حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گجرات کے شہر بھاؤ نگر کی امبا چوک میں واقع خوجہ شیعہ اثنا عشری جامع مسجد میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے حجۃ الاسلام مولانا سید تحقیق حسین نے تقویٰ، فرائض کی پابندی، حرام سے اجتناب اور نفس کے خلاف جدوجہد کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حقیقی کامیابی صرف زیادہ عبادت کرنے میں نہیں بلکہ فرائض کی ادائیگی، حرام سے بچنے اور اپنے کردار کی اصلاح میں ہے۔
انہوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ محتاط انسان وہ ہے جو شبہات والی چیزوں اور مقامات سے بھی اجتناب کرے۔ جس چیز کے حرام ہونے کا شبہ ہو، اس سے رک جانا چاہیے اور جس جگہ جانے کے بارے میں تردد ہو، وہاں جانے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔
مولانا سید تحقیق حسین نے کہا کہ سب سے زیادہ عبادت گزار شخص وہ ہے جو فرائض کی پابندی کرتا ہے۔ صرف مستحب نمازیں، زیارات اور مناجات کافی نہیں، اگر اس کے ساتھ کوئی فرض عبادت ترک ہو رہی ہو۔ انہوں نے کہا کہ فرائض صرف پانچ وقت کی نماز تک محدود نہیں بلکہ والدین کی خدمت، پڑوسیوں کے حقوق اور دیگر لوگوں کے حقوق ادا کرنا بھی دینی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
انہوں نے زہد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا زاہد وہ ہے جو حرام کو ترک کرے۔ زہد کا مطلب دنیا سے الگ ہوجانا نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینا اور خود کو حرام سے محفوظ رکھنا ہے۔
مولانا نے نفس کے خلاف جدوجہد کو سب سے مشکل جہاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی دشمن سے مقابلہ نسبتاً آسان ہے، کیونکہ وہ نظر آتا ہے، لیکن نفس ایک پوشیدہ دشمن ہے جو انسان کو گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔ اس لیے اپنے نفس پر قابو رکھنا، گناہوں کو ترک کرنا اور اللہ کی اطاعت پر قائم رہنا حقیقی جدوجہد ہے۔
دوسرے خطبے میں انہوں نے تقویٰ کو بہترین نعمت قرار دیتے ہوئے سورۂ حجرات کی آیات کی روشنی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب، گفتگو میں احترام اور مومن کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مومن کی گفتگو میں سنجیدگی، شائستگی اور وقار ہونا چاہیے۔ انسان کا ایمان صرف زبان کے دعوے سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کے اخلاق، کردار اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔
مولانا نے اعمال کے ضائع ہونے کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے شرک و کفر، اللہ کو ناراض کرنے والے اعمال، نفاق، دنیا پرستی، ریا، تکبر، اہل بیت علیہم السلام سے دشمنی اور بلا عذر فرض عبادت ترک کرنے سے اجتناب کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایمان، نیک عمل، تقویٰ، توبہ، نماز، زکوٰۃ، غریبوں کی پوشیدہ مدد اور دیگر نیک اعمال انسان کے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے 10 ربیع الثانی کو امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر تمام مؤمنین کو پیشگی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام علیہ السلام کی زندگی تقویٰ، صبر اور مشکل حالات میں ایمان پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتی ہے۔
موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید تحقیق حسین نے ایرانی عوام کی استقامت اور یکجہتی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ مؤمنین کو ثابت قدمی اور اپنے دینی و اعتقادی اصولوں پر قائم رہنے سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
انہوں نے یمن کے حالات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ موجودہ حالات میں مؤمنین کو بیدار، ہوشیار اور حالات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آیت اللہ بہجت رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے یمن کے واقعات اور ظہورِ امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے بیان کردہ نظریے کی طرف اشارہ کیا۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے مؤمنین کو تقویٰ اختیار کرنے، فرائض کی پابندی، حرام سے دوری، گناہوں کو ترک کرنے، نفس کے خلاف جدوجہد، اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل اور باہمی اتحاد کو مضبوط بنانے کی تاکید کی۔









آپ کا تبصرہ