حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی اور دیگر شہدائے خدمت کی یاد میں قم المقدسہ میں واقع حرم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے شبستان امام خمینیؒ میں ایک پُروقار تعزیتی تقریب منعقد ہوئی، جس میں علماء، روحانی شخصیات، سرکاری عہدیداران اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
یہ مجلس شہید جمہور آیت اللہ رئیسی اور ان کے رفقاء کی گرانقدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی۔ اس موقع پر حرمِ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی فضا رنج و ملال اور عقیدت و محبت سے لبریز دکھائی دی، جبکہ اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت رکھنے والے زائرین کی بڑی تعداد بھی شریکِ مجلس رہی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر رفیعی نے شہید آیت اللہ رئیسی کی اخلاقی، انقلابی اور عوامی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک انتھک، ولایتِ فقیہ کے وفادار اور حقیقی معنوں میں عوام کے خادم تھے۔ انہوں نے کہا کہ اخلاص، سادگی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے شب و روز کوشش کرنا شہید رئیسی کی نمایاں خصوصیات تھیں، جن کی وجہ سے وہ ہمیشہ ملتِ ایران کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مخلصانہ خدمت کا جذبہ مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام سے حاصل ہوتا ہے، لہٰذا ذمہ داران پر لازم ہے کہ وہ شہدائے خدمت کے راستے کو جاری رکھتے ہوئے عوامی خدمت اور جہادی روحیہ کو برقرار رکھیں۔
اس موقع پر ایران کے سابق وزیرِ محنت، تعاون اور سماجی بہبود سید صولت مرتضوی نے بھی خطاب کیا اور شہدائے خدمت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید آیت اللہ رئیسی نے اپنی تمام تر صلاحیتیں عوام کی خدمت اور ملک کی ترقی کے لیے وقف کر رکھی تھیں اور وہ ہمیشہ اخلاص اور مجاہدانہ جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔
تقریب کے اختتام پر ابوذر بیوکافی اور حسن اسداللہی نے اہلِ بیت عصمت و طہارت علیہم السلام اور شہدائے خدمت کی یاد میں مرثیہ خوانی کی اور اشعار پیش کیے، جس سے مجلس کا ماحول مزید سوگوار ہوگیا۔









آپ کا تبصرہ