جمعرات 28 مئی 2026 - 13:18
عید الاضحی نفس پر غلبے اور حقیقتِ غدیر کے ادراک کا دن ہے، حجۃ الاسلام حسینی

حوزہ/ زنجان میں عید الاضحی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نمائندہ ولی فقیہ زنجان نے کہا ہے کہ عید قربان انسان کو نفسانی خواہشات سے نجات اور عید غدیر کی حقیقت کو سمجھنے کا درس دیتی ہے، جبکہ امت مسلمہ کی طاقت اتحاد و وحدت میں مضمر ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، زنجان میں نماز عید الاضحی کے خطبات دیتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین سید مصطفی حسینی نے عید قربان کو اخلاص، بندگی اور ایثار کی عظیم علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس طرح اللہ کی رضا کے لئے اپنی سب سے محبوب چیز قربان کرنے کا جذبہ دکھایا، آج بھی انسان کو اپنے نفس کے "اسماعیل" قربان کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے منصب پرستی، تکبر اور مال و دولت کی بے جا محبت کو روحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پائے۔

امام جمعہ زنجان نے حج کے عظیم اجتماع کو امت مسلمہ کے اتحاد کی روشن علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف زبانوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا ایک مرکز پر جمع ہونا اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اسلامی دنیا کی عزت و طاقت وحدت کے سائے میں ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ جب تک مسلم معاشرے تفرقہ سے دور ہو کر توحید کے محور پر متحد نہیں ہوں گے، اس وقت تک اسلام دشمن قوتوں کے مقابلے میں مطلوبہ قوت پیدا نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے عید الاضحی اور عید غدیر کے درمیان گہرے تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عید الاضحی بندگی اور تسلیم و رضا کی آزمائش ہے، جبکہ عید غدیر اسی بندگی کے کمال اور ولایتِ الٰہی کے اعلان کا دن ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی نے کہا کہ ولی خدا سے وابستگی کے بغیر عبادات محض بے روح ظاہری اعمال بن کر رہ جاتی ہیں۔

انہوں نے ملت ایران کی استقامت اور مزاحمتی جذبے کو توحیدی عقائد کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ملت کے حوصلے کو کمزور نہیں کرتیں بلکہ ظلم و استکبار کے خلاف جدوجہد کے عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔

انہوں نے موجودہ حالات میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کی ہدایات پر مکمل عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ باہمی ہمدردی، تعاون، سادگی اور اسلامی طرزِ زندگی کو فروغ دے کر قوم ہر مشکل مرحلے سے کامیابی کے ساتھ گزر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ایمان و اتحاد کے ذریعے ماضی میں عظیم کامیابیاں حاصل کی گئیں، اسی طرح آج بھی علمی، ثقافتی اور سماجی میدانوں میں نئی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha