورم پر ڈٹ کر اپنا مؤقف پیش کیا

مسلمانوں کو مستضعفین کے حالات پر توجہ دینی چاہیے / ملکی استحکام اور امن کے لیے اتحاد و وحدت کی ضرورت ہے

حوزہ / علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا: انسان کو اللہ تعالیٰ نے فطرتِ توحید پر پیدا کیا ہے، اس کے اندر مختلف خواہشات رکھی ہیں اور ان کی تکمیل کے لیے حلال راستے بھی عطا فرمائے ہیں، تاہم انسان بعض اوقات اپنی خواہشات، ماحول اور معاشرتی اثرات کے باعث حلال کو چھوڑ کر حرام کی طرف چلا جاتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خطیب جمعہ مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ ڈیفنس کراچی حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے 25 ستمبر 2026ء کو خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا اور اسے جسمانی تقاضوں کے ساتھ نفس بھی عطا کیا، جس میں فجور اور تقویٰ دونوں کی پہچان رکھی گئی ہے۔ انسان کی کامیابی اپنے نفس کو پاک کرنے اور اللہ کی بندگی کی راہ اختیار کرنے میں ہے۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا: اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں دراصل اسی کی ملکیت ہیں؛ ہماری آنکھیں، زبان، کان اور دیگر صلاحیتیں بھی اللہ کی عطا ہیں، اس لیے انسان کو ان نعمتوں کو گناہ کے لیے استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ احساس کہ ’’جو کچھ ہے وہ تیرا ہے‘‘ انسان کو گناہ کے وقت رکنے میں مدد دیتا ہے۔

انہوں نے کہا: انسان سے گناہ سرزد ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ فوراً توبہ اور استغفار کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ براہِ راست تعلق، دعاؤں اور مناجات کے ذریعے اس تعلق کو مضبوط رکھنے پر خصوصی تاکید ملتی ہے۔

انہوں نے سورۂ انعام اور سورۂ مؤمنون کی آیات کی روشنی میں کہا: گناہ کے بعد انسان کے لیے ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اسے مشکلات اور تکالیف کے ذریعے متنبہ کیا جائے، جبکہ دوسری صورت ’’استدراج‘‘ ہے، جس میں انسان گناہوں کے باوجود مسلسل نعمتوں میں گھرا رہتا ہے اور آہستہ آہستہ اللہ کی یاد سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔

خطیب جمعہ نے کہا: انسان کو چاہیے کہ جب بھی کوئی مشکل پیش آئے تو اپنے اعمال کا جائزہ لے اور استغفار کرے۔ اسی طرح اگر زندگی میں مسلسل آسانیاں اور نعمتیں آ رہی ہوں تو اسے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ لازماً اللہ کی رضا کی علامت ہیں، بلکہ اپنے اللہ سے تعلق کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔

علامہ شبیر میثمی نے اہل بیت علیہم السلام سے وابستگی کو اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط رکھنے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا: دعائے کمیل، دعائے ندبہ، مناجاتِ خمس عشر اور دعائے صباح جیسی دعاؤں اور مناجات سے اپنا روحانی تعلق قائم رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا: گناہ ہو جائے تو اہل بیت علیہم السلام کے دروازے کو نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ استغفار اور رجوع کے ذریعے دوبارہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا: امامت محض محبت یا نسبی نسبت کا نام نہیں بلکہ عقیدے کا لازمی حصہ ہے، جبکہ مراجع تقلید اور ولی فقیہ امت کو اسی دینی راستے پر رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے اپنے خطاب میں ایک ذاتی واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا: کسی مومن کے بارے میں رائے یا بات دیتے وقت انسان کو انتہائی احتیاط کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا: بعض اوقات انسان کے ایک جملے کے اثرات اس کی توقع سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں، اس لیے دوسروں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔

انہوں نے مؤمنین کو تلقین کی کہ روزمرہ زندگی میں دوسروں کے لیے وقت نکالنے کے ساتھ اپنے لیے بھی چند منٹ مختص کریں اور اپنے اعمال کا محاسبہ کریں کہ کہیں کوئی ایسا عمل تو نہیں جس کے باعث اللہ تعالیٰ سے دوری پیدا ہو رہی ہو۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے خطبۂ ثانی میں عالمی اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: مسلمانوں کو مستضعفین کے حالات پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے بعض مسلم ممالک میں جاری بحرانوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ خطے میں مسلسل عدم استحکام اور جنگوں کے اثرات زیادہ تر مسلم ممالک ہی کیوں برداشت کر رہے ہیں۔

یاد رکھیے، علی کے چاہنے والے کبھی نہیں جھکتے / ایرانی صدر نے ڈٹ کر اپنا بھرپور مؤقف پیش کیا

