پیر 31 اگست 2026 - 15:30
عالمِ اسلام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حوزہ علمیہ کی استعداد اور صلاحیتوں کو از سرنو منظم کرنے کی ضرورت ہے

حوزہ / حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے عالمِ اسلام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حوزہ علمیہ کی استعداد اور صلاحیتوں کو ازسرنو منظم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ہمیں ایسے جامع، فاضل اور مختلف تخصصات سے بہرہ مند علماء اور ممتاز شخصیات کی تربیت کرنی چاہیے جو اسلامی افکار، معارف اہل بیت علیہم السلام اور انقلاب اسلامی کی کامیابیوں کو عالمی سطح پر بیان اور واضح کر سکیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علی رضا اعرافی نے ایران کے صوبائی حوزاتِ علمیہ کے مدیران کے تیرہویں اجلاس کے اختتامی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اجلاس کے منتظمین، علاقائی مدیران، معاونتِ انسانی وسائل، مرکز خدمات حوزہ علمیہ اور اجلاس کے انعقاد میں شریک دیگر شعبوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: میں اجلاس کے انعقاد کے لیے کوشش کرنے والے تمام عزیزوں کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اجلاس، مختلف نشستوں، کمیٹیوں اور تخصصی مباحث کے انعقاد کے لیے ضروری ماحول فراہم کیا۔ میں اللہ تعالیٰ سے ان سب کے لیے اجر و ثواب کی دعا کرتا ہوں۔

انہوں نے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نہج البلاغہ کے خطبہ 93 کے بعض حصوں کا ذکر کیا اور کہا: امیرالمؤمنین علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں متعدد مقامات پر رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں گفتگو فرمائی ہے اور یہ فرامین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت کی ایک جامع، عمیق اور دلکش تصویر پیش کرتے ہیں۔ ایسی شخصیت جس کا امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ساتھ سب سے قریبی تعلق تھا۔

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے آیت کریمہ «لَقَدْ کانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» کی طرف استناد کرتے ہوئے کہا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے لیے بنیادی رہنما ہیں اور حوزہ علمیہ کو معاشرے میں اس الٰہی و معنوی شناخت اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی نمائندگی کرنی چاہیے۔

عالمِ اسلام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حوزہ علمیہ کی استعداد اور صلاحیتوں کو از سرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے

انہوں نے کہا: طالب علم جب حوزہ علمیہ میں داخل ہوتا ہے تو خود کو ایسے مقام پر فائز کرتا ہے جہاں اسے انبیاء و اولیائے الٰہی کی نورانی راہ کی نمائندگی کرنی ہوتی ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے مزید کہا: رسالت اور روحانی و حوزوی ذمہ داری کی شناخت ہمارے کردار، علم، اخلاق اور سماجی سرگرمیوں میں نمایاں ہونی چاہیے۔

آیت اللہ اعرافی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم ایک پہلو سے اسلام کی وسیع شناخت کے نمائندے ہیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود مبارک میں جلوہ گر ہوئی اور دوسرے پہلو سے بالخصوص شیعی اور اہل بیت علیہم السلام کی شناخت کی نمائندگی کی ذمہ داری رکھتے ہیں جو امام صادق علیہ السلام کے وجود مبارک میں خصوصی طور پر جلوہ گر ہوئی۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے اہم محور کے طور پر طلبہ کی تعلیم و تربیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: تخصصی تعلیم جامعیتِ علمی کے منافی نہیں ہے۔ ہم بھرپور انداز میں تخصصی نظام کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ حوزہ علمیہ کے نوجوان فضلاء کے ایک گروہ کو علمی اور معرفتی جامعیت کی جانب رہنمائی کرنی چاہیے۔

حوزہ علمیہ کے سربراہ نے مزید کہا: ایسا طالب علم ہی مکتب اہل بیت علیہم السلام اور انقلاب اسلامی کے بلند افکار کو دنیا کے سامنے بیان کر سکتا ہے جو تخصص کے ساتھ فکری اور معرفتی جامعیت بھی رکھتا ہو۔

انہوں نے حوزہ علمیہ کی عظیم علمی شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: حوزہ علمیہ کے بزرگ علماء کی علمی جامعیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ گہرا اور دیرپا اثر و رسوخ صرف کسی ایک علمی شعبے میں تخصص کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ مختلف علوم، ادبیات، تفسیر، فقہ، اصول اور دیگر علوم سے واقفیت ایسی شخصیات کی تربیت کا سبب بن سکتی ہے جو عالم اسلام کی سطح پر مؤثر کردار ادا کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha