بدھ 20 مئی 2026 - 19:17
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے اپنی عمر کے تقریباً ہر سال کے برابر علمی آثار چھوڑے ہیں

حوزہ/ آیت اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی نے آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی کی علمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ “نوآوری” اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق دینی معارف کی پیشکش، ان کی نمایاں خصوصیات میں سے ہے، یہاں تک کہ انہوں نے اپنی عمر کے تقریباً ہر سال کے برابر کتاب یا رسالہ یادگار چھوڑا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں اسلامی ثقافت و فکر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ “منظومۂ فکری آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی” کی رونمائی تقریب کے لیے اپنے ویڈیو پیغام میں آیت اللہ العظمیٰ سبحانی نے علمائے دین کی تجلیل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علما کی قدر افزائی سے نئی نسل میں علم و دانش کا شوق پیدا ہوتا ہے اور معاشرے میں علم کا مقام بلند ہوتا ہے۔

انہوں نے قرآن کریم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اہل ایمان اور اہل علم کے درجات کی بلندی، علم کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے، یہاں تک کہ مجالس میں اہل علم کے لیے جگہ کشادہ کرنے کی قرآنی ہدایت بھی علم و عالم کی منزلت کو اجاگر کرتی ہے۔

آیت اللہ العظمیٰ سبحانی نے آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کی علمی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ 1305 شمسی میں شیراز میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے بعد جوانی میں حوزہ علمیہ قم میں داخل ہوئے اور آیت اللہ العظمیٰ بروجردیؒ اور آیت اللہ دامادؒ جیسے اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔ بعد ازاں نجف اشرف میں بھی قیام کیا جہاں آیات عظام حکیمؒ اور خوئیؒ کے دروس سے استفادہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے فلسفہ اور علم کلام میں علامہ طباطبائیؒ سے بھی استفادہ کیا اور تقریباً پانچ برس تک ان کے دروس میں شرکت کی، یہاں تک کہ علامہ طباطبائیؒ کی ہدایت پر تفسیر المیزان کی پہلی جلد کا فارسی ترجمہ بھی کیا۔

آیت اللہ العظمیٰ سبحانی نے کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے جدید نسل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دینی اور اعتقادی مباحث کو سادہ اور قابل فہم زبان میں پیش کیا، کیونکہ اس وقت بیشتر دینی متون یا عربی زبان میں تھے یا قدیم اسلوب میں لکھے گئے تھے جن سے نئی نسل بھرپور استفادہ نہیں کر سکتی تھی۔

انہوں نے “تفسیر نمونہ” کو بھی آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کا ایک عظیم علمی کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تفسیر ایسے دور میں لکھی گئی جب نوجوان نسل کے سوالات اور عصری تقاضوں کے مطابق ایک رواں فارسی تفسیر کی ضرورت تھی، اور آج اس کا عربی ترجمہ بھی محققین اور اہل علم کی توجہ کا مرکز ہے۔

آیت اللہ العظمیٰ سبحانی نے آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کی حوزوی خدمات، دینی مدارس کے قیام اور ایران کے آئین کی تدوین میں ان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام خدمات ان کی دور اندیشی اور علمی و سماجی بصیرت کی علامت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کے بے شمار علمی آثار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی عمر کے ہر سال کے مقابل ایک علمی یادگار چھوڑنے کی توفیق حاصل کی، اور یہ یقیناً ایک الٰہی عنایت ہے۔

آیت اللہ العظمیٰ سبحانی نے اپنے پیغام کے اختتام پر مراجع عظام تقلید اور حوزہ علمیہ کے بزرگوں کی سلامتی اور توفیقات کے لیے دعا بھی کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha