حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مہورہ-پاراچنار/ مجلس علماء اہل البیت پاراچنار کے صدر اور جامع مسجد بی بی زینب سلام اللہ علیہا مہورہ کے خطیبِ جمعہ، علامہ زاہد حسین انقلابی نے خطبہ جمعہ میں انسان کی زندگی، اعمال کی نگرانی، روزِ قیامت جواب دہی اور حالاتِ حاضرہ پر تفصیلی گفتگو کی۔ پہلے خطبے میں انہوں نے قرآنِ کریم کی آیات کی روشنی میں اس بات پر زور دیا کہ انسان کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں اور قیامت کے روز انسان کی زندگی کے اعمال مختلف ذرائع سے گواہی کی صورت میں سامنے آئیں گے۔
علامہ زاہد حسین انقلابی نے پہلے خطبے میں انسان کی غفلت کو موضوع بناتے ہوئے کہا کہ انسان کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کی زندگی کا ہر لمحہ نگرانی میں ہے اور اسے اپنے ہر قول و فعل کے لیے جواب دہ ہونا ہے۔ انہوں نے اس تصور کو چار نگرانوں کے ذریعے بیان کیا۔

اللہ تعالیٰ کی نگرانی
انہوں نے سورۂ علق کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَىٰ" یعنی: "کیا انسان نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے؟" علامہ زاہد حسین انقلابی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو ہر وقت اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر و باطن اور تمام اعمال سے باخبر ہے۔
فرشتوں کی نگرانی
دوسرے ناظر کے طور پر انہوں نے مقرب فرشتوں کا ذکر کرتے ہوئے سورۂ ق کی آیت پیش کرتے ہوئے کہا: "مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ" یعنی: "انسان کوئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار رہتا ہے۔" انہوں نے کہا کہ انسان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ بھی اس کے اعمال کے ریکارڈ کا حصہ بنتا ہے، اس لیے گفتگو اور الفاظ کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے۔
زمین کی گواہی
تیسرے ناظر کے طور پر انہوں نے زمین کا ذکر کرتے ہوئے سورۂ زلزال کی آیت تلاوت کی: "يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا"یعنی: "اس دن زمین اپنی خبریں بیان کرے گی۔" انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن زمین بھی انسان کے ان اعمال کے بارے میں گواہی دے گی جو اس نے اس پر انجام دیے ہوں گے۔
انسان کے اپنے اعضا و جوارح کی گواہی
چوتھے ناظر کے طور پر علامہ زاہد حسین انقلابی نے انسان کے اپنے اعضا و جوارح کا ذکر کیا اور سورۂ یٰس کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ" ترجمہ: "آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے، ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان اعمال کی گواہی دیں گے جو وہ کماتے رہے۔" انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن انسان اپنے اعمال سے انکار بھی کرے تو اس کے اپنے اعضا و جوارح اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔

حالاتِ حاضرہ پر گفتگو
دوسرے خطبے میں علامہ زاہد حسین انقلابی نے حالاتِ حاضرہ، یمن کی صورتِ حال اور مولوی طاہر اشرفی کے ایک بیان کے حوالے سے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یمن کے مسلمانوں کو کافر قرار دینے کی بنیاد کیا ہے اور کس اسلامی اصول کے تحت ایسے الفاظ استعمال کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ یمن میں انصار اللہ کے ساتھ مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان موجود ہیں اور ان میں زیدی، اثنا عشری اور سنی مسلمان شامل ہیں۔ ان کے مطابق اسلام کا بنیادی اصول کلمۂ توحید اور رسالت کا اقرار ہے، اس لیے کسی مسلمان کو محض مسلکی وابستگی کی بنیاد پر دائرۂ اسلام سے خارج کرنے کے معاملے میں انتہائی احتیاط ضروری ہے۔
علامہ زاہد حسین انقلابی نے اپنے خطاب میں "اسلامِ نابِ محمدیؐ" اور "امریکی اسلام" کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامِ نابِ محمدیؐ وہ اسلام ہے جو توحید، رسالت اور امتِ مسلمہ کے بنیادی اصولوں پر قائم ہے، اور امریکی اسلام وہ ہے جو امریکی مفادات کے تابع مذہبی تعبیرات انجام دے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ جو شخص یا قوت امریکی مفادات کی مخالفت کرے، اسے مذہبی طور پر نشانہ بنانا درست نہیں اور ایسے فتووں کو وہ قبول نہیں کرتے۔

غزہ کی صورتِ حال پر بھی سوال
خطبے کے دوران علامہ زاہد حسین انقلابی نے غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینیوں کی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب غزہ میں بمباری کے نتیجے میں اسپتال، اسکول اور زیتون کے باغات متاثر ہو رہے تھے اور فلسطینی شہری مشکلات کا سامنا کر رہے تھے تو اس وقت ان کے بقول بعض "علمائے حق" کی آواز کہاں تھی۔
انہوں نے عرب ممالک کی بعض پالیسیوں اور طرزِ عمل کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر دوہرے معیار کے بجائے یکساں اصول اپنائے جانے چاہییں۔
خطبے کے اختتام پر علامہ زاہد حسین انقلابی نے حاضرین کو اس امر کی طرف متوجہ کیا کہ انسان کو اپنی روزمرہ زندگی، اپنے الفاظ اور اپنے اعمال کے بارے میں جواب دہی کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے، کیونکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان کے اعمال کا حساب روزِ قیامت پیش ہونا ہے۔










آپ کا تبصرہ