ہفتہ 8 اگست 2026 - 01:17
تاریخی حقائق بیان ضرور کریں لیکن دل آزاری نہ، اختلافی مسائل کو علمی و مثبت انداز میں زیر بحث لائیں، علامہ شبیر حسن میثمی

حوزہ / علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا: ماہِ صفر مومنین کے لیے غم و عزاء کا مہینہ ہے، ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امام حسن علیہ السلام اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت و مصائب کو زندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے پیغام اور تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس کراچی میں 23 صفر المظفر 1448ھ بمطابق 7 اگست 2026ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے حجت الاسلام والمسلمین علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے تقویٰ اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے پر تاکید کی۔

انہوں نے ماہِ صفر کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: محرم کی طرح ماہِ صفر بھی مومنین کے لیے عزاء کا مہینہ ہے کیونکہ اس ماہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال اور امام حسن علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی۔ انسان جن سے محبت کرتا ہے ان کی خوشی میں شریک اور ان کے غم میں غمگین ہوتا ہے۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد اور غم کو زندہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ہم اپنے محسنین اور شہداء کی یاد مناتے ہیں لہٰذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کائنات کی عظیم ترین ہستی اور محسنِ انسانیت ہیں، ان کی یاد کو بھی زندہ رکھنا چاہیے۔

انہوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کے حضرت یوسف علیہ السلام کے فراق میں گریہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اگر غم منانا فی نفسہٖ غلط ہوتا تو حضرت یعقوب علیہ السلام جیسے نبی یہ عمل انجام نہ دیتے۔

خطیب جمعہ نے مجالس عزا میں شرکت کرنے والے مومنین کو سراہتے ہوئے کہا: مومنین میں معرفت بڑھ رہی ہے اور لوگ علم و دین کو سمجھنے کے لیے وقت نکال رہے ہیں، تاہم مجالس پڑھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عزاداروں کے وقت کو اس انداز میں استعمال کریں جو اہل بیت علیہم السلام کو پسند ہو۔

حجت الاسلام والمسلمین علامہ شبیر حسن میثمی نے امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے حوالے سے کہا: امت مسلمہ کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے صرف چند عشروں بعد مدینہ منورہ میں ان کے نواسے کے جنازے کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا گیا۔ امام حسن علیہ السلام کے جنازے پر تیروں کی بارش تاریخ کا دردناک واقعہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا: امام حسن علیہ السلام کے جنازے پر تیروں کی بارش ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے جس پر امت مسلمہ کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

خطیبِ جمعہ نے کہا: تاریخ بیان کرتے ہوئے اہل سنت برادران کی دل آزاری سے اجتناب ضروری ہے، تاہم تاریخ کے حقائق بیان کرنا بھی ضروری ہے اور اختلافی مسائل کو علمی و مثبت انداز میں زیر بحث لانا چاہیے۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے خطبہ جمعہ کے دوسرے حصے میں کراچی کے پانی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: کراچی کے لیے 4K واٹر پروجیکٹ تقریباً 13 سال قبل شروع ہوا تھا اور اس وقت اس کی لاگت تقریباً ساڑھے 25 ارب روپے تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 172 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا: ایک طرف منصوبے کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوا جبکہ دوسری طرف پانی کی فراہمی کی مقدار بھی کم کر دی گئی، یہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔

انہوں نے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: کراچی کے شہری قطرہ قطرہ پانی کے لیے ترس رہے ہیں، اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کے وسائل امانت ہیں اور ان میں خیانت نہیں ہونی چاہیے۔

حجت الاسلام والمسلمین علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا: لوگوں کو پانی سے محروم رکھنا اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے منافی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ عوام کے مسائل کو سمجھیں اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے پاکستانی ذمہ داران کو اللہ تعالیٰ پر توکل کی دعوت دیتے ہوئے کہا: کسی انسان یا طاقت سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

خطیب جمعہ نے ملک میں جاری بارشوں اور سیلابی صورتحال کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا: اپنی جان کی حفاظت کریں، غیر ضروری خطرات مول نہ لیں کیونکہ زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔

انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ اسکول کھلنے کے بعد بچوں کی ضروریات کا خیال رکھیں اور ضرورت مند خاندانوں کی عزتِ نفس کو مجروح کیے بغیر ان کی مدد کریں۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا: ہمارے معاشرے میں بہت سے سفید پوش افراد ایسے ہیں جو اپنی ضرورت بیان نہیں کر سکتے، اس لیے ہمیں خود ان کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے ان تک پہنچنا چاہیے۔

انہوں نے کہا: اگر کسی کی مدد کرنی ہے تو عزت کے ساتھ کی جائے، کسی ضرورت مند کو ذلیل کرکے مدد نہ کی جائے۔ انسان کی عزت اور احترام سب سے بڑھ کر ہے۔

خطیب جمعہ نے اہل بیت علیہم السلام کی سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ائمہ اہل بیت علیہم السلام ضرورت مندوں کی مدد اس انداز میں کرتے تھے کہ لینے والے کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے اربعین حسینی کے موقع پر کراچی میں ہونے والے جلوس اور عزاداری کے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا: اربعین کے موقع پر مومنین نے جس محبت اور عشق کا اظہار کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔

انہوں نے سندھ حکومت اور عوام کے تعاون کو بھی سراہتے ہوئے کہا: جلوس کے دوران ٹریفک کی روانی اور شہریوں کی سہولت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا: عزاداروں کے اس جذبے کو روکا نہیں جا سکتا۔ یہ عشق اور محبت کا سیلاب ہے، اسے منظم اور شریعت کے مطابق جاری رہنا چاہیے۔

علامہ شبیر میثمی نے اربعین کے جلوسوں میں نیاز کی کثرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: نیاز دینا اچھی بات ہے لیکن اس کی تقسیم کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض علاقوں میں لوگ بڑی مقدار میں نیاز لے کر جا رہے ہیں جبکہ سندھ اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں مجالس اور عزاداری کے لیے بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔

انہوں نے کہا: ضرورت اس امر کی ہے کہ نیاز اور دیگر تبرکات کی تقسیم کا ایسا نظام بنایا جائے جس کے ذریعے یہ اشیاء ان علاقوں تک بھی پہنچیں جہاں ان کی زیادہ ضرورت ہے۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے پاک محرم ایسوسی ایشن کے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا: کراچی میں اس سال اربعین کا انعقاد بہترین انداز میں ہوا اور مومنین نے جس محبت و عقیدت کا اظہار کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا: ہمیں اپنے اندر اربعین حسینی کا جذبہ باقی رکھنا چاہیے اور عزاداری و مجالس کو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے بہترین اور منظم انداز میں جاری رکھنا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha