جمعہ 11 ستمبر 2026 - 21:52
حق کی حمایت کے لیے انسان کو مشکلات اور مخالفتوں کے باوجود ثابت قدم رہنا چاہیے، مولانا محمد زکاء الحسن

حوزہ / حجۃ الاسلام والمسلمین محمد زکاء الحسن نے خطبہ جمعہ میں تقویٰ الٰہی کی اہمیت اور مؤمن کی عملی زندگی میں اس کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے ارشادات کی تشریح کی۔ انہوں نے دوسرے خطبے میں مومنِ آلِ قریش، ابوالائمہ اور کفیلِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو طالب علیہ السلام کی سیرت، شخصیت اور اخلاق پر تفصیلی گفتگو کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 11 ستمبر 2026ء کو مرکزی جامع مسجد مہدیہ، جامعہ علمیہ امام حسن عسکری گھلواں علی پور میں نماز جمعہ جامعہ علمیہ امام حسن عسکری گھلواں علی پور کے پرنسپل حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا محمد زکاء کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے خطبہ جمعہ کے پہلے حصے میں تقویٰ الٰہی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مؤمنین کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، گناہوں سے اجتناب اور دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی طرف متوجہ کیا۔

مولانا محمد زکاء الحسن نے خطبہ اول میں حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام سے منقول ایک جامع حدیث شریف کی تشریح کی، جس میں آپ علیہ السلام نے جمعہ کے خطبے کے دوران لوگوں کو سات بڑی مصیبتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی۔

انہوں نے حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ارشاد کو بیان کرتے ہوئے کہا: معاشرے کے لیے بعض حالات انتہائی نقصان دہ اور تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں، جن میں عالم کا لغزش میں مبتلا ہونا، عابد کا عبادت سے اکتاہٹ کا شکار ہونا، مؤمن کا گمراہ ہوجانا، امانت دار کا خیانت کرنا، مال دار کا محتاج ہوجانا، صاحبِ عزت کا ذلیل ہونا اور فقیر کا بیمار ہوجانا شامل ہیں۔

حق کی حمایت کے لیے انسان کو مشکلات اور مخالفتوں کے باوجود ثابت قدم رہنا چاہیے

مولانا محمد زکاء الحسن نے اس حدیث شریف کی روشنی میں اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ معاشرے کی اصلاح صرف ظاہری ترقی سے ممکن نہیں بلکہ علم، عبادت، ایمان، امانت، عزت اور معاشی و سماجی ذمہ داریوں کے صحیح استعمال کے ذریعہ ایک صالح معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

انہوں نے کہا: عالم کی لغزش عام انسان کی لغزش سے زیادہ خطرناک اثرات رکھتی ہے کیونکہ لوگ اہل علم کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں۔ اسی طرح عبادت گزار انسان کے لیے عبادت سے اکتاہٹ روحانی کمزوری کا باعث بنتی ہے جبکہ مؤمن کا گمراہی میں مبتلا ہونا اس کے ایمان اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے امانت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: امانت میں خیانت معاشرتی اعتماد کو مجروح کرتی ہے اور انسان کو اپنی دینی و اخلاقی ذمہ داریوں سے دور کردیتی ہے۔ اسی طرح مال و دولت، عزت و مقام اور صحت و تندرستی بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں، جن کے بارے میں انسان کو ذمہ داری اور شکرگزاری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

خطبہ ثانی میں مولانا محمد زکاء الحسن نے مومنِ آلِ قریش، ابوالائمہ، کفیلِ رسول اسلام اور بزرگ ترین صحابی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابو طالب علیہ السلام کی سیرت و شخصیت اور اخلاق پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے حضرت ابو طالب علیہ السلام کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے ہوئے ان کے بلند مقام، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و وفاداری اور دین اسلام کی حمایت میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

حق کی حمایت کے لیے انسان کو مشکلات اور مخالفتوں کے باوجود ثابت قدم رہنا چاہیے

مولانا محمد زکاء الحسن نے کہا: حضرت ابو طالب علیہ السلام نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سرپرستی اور حمایت میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مشکل ترین حالات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت و نصرت کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔

انہوں نے حضرت ابو طالب علیہ السلام کی شخصیت کے حوالے سے آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقول مختلف اقوال کا بھی ذکر کیا اور کہا: اہل بیت علیہم السلام کے فرامین کی روشنی میں حضرت ابو طالب علیہ السلام کے مقام و کردار کو سمجھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا: حضرت ابو طالب علیہ السلام کی سیرت اہل ایمان کے لیے محبتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وفاداری، ایثار، استقامت اور دین کی حمایت کا روشن نمونہ ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کی حمایت کے لیے انسان کو مشکلات اور مخالفتوں کے باوجود ثابت قدم رہنا چاہیے۔

خطبہ جمعہ کے اختتام پر انہوں نے مؤمنین کو تقویٰ الٰہی اختیار کرنے، دینی و اخلاقی ذمہ داریوں پر عمل کرنے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و اہل بیت اطہار علیہم السلام کی سیرت و تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی تلقین بھی کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha