جمعہ 11 ستمبر 2026 - 21:50
امت مسلمہ کو باہمی تنازعات کے بجائے مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے، علامہ شبیر حسن میثمی

حوزہ / علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا: انسان کی زندگی نعمتوں، گناہوں اور مختلف آزمائشوں کے درمیان گھری ہے، اس لیے مؤمن کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرے، گناہوں سے توبہ و استغفار کے ذریعہ دوری اختیار کرے اور مشکلات و آزمائشوں میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرے۔

امت مسلمہ کو باہمی تنازعات کے بجائے مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس کراچی میں 28 ربیع الاول 1448ھ بمطابق 11 ستمبر 2026ء کو نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں تقویٰ، شکرگزاری، توبہ اور صبر کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ انسان انہیں شمار نہیں کرسکتا۔ قرآن کریم انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ اگر وہ اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہے تو انہیں شمار نہیں کرسکتا کیونکہ انسان کو اس کی طلب کے بغیر بھی بے شمار نعمتیں عطا کی گئی ہیں۔ اس کے باوجود انسان میں ناشکری اور کفرانِ نعمت کا رجحان پایا جاتا ہے۔

علامہ شبیر میثمی نے گناہوں اور توبہ کے حوالے سے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو بھی اپنی رحمت سے مایوس ہونے سے روکتا ہے جو گناہوں کے ذریعہ اپنی جانوں پر زیادتی کر بیٹھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے اور بندے کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: انسان جب گناہ کرتا ہے تو اس کا بنیادی نقصان خود اس کی ذات، اس کے خاندان اور اس کے گرد و پیش پر مرتب ہوتا ہے۔ قرآن کریم واضح کرتا ہے کہ جو شخص گناہ کماتا ہے، وہ اپنے ہی نفس کے خلاف کماتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ علم و حکمت کا مالک ہے۔

خطبہ جمعہ کے پہلے حصے میں انہوں نے آزمائشوں کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے سورۂ بقرہ کی آیت کا حوالہ دیا اور کہا: خوف، بھوک، مال و جان اور ثمرات میں کمی سمیت مختلف حالات انسان کے لیے امتحان کا ذریعہ بن سکتے ہیں تاہم قرآن کریم صبر کرنے والوں کے لیے خوشخبری سناتا ہے۔

انہوں نے سورۂ عنکبوت کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: محض ایمان کا دعویٰ انسان کو آزمائش سے مستثنیٰ نہیں کرتا۔ جس طرح دنیاوی ذمہ داریوں اور مختلف پیشوں کے لیے امتحان ضروری ہوتا ہے، اسی طرح ایمان بھی آزمائشوں کے ذریعہ پرکھا جاتا ہے۔ مؤمن کو مشکلات کے وقت ثابت قدم رہنا چاہیے۔

خطیبِ جمعہ نے مزید کہا: اللہ تعالیٰ نے موت و حیات کو اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ انسانوں کو آزمایا جائے کہ ان میں سے کون بہتر عمل انجام دیتا ہے۔ انہوں نے مؤمنین کو متوجہ کیا کہ زندگی میں آنے والی نعمتوں، گناہوں اور آزمائشوں کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اہل بیت علیہم السلام کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے کہا: انسان کو محبتِ الٰہی اور معرفتِ اہل بیت علیہم السلام کے ذریعہ اپنے روحانی سفر کو آگے بڑھانا چاہیے۔ گناہ سے دوری، توبہ، استغفار اور صبر انسان کو روحانیت اور معنویت کی طرف لے جاتے ہیں۔

خطبہ ثانی میں علامہ شبیر میثمی نے 11 ستمبر کو یوم وفات قائداعظم محمد علی جناح کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے قیام کے لیے خدمات انجام دینے والوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ملک کی حفاظت و بہتری کو اجتماعی ذمہ داری قرار دیا۔ انہوں نے حکمرانوں کو بھی عوام اور ملک کے مفادات کا خیال رکھنے کی تاکید کی۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے گنگنی کے علاقہ میں فوجی سرگرمیوں کے باعث متاثر ہونے والے مقامی لوگوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو اپنی زمینوں اور علاقوں میں واپس جا کر انہیں آباد کرنے کا موقع دیا جائے۔ اگر حکومت ان کی بحالی کی اجازت دیتی ہے تو وہ بھی اس سلسلے میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔

خطیبِ جمعہ نے یمن اور سعودی عرب کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے دونوں جانب مسلمانوں کی موجودگی کا حوالہ دیا اور پاکستان کے حکمرانوں پر زور دیا کہ اس معاملے میں سوچ سمجھ کر آگے بڑھا جائے۔

انہوں نے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: امت مسلمہ کو باہمی تنازعات کے بجائے مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔

انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: موجودہ عالمی حالات کو محض سطحی خبروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ وسیع تر سیاسی و معاشی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ایران کی مزاحمت اور خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال پر بھی گفتگو کی اور کہا: موجودہ حالات نے عالمی طاقتوں کے مفادات اور خطے میں جاری کشمکش کو نمایاں کردیا ہے۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے ایران کی سائنسی و ٹیکنیکل ترقی کا ذکر کرتے ہوئے خواتین اور نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا: ایرانی معاشرے میں تعلیم اور سائنسی صلاحیتوں کے فروغ نے مختلف شعبوں میں نئی استعداد پیدا کی ہے۔

انہوں نے کہا: موجودہ عالمی حالات میں مؤمنین کو حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے متوازن طرزِ فکر اختیار کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر بات سے فوری طور پر خوش یا ناراض ہونے کے بجائے تحقیق اور تحمل سے کام لینا ضروری ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر پیش کی جانے والی اطلاعات اور زمینی حقائق میں فرق ہوتا ہے۔

آخر میں علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے گلگت بلتستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور دیگر مقامات میں موجود مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے اہل ایمان سے اپیل کی کہ جہاں ممکن ہو، متاثرہ افراد سے ملاقات کریں، ان کی دلجوئی کریں اور ان کی آواز ذمہ دار حکام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے مؤمنین کو بھی ہر معاملے میں اعتدال، صبر اور متوازن رویے کی تلقین کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha