حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ علمیہ رفیعۃ المصطفیٰ کے استاد حجت الاسلام والمسلمین صالح قنادی نے مدرسہ علمیہ تخصصی رفیعۃ المصطفیٰ(ع) میں ’’اسلامی معاشرے میں اجتماعی امید کی تجدید میں سیرتِ نبوی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا: امید انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے ہے اور بزرگانِ دین اور اولیائے الٰہی نے بھی اس امر پر تاکید فرمائی ہے۔
انہوں نے امید اور پُرامیدی کو تمام انبیاء کرام اور اولیائے الٰہی کی مشترکہ سیرت اور نمایاں فضیلت قرار دیتے ہوئے کہا: انبیاء اور اولیائے الٰہی ان بدخواہوں کے مقابلے میں، جن کی سب سے بڑی کوشش معاشرے بالخصوص نوجوانوں اور کم عمر افراد میں ناامیدی کے بیج بونا رہی ہے، امید آفرینی کو دشمنوں کی بدخواہی کا مقابلہ کرنے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ رہبرِ شہید (رہ) نے بھی اسی سیرت پر تاکید فرمائی۔

مدرسہ علمیہ رفیعۃ المصطفیٰ کے استاد نے مزید کہا: امید پسندی، بے مقصد زندگی اور کھوکھلے پن کے مقابلے میں ہے۔ امید؛ باطنی سلامتی، افسردگی اور بے انگیزگی کے مقابلے میں روحانی بلندی اور سستی کے مقابلے میں جسمانی صحت کی علامت ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین قنادی نے کہا: امید خصوصاً جنگ کے زمانے میں معاشرے میں توازن پیدا کرتی ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ "اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو"۔ یہ تمام بندگانِ خدا کے لیے عمومی خطاب ہے۔ امید انسان میں نشاط اور جسمانی صحت کا باعث بھی بنتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: امید اور پُرامیدی کا اعلیٰ ترین نمونہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت، ائمہ معصومین علیہم السلام اور اولیائے الٰہی کی زندگی میں نمایاں ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول احادیث میں آیا ہے کہ "امید اور آرزو میری امت کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور اگر یہ امید اور آرزو نہ ہوتی تو کوئی ماں اپنے بچے کو دودھ نہ پلاتی اور کوئی کسان درخت نہ لگاتا"۔
مدرسہ علمیہ رفیعۃ المصطفیٰ کے استاد نے کہا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی اگرچہ ابتدا ہی سے یتیمی اور مشکلات کے ساتھ شروع ہوئی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امید اور خدا پر یقین کے ساتھ دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا۔









آپ کا تبصرہ