۲۵ فروردین ۱۴۰۳ |۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 13, 2024
حجت الاسلام شفیعی

حوزہ/حجۃ الاسلام شفیعی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہمیں ہمیشہ اللہ رب العزت سے امید رکھنی چاہئے،کہا کہ اگر کوئی مؤمن بندہ دنیا اور آخرت کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے"خوش اخلاق" ہونا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،اہواز ایران سے، خوزستان کی یونیورسٹیوں میں رہبر انقلاب کے نمائندے حجۃ الاسلام سید محسن شفیعی نے امام موسیٰ کاظم (ع) کی ولادت کے موقع پر اہوازی مؤمنین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رہبر انقلاب کے بیان کردہ حفظان صحت کے اصولوں کی رعایت واجب ہے۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امامت میں تمام ائمہ (ع) کا کام ایک جیسا ہے،کہا کہ معاشرہ جس راہ پر گامزن ہے،خطرہ اور مشکل کے وقت کے لئے ایک رہنما کی ضرورت ہوتی ہے اور رہنمائی کا عہدہ امامت کے ذمے ہے۔

خوزستان کی یونیورسٹیوں میں رہبر انقلاب کے نمائندے نے، امام موسیٰ بن جعفر (ع) کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہ آپ(ع)نے فرمایا:کسی کو دنیا اور آخرت کی بھلائی نہیں ملتی  جب تک کہ اس میں کئی خصوصیات نہ ہوں،کہا کہ پہلی خصوصیت یہ ہے کہ حسن ظن اور اللہ تعالٰی پر امید رکھے، البتہ دشمن کے تعلق سے سوء ظن رکھنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ سماجی معاملات میں،حسن ظن کی پہلی بھلائی خود انسان کو پہنچتی ہے،اس بات کی نشاندہی کی کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں دشمن کے بارے میں پر امید رہنا چاہیے جبکہ یہ عقل کے خلاف عمل ہے۔اگر دشمن پر بھروسہ کیا جائے تو ایک لمحے میں انسان کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

حجۃ الاسلام شفیعی نے یہ بتاتے ہوئے کہ گھریلو ماحول میں موجودہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ،ایک دوسرے پر (سوء ظن) شک ہے،مزید کہاکہ اگر معاشرے میں ناامیدی اور مایوسیاں پیدا ہوں تو معاشرہ اور خاندان تباہ و برباد ہو جائے گا۔

خوزستان کی یونیورسٹیوں میں رہبر انقلاب کے نمائندے نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہمیں ہمیشہ اللہ رب العزت سے امید رکھنی چاہیے،کہا کہ اگر کوئی مؤمن بندہ دنیا اور آخرت کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے "خوش اخلاق" ہونا چاہیے اور ایک دوسرے پر بھروسہ اور اعتماد ہر معاشرہ اور خاندان کے لئے ضروری ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .