ہفتہ 16 مئی 2026 - 18:16
قم المقدسہ میں کتاب "منظومہ فکری آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی" کی تقریب رونمائی، آیت اللہ کا خصوصی پیغام

حوزہ/ آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کے فکری نظام پر مشتمل قیمتی مجموعہ "منظومہ فکری آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی" کی تقریب رونمائی، آیت اللہ العظمیٰ سبحانی کے پیغام کے ساتھ، بروز جمعرات قم المقدسہ میں منعقد ہوگی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پژوهشگاه فرهنگ و اندیشه اسلامی (فکر و تہذیب اسلامی ریسرچ سینٹر) کے شعبہ فلسفہ کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین محمد جواد رودگر نے اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی ان ربانی علماء میں سے ہیں جو علم معرفت اور منظم ساخت سے استفادہ کرتے ہوئے فقہ، تفسیر، اخلاق اور معاشرتی مسائل کے شعبوں میں ایک مکمل اور جامع فکری نظام پیش کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ علما جو فقہ اکبر (کلام اور عقلی تعلیمات)، فقہ اوسط (اخلاق و تربیت) اور فقہ اصغر (فقہی و قانونی احکام) میں اجتہاد اور استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ دین کے اصول و فروع میں گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان میں آیت اللہ مکارم شیرازی کا مقام نمایاں ہے۔

حجۃ الاسلام رودگر نے کہا کہ آیت اللہ مکارم شیرازی نے علمی میدان میں نہایت محنت کی ہے اور زمانے کی ضرورتوں سے باخبر رہنے والے مراجع میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے حوزہ علمیہ میں "اجتماعی کام اور گروہی تحقیق" کی بنیاد رکھی اور اس شعبے میں ایک نیا نمونہ پیش کیا۔ اس کی واضع مثالیں تفسیر نمونہ، پیام امام (نہج البلاغہ کا ترجمہ و شرح)، عرفان اسلامی (صحیفہ سجادیہ کی شرح) اور بعض فقہی و حدیثی کتب جیسے دائرۃ المعارف فقہ مقارن اور منتخب الآثار من بحار الانوار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس فکری نظام کی علمی ذمہ داری حجۃ الاسلام والمسلمین عبدالحسین خسروپناہ نے اٹھائی ہے جو خود بھی فکری نظام ترتیب دینے میں صاحب نظر ہیں۔ اس نظام کے علمی شوری میں آیت اللہ مکارم شیرازی کے شاگردوں اور عقیدت مندوں میں سے حجج اسلام: احمد قدسی، محی الدین مکارم شیرازی، محمد جواد رودگر، سعید داودی لیمونی، محمد عرب صالحی اور حمید ملکی شامل ہیں۔

آخر میں انہوں نے اعلان کیا کہ اس قیمتی مجموعے کی رونمائی کی تقریب آیت اللہ العظمیٰ سبحانی کے تصویری پیغام کے ساتھ بروز جمعرات 30 اپریل 2026 صبح ساڑھے نو بجے قم میں پژوهشگاه فرهنگ و اندیشه اسلامی میں منعقد ہوگی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha