ہفتہ 29 اگست 2026 - 19:51
رسول اکرم (ص) کی عظمت و حرمت کا دفاع ہماری ذمہ داری ہے

علامہ شبیر حسن میثمی کا خطبۂ جمعہ سے خطاب:

رسول اکرم (ص) کی عظمت و حرمت کا دفاع ہماری ذمہ داری ہے

شانِ رسالت میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں، سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ ایمان کو مضبوط کرتا ہے

حوزہ / علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا: اللہ تعالیٰ انسانیت سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور اسی محبت کا تقاضا ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء علیہم السلام مبعوث کیے گئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس کراچی میں نماز جمعہ کے خطبے میں کہا: اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا اور خاتم الانبیاء والمرسلین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ائمہ معصومین علیہم السلام کو ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا۔ دین کے معاملے میں جبر نہیں بلکہ انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی اور شعور کے ساتھ دین کو قبول کرے۔

انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ انسانیت سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور اسی محبت کا تقاضا ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء علیہم السلام مبعوث کیے گئے۔ خاتم الانبیاء والمرسلین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے ذریعے سلسلہ نبوت مکمل ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ائمہ معصومین علیہم السلام ہدایت کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہیں۔

خطیبِ جمعہ نے کہا: کائنات کی بہت سی مخلوقات کی ہدایت جبری ہے، لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے اختیار عطا کیا ہے۔ انسان کے لیے قبولِ دین یا ردِ دین کا معاملہ اس کے اختیار میں رکھا گیا ہے اور جب تک انسان اپنی مرضی سے دین کو قبول نہ کرے اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت سے لے کر بعثت اور ہجرت تک زندگی کے مختلف مراحل ہمارے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعثت سے قبل چالیس سال تک اپنے کردار، اخلاق، گفتار اور رفتار کے ذریعے معاشرے میں ایسا مقام حاصل کیا کہ لوگ آپ کو صادق و امین کے لقب سے یاد کرتے تھے۔

رسول اکرم (ص) کی عظمت و حرمت کا دفاع ہماری ذمہ داری ہے

انہوں نے کہا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت و شخصیت کو ایسے منابع سے سمجھنا چاہیے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور مقامِ رسالت کو صحیح طور پر بیان کرتے ہوں۔ انہوں نے نوجوانوں کو تاکید کی کہ سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے مختلف مکاتب فکر کے علماء کی کتب کا مطالعہ کریں اور سنجیدگی سے ان کا تقابلی جائزہ لیں تاکہ مقامِ رسالت اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحیح معرفت حاصل ہو سکے۔

علامہ شبیر میثمی نے کہا: شانِ رسالت میں کسی بھی قسم کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا: ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور چودہ معصومین علیہم السلام مقامِ عصمت پر فائز ہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و حرمت کا دفاع ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اہل بیت علیہم السلام سے سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: اس سے توحید، رسالت اور امامت کے بارے میں صحیح فہم پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اصحابِ کرام ہمارے لیے قابل احترام ہیں اور ان کی عظمت اپنی جگہ مسلم ہے تاہم مقامِ عصمت انبیاء علیہم السلام اور اہل بیت علیہم السلام سے متعلق ہمارے بنیادی عقیدے کا حصہ ہے۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے خطبہ جمعہ کے دوسرے حصے میں اسلام آباد کے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا: واقعے کے بعد بعض حکومتی اہلکاروں کا متاثرہ خاندانوں کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ اور نامناسب رویہ مزید افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا: جن ماؤں کے بچے اس سانحے میں جاں بحق ہوئے ہوں ان کے ساتھ بدتمیزی کسی صورت قابل قبول نہیں۔

خطیبِ جمعہ نے کہا: مسلمان مظلوموں کی حمایت سے غافل نہ ہوں۔ فلسطین اور لبنان میں ہونے والی شہادتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہر انسان کی ذمہ داری ہے اور سوشل میڈیا بھی اس حوالے سے ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا: اگر انسان اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے حق کے راستے پر کھڑا ہو تو اللہ اس کی مدد فرماتا ہے۔ انہوں نے کہا: ظلم اور جبر ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتے اور ظالم کو بالآخر اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے عالمی سطح پر جاری کشیدگی، اقتصادی پابندیوں اور مختلف ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ان حالات کا سب سے زیادہ نقصان عام انسان کو اٹھانا پڑتا ہے۔ دنیا کو جنگ، ظلم اور ناانصافی کے بجائے انسانیت کے تحفظ اور مظلوموں کی حمایت کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ آج دنیا کے مختلف خطوں میں انسان مشکلات کا شکار ہے اور ہمیں اس صورتحال پر خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے مومنین پر زور دیا کہ وہ مظلوموں کی حمایت میں اپنی استطاعت کے مطابق آواز بلند کریں اور ظالم کے خلاف کھڑے ہوں۔

آخر میں علامہ شبیر حسن میثمی نے مومنین سے اپیل کی کہ اسکول کھلنے کے بعد ایسے بچے جو تعلیمی اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ان کی مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا: اپنے رشتہ داروں اور محلوں میں ایسے ضرورت مند بچوں کا جائزہ لیں اور اگر براہ راست معلومات نہ ہوں تو ان اداروں کے ساتھ تعاون کریں جو مستحق بچوں کی تعلیم کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha