حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسین مؤمنی نے حرمِ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں رہبرِ شہید انقلاب کی یاد میں منعقدہ خواتین کی مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے واقعۂ عاشورا، انقلابِ اسلامی کے بنیادی اصولوں اور رہبرِ معظم کے پیغام کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے قرآن کریم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو ہر آزمائش میں اللہ تعالیٰ کی حکمت کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے، کیونکہ خداوند عالم صبر اور ایمان کے ساتھ مصیبتوں کا بہترین بدل عطا کرتا ہے۔
انہوں نے رہبرِ شہید کی شہادت کو ایک عظیم آزمائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ازالہ تین نعمتوں کے ذریعے کیا ہے؛ نظام کی قیادت کے لیے ایک باصلاحیت رہبر کی موجودگی، دشمن کی مسلسل ناکامیاں اور معاشرے میں اتحاد و یکجہتی کا فروغ، جس کی ہر صورت حفاظت کی جانی چاہیے۔
حجۃ الاسلام مؤمنی نے کہا کہ انقلابِ اسلامی کی بنیاد مکتبِ حسینی پر قائم ہے اور یہ تحریک حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام کا تاریخی تسلسل ہے۔ ان کے مطابق ایثار، راہِ خدا میں قربانی، ولایت کی پیروی اور حق کے سامنے کامل تسلیم اس انقلاب کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ حالات میں معمولی اندرونی اختلاف بھی دشمن کے مفادات کو تقویت دیتا ہے اور محاذِ مقاومت کو نقصان پہنچاتا ہے، اس لیے اختلاف انگیز گفتگو سے مکمل پرہیز اور ولیِ امر کی ہدایات پر عمل ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجرم عناصر سے انتقام کے بارے میں رہبرِ معظم کا حکم واضح ہے اور انقلاب اور شہداء کے اہداف سے وفاداری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ایران اور عراق میں رہبرِ شہید کی تشییع اور عوامی استقبال کو عاشورائی جذبے کی تجدید قرار دیتے ہوئے اس اتحاد اور بیداری کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔









آپ کا تبصرہ