حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 18 ستمبر 2026ء کو مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ ڈیفنس کراچی میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے خطیب جمعہ مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ ڈیفنس کراچی حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے تقویٰ کو کامیابی کا راستہ قرار دیتے ہوئے کہا: انسان کو ہر نعمت کے حصول کے ساتھ یہ احساس اپنے دل میں پیدا کرنا چاہیے کہ یہ نعمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی ہے، اگرچہ ظاہری طور پر اس کے حصول کا ذریعہ کوئی انسان یا ادارہ ہو۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا ممکن نہیں، قرآن کریم میں ارشاد ہے: «وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا»۔ اس لیے انسان کو نعمت ملنے پر سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ شکر کے ذریعہ انسان نہ صرف نعمت کی قدر کرتا ہے بلکہ اس کے اندر استفادہ کرنے کی صلاحیت اور برکت بھی بڑھتی ہے۔
علامہ شبیر حسن میثمی نے نعمتوں کے حوالے سے چار اصول بیان کرتے ہوئے کہا: پہلا اصول یہ ہے کہ نعمت کو اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھا جائے، دوسرا یہ کہ نعمت ملتے ہی شکر ادا کیا جائے، تیسرا یہ کہ نعمت کو گناہ کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور چوتھا یہ کہ نعمت کو دوسروں تک پہنچایا اور تقسیم کیا جائے۔
انہوں نے کہا: انسان کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کے ذریعہ اس کی نافرمانی سے اجتناب کرنا چاہیے۔ بیوی، شوہر، اولاد، مال اور دیگر تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں لہٰذا ان نعمتوں کو ظلم، غصے، بدسلوکی یا گناہ کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں۔
حجۃ الاسلام والمسلمین شبیر حسن میثمی نے امام حسین علیہ السلام سے منسوب واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اگر انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کے ذریعہ گناہ نہ کرے، اللہ کی زمین پر گناہ نہ کرے اور ایسی جگہ گناہ کرے جہاں اللہ تعالیٰ اسے نہ دیکھ رہا ہو تو یہ ممکن نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے اور اس کا یہی احساس انسان کو گناہ سے دور رکھ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے سے دور دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ جمعہ کی نماز سمیت عبادات کے اجتماعات انسان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی طرف رجوع کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہر انسان کو عطا ہوتی ہیں، تاہم مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے بندوں کی خدمت میں استعمال کرے۔
علامہ شبیر حسن میثمی نے صدقہ و خیرات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا: صدقہ صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں بلکہ کسی پریشان حال مومن کے پاس بیٹھنا، اس کی بات سننا، اسے مشورہ دینا، اس کے لیے دعا کرنا، اس کی مشکل دور کرنا اور مومن کو مسکرا کر دیکھنا بھی صدقہ ہے، بشرطیکہ یہ عمل اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہو۔
انہوں نے کہا: نعمت کو تقسیم کرنے سے نعمت کم نہیں ہوتی بلکہ اس میں اضافہ ہوتا ہے۔ انسان کو اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کی مدد کرنی چاہیے، چاہے وہ مالی مدد ہو یا وقت، توجہ، دعا اور ہمدردی کی صورت میں ہو۔
انہوں نے والدین کو متوجہ کرتے ہوئے کہا: بچوں کی تربیت میں نعمتِ الٰہی کا احساس پیدا کرنا ضروری ہے۔ بچوں کو یہ سمجھایا جائے کہ روزمرہ زندگی میں ہمیں جو کچھ حاصل ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور ہمیں اس پر شکر گزار ہونا چاہیے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین شبیر حسن میثمی نے کہا: اگر انسان ان چار اصولوں کو مسلسل چالیس دن اپنی زندگی میں عملی طور پر اختیار کرے تو اس کی زندگی میں برکت اور سکون پیدا ہو سکتا ہے۔
خطبۂ ثانی میں علامہ شبیر حسن میثمی نے عالمی حالات، یمن، فلسطین اور خطے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے امتِ اسلامی کے درمیان اتحاد و وحدت کی ضرورت دیا اور کہا: امتِ اسلامی کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر فلسطین اور مظلومین کی حمایت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا: اسلامی ممالک کو باہمی اختلافات اور تنازعات کے بجائے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا چاہیے اور انسانیت کے دشمنوں کے مقابلے میں مظلوم فلسطینی عوام کی مدد کرنی چاہیے۔ انہوں نے فلسطین کے حوالے سے مسلم ممالک کی ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے کہا: فلسطینی عوام کے درد کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا: اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات کو مذاکرات اور باہمی گفت و شنید کے ذریعہ حل کیا جانا چاہیے۔ قرآن کریم مسلمانوں کو باہمی تنازعات کی صورت میں اصلاح اور صلح کی دعوت دیتا ہے لہٰذا مسلم ممالک کو اسی قرآنی اصول کو اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے پاکستان کے حوالے سے کہا: ملک میں شیعہ سنی اتحاد اور وحدت کو متاثر کرنے والی کوششوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کے درمیان فاصلے پیدا کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اتحاد و وحدت کے ماحول کو برقرار رکھا جائے اور ایسے اقدامات سے اجتناب کیا جائے جو مسلمانوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کریں۔
انہوں نے کہا: پاکستان، سعودی عرب، یمن، مصر، ترکی سمیت تمام اسلامی ممالک کو باہمی اختلافات کم کرکے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ دنیا میں جاری کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت اور عام انسان کی زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں، اس لیے امن و استحکام کے لیے سنجیدہ کوششیں ضروری ہیں۔
علامہ شبیر حسن میثمی نے سندھ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے سڑکوں کی تعمیر، ٹریفک کے مسائل اور صفائی کی ناقص صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا: بعض مقامات پر بیک وقت سڑکوں کی تعمیر کے باعث ٹریفک کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے ترقیاتی منصوبوں میں عوامی سہولت اور متبادل ٹریفک نظام کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے صفائی کی صورتحال پر بھی توجہ دلاتے ہوئے کہا: گندگی بیماریوں کا سبب بنتی ہے، اس لیے شہری علاقوں میں صفائی ستھرائی کے مؤثر انتظامات ضروری ہیں۔
خطبۂ جمعہ میں مہنگائی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا: مہنگائی کے خلاف اعلانات کے ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت کو اخراجات میں کمی اور ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے عام آدمی پر معاشی بوجھ کم ہو۔
انہوں نے کہا: عوام کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومتی اقدامات کا مرکز عام شہری کی مشکلات کا ازالہ ہونا چاہیے۔
علامہ شبیر حسن میثمی نے حج رجسٹریشن کے حوالے سے بعض مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا: حکومت سے گفتگو کے ذریعہ ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا: مختلف مکاتبِ فکر کے مناسکِ حج میں بعض فقہی اختلافات موجود ہیں، اس لیے حج رجسٹریشن کے نظام میں ایسے انتظامات ضروری ہیں کہ عازمین کو ان کے متعلقہ گروپ اور رہنمائی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے تعاون کی اپیل بھی کی۔









آپ کا تبصرہ