علامہ شبیر حسن میثمی نے خطبہ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: آج دنیا کی صورتحال کسی سے چھپی نہیں۔ اقوام متحدہ ایک اکھاڑا ہے جس میں سوائے ڈرامے کے کچھ نہیں ہوتا۔ ایک صدر دوسرے ملک کو ختم کرنے کی دھمکی دیتا ہے، کوئی بولنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا: الحمد للہ رب العالمین، جیسے پہلے ایران کے صدور جاتے رہے اور جرأٔت سے گفتگو کرتے رہے۔ اس دفعہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پھر ماشاء اللہ ڈٹ کر گفتگو کی اور اپنا بھرپور مؤقف پیش کیا۔ یاد رکھیے، علی کے چاہنے والے کبھی نہیں جھکتے۔

علامہ شبیر میثمی نے کہا: خود امریکہ کے نیوز رپورٹرز نے رپورٹ کیا کہ یہ کیسا ملک ہے جس کا صدر دشمن کی زمین پر اس طرح بات کرتا ہے۔ بعض مرتبہ ذاتی اکڑ صحیح نہیں ہوتی لیکن ملک کی شان و شوکت، مکتب کی شان دکھانی ہوتی ہے۔ وہاں اس طرح چلیں کہ سامنے والا یہ نہ سمجھے کہ ڈر گئے ہیں۔ کسی نے لکھا وہی پرانا سوٹ پہن کر آ گئے، میڈیا کی فکر نہیں۔ اہل بیت کے چاہنے والے ذاتاً عاجزی رکھتے ہیں لیکن مسلک اور ملک کی نمائندگی بھرپور اور ڈٹ کر کرتے ہیں۔ خوشی ہے کہ بھرپور جواب دیا گیا: اگر تم ہمیں ختم کرنا چاہو گے تو یاد رکھو تم نے بہت کچھ کرنا چاہا تھا۔

انہوں نے کہا: اچھا دیکھیں یہ سب خلیج (Gulf) میں ہی کیوں ہو رہا ہے؟ یورپ میں کیوں نہیں، دوسری جگہوں پر کیوں نہیں؟ اس لیے کہ مسلمان ٹارگٹ ہیں اور انہیں وہ بڑا ملک بنانا ہے جس کا نام آپ جانتے ہیں، گریٹر۔۔۔۔ عجیب مسلمان ہیں، بے بس مسلمان۔ نالائق کا لفظ زبان سے نکل جاتا ہے۔ قرآن آواز دے رہا ہے کہ جب تمہیں مستضعفین پکاریں تو ان کی مدد کو پہنچو۔ کیا ہو گیا، تم بیٹھے رہتے ہو؟ ایف-35 دو سال بعد ملیں گے تو کیا فائدہ؟ سلام ہے ان کو جو سوکھی روٹی، بغیر جوتوں کے، خنجر یا جو کلاشنکوف مل گئی لے کر نکل آئے۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ان شاء اللہ اسلام و مسلمین کو کامیابی ہوگی۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے مزید کہا: جو ملک چالیس ٹریلین ڈالر کا مقروض ہے، ہر سال ایک ٹریلین سود دیتا ہے، پٹرول کی قیمتیں اتنی اوپر چڑھ گئی ہیں کہ لوگ پریشان ہیں۔ وہاں ڈیموکریسی کہاں ہے؟ لوگ ایک لفظ نہیں بول سکتے، جنرل ایک لفظ بولے یا اخبار میں آ جائے تو نکال دیتے ہیں، کابینہ کے لوگوں کو نکال دیتے ہیں۔ ہمیں جو کرنا ہے وہی کریں گے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

علامہ شبیر میثمی نے مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی گفتگو کرتے ہوئے والدین کو بچوں کے حوالے سے احتیاط کی تلقین کی۔

انہوں نے کہا: جدید ٹیکنالوجی اور AI سیکھنے میں حرج نہیں، تاہم اس کے استعمال میں جلد بازی سے گریز اور سکیورٹی کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے نئی ٹیکنالوجیز اور بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کے حوالے سے بھی مؤمنین کو جلد بازی سے بچنے اور کسی بھی نئی چیز کو اختیار کرنے سے قبل اس کے عملی تجربات اور حالات کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے خطبے کے اختتامی حصے میں اسلام آباد کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا: پاکستان مزید کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے فریقین کو پاکستانی قرار دیتے ہوئے کہا: اختلافات کا حل نکالنے اور صلح کی راہ اختیار کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

انہوں نے ملک کے معاشی مسائل، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور منافع خوری پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا: ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔

آخر میں انہوں نے ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اور شہداء کا ذکر کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا: ملکی استحکام اور امن کے لیے اتحاد و وحدت کی ضرورت ہے اور متعلقہ ذمہ داران کو حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے بروقت اقدامات کرنے چاہئیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha