جمعرات 21 مئی 2026 - 01:12
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی ایک “کہکشانی فکر” کے حامل مرجع ہیں: حجۃ الاسلام والمسلمین رشاد

حوزہ/ قم المقدسہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین علی اکبر رشاد نے کہا ہے کہ آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی حوزہ علمیہ کے آسمان پر ایک “کہکشانی فکر” کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ انہوں نے فقہ، اصول، فلسفہ، کلام، تفسیر اور اخلاق سمیت مختلف علوم میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین علی اکبر رشاد نے کہا ہے کہ آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی حوزہ علمیہ کے آسمان پر ایک “کہکشانی فکر” کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ انہوں نے فقہ، اصول، فلسفہ، کلام، تفسیر اور اخلاق سمیت مختلف علوم میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔

انہوں نے یہ بات قم المقدسہ میں “منظومۂ فکری آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی” کی رونمائی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں شہید آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی اور دیگر شہدائے خدمت کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ حجۃ الاسلام والمسلمین رشاد نے کہا کہ شہید رئیسی عوامی، انقلابی اور مجاہد شخصیت کے مالک تھے اور قوم کو ان کی خدمات کی قدر کرنی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے امام خمینیؒ اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی فکری خدمات پر بھی جامع علمی کام انجام دیا جا چکا ہے، جبکہ اب آیت اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی کی فکری خدمات پر کتاب مرتب کرنے کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے۔

آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی ایک “کہکشانی فکر” کے حامل مرجع ہیں: حجۃ الاسلام والمسلمین رشاد

حجۃ الاسلام والمسلمین رشاد نے آیت اللہ العظمیٰ سبحانی کے تواضع و انکسار کو طلاب کے لیے نمونۂ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک عظیم علمی شخصیت کی جانب سے دوسرے مرجع کی علمی خدمات کے اعتراف میں پیغام دینا موجودہ دور میں نہایت بامعنی عمل ہے۔

انہوں نے آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کو “مجاہد مرجع” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انقلاب اسلامی کے مختلف مراحل میں ہمیشہ میدان عمل میں موجود رہے اور دباؤ یا تنقید کی پروا کیے بغیر دین اور انقلاب کا دفاع کرتے رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ مکارم شیرازی کی تحریروں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ نوجوان نسل کی زبان اور فکری سطح کو مدنظر رکھ کر لکھی گئیں، اسی لیے ان کی کتابوں کو نوجوانوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ انہوں نے “تفسیر نمونہ” کو عالم اسلام کے لیے ایک عظیم علمی سرمایہ قرار دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha