تحریر: ڈاکٹر مولانا ذوالفقار حسین کامٹوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
شہادت ایک ایسا چراغ ہے جو ظلم کی آندھیوں سے نہیں بجھتا، ایک ایسا اجالا ہے جو اندھیروں کو ضیاء دیتا ہے، شہادت آسمان عظمت کا ایسا درخشاں ستارہ ہے جس کی ضو فشانی سے آسمان فخرومباہات کی محفل سجاتا ہے۔خورشید تاباں شہادت کے لہو سے اپنی پیشانی کو سرخرو کرتا ہے دریائے فضلیت بھی شہادت کو غسل دینے کے لئے سبقت کی صف میں کھڑا ہے کوہ ہمالیہ سے بھی شہادت کاقد بلند و بالا ہے خوشبوئے شہادت کائنات میں مہک کر جذبہء ولا کو نشاط کی وادی سے ہم کنار کررہی ہے شہادت کا درجہ اسلام میں معراج کی منزلوں کو طے کررہاہے قرآن مجید نے بھی شہادت کو ایک الگ رخ سے بیان فرمایا ہے : { وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِینَ قُتِلُوا۟ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ أَمۡوَ ٰتَۢاۚ بَلۡ أَحۡیَاۤءٌ عِندَ رَبِّهِمۡ یُرۡزَقُونَ } ( سورۂ آل عمران، آیت 169 ) اور خبردار راہ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پارہے ہیں ۔
پروردگار عالم نے اس خیال پر شدت سے تنبیہ کی کہ شہداء راہ خدا کو مردہ خیال بھی نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور حقیقتاً زندہ ہیں کہ رزق بھی پارہے ہیں فضل و کرم و نعمت آلہی سے بھی بہرہ ور ہیں اپنے ساتھیوں کا انتظار بھی کررہے ہیں اور خوف و حزن سے پاک و پاکیزہ بھی ہیں ۔ ان کے جذبہء جہاد پر زخموں کااثر نہیں ہوتا اور ہر حال میں خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے ہیں دشمن کے لشکر عظیم کی خبر ملتی ہے تو خدا کی طاقت کا حوالہ دیتے ہیں اور خدا کے لئے جیتے ہیں اور اسی کی راہ میں مرجاتے ہیں ۔ (تفسیر انوار القرآن، علامہ ذیشان حیدر جوادی مرحوم، ص 177) ابن مسعود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: خدانے شہدائے احد کی ارواح کو خطاب کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ تمہاری کیا آرزو ہے تو انہوں نے کہا : پروردگار ہم اس سے زیادہ کیا آرزو کرسکتے ہیں کہ ہم ہمیشہ کی نعمتوں میں مستغرق ہیں اور تیرے عرش کے سائے میں رہتے ہیں، ہمارا تقاضا صرف یہ ہے کہ دوبار دنیا کی طرف پلٹ جائیں اور پھر سے تیری راہ میں شہید ہوں ۔ اس پر خدا نے فرمایا: میرا پختہ فیصلہ ہے کہ کوئی شخص دوبار دنیا کی طرف نہیں پلٹے گا انہوں نے عرض کیا: جب ایسا ہی ہے تو ہماری تمنا ہے کہ ہمارا سلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا دے ، ہمارے حالات ہمارے پسماندگان کو بتا دے اور انہیں ہماری حالت کی بشارت دے تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو ۔( تفسیر نور الثقلین، ج 1،ص409 )
مذکورہ آیہء کریمہ ان افکار پر خط بطلان کھینچ دیتی جو شہیدوں کو مردہ خیال کرتے ہیں اور یہ آیت شہداء کے بلند مقام کو روز روشن کی طرح بیان کرتی ہے ۔اسلام نے شہداء کو جو مقام و منزلت دی ہے وہ بےنظیر ہے اسلام کا وہ لشکر جس میں کثرت کا گھمنڈ نہیں تھا اور نہ اقلیت پر مایوسی تھی وہ مختصر بھی ہوتے ہیں تو بڑی بڑی طاقتوں کے مقابلے میں ایمان کی طاقت کے ساتھ نبردآزما ہوجاتے ہیں وہ ابوسفیان جیسوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتے ہیں آج کے بھی ابوسفیان و یزید؛ (امریکہ واسرائیل) کے مقابلے میں ایران ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے یہ جذبہ کہاں سے آیا یہ اس اسلام ناب نے جرات دی جس نے کل کربلا میں شہید دیے تھے اور ایران نے بھی شہادت کا جام پیا جس میں سب سے عظیم شہادت، شہید آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی تھی دنیائے اسلام اس عظیم شہادت کو حیرت انگیز طریقہ سے دیکھتے رہ گئی کیونکہ انھوں نے صرف قول پر اکتفا نہیں کیا بلکہ شہید ہوکر اسلام میں،عمل کی وہ زندہ مثال بن گئے جنھوں نے اسلام کے لئے شہادت کو انتخاب کیا اور دنیا والوں کو پیغام دیا کہ اسلام لقلقہء زبانی کا نام نہیں ہے بلکہ عمل کا نام ہے ۔
اختتام میں ایک روایت جو مقام شہداء کو اجاگر کرتی ہے نقل کرتے ہیں ۔ امام علی رضا علیہ السلام امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام خطبہ دے رہے تھے اور لوگوں کو جہاد کا شوق دلا رہے تھے اس دوران ایک نوجوان کھڑا ہوگیا اس نے عرض کیا: اے امیر المومنین! مجھ کو راہ خدا میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت بیان فرمائیے ۔ امام نے جواب میں فرمایا: ایک دفعہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے سوار تھا ۔ہم جنگ ذات السلاسل سے واپس آ رہے تھے یہی سوال جو تو مجھ سے کیا ہے میں نے رسول اللہ! سے کیا تھا ، تو آپ نے فرمایا: جب مجاہد میدان جہاد میں شرکت کا پختہ ارادہ کرلیتے ہیں تو خداوند عالم جہنم سے آزادی ان کے لئے مقدر کردیتا ہے اور جب وہ ہتھیار اٹھا کر میدان جہاد کا رخ کرتے ہیں تو ملائکہ ان پر فخر کرتے ہیں اور جب ان کی بیوی، بچے، عزیز و اقارب انہیں الوداع کہتے ہیں تو وہ اپنے گناہوں سے آزاد ہوجاتے ہیں ۔۔۔پھر وہ جو بھی کام کرتے ہیں اس کا اجر دوگنا ہو جاتا ہے اور ہر دن کے بدلے ان کے لئے ہزار عابد کی عبادت کا اجر لکھا جاتاہے اور جب وہ دشمن کے آمنے سامنے ہوتے ہیں تو پورے عالم کے لوگ ان کے میزان ثواب کا اندازہ نہیں کرسکتے اور جب وہ میدان جنگ میں قدم رکھتے ہیں، نیزہ اور تیر کا تبادلہ ہونے لگتا ہے اور پھر دست بدست لڑائی شروع ہو جاتی ہے تو فرشتے اپنے بال و پر سے انھیں گھیر لیتے ہیں اور خدا سے میدان میں ان کی ثابت قدمی کی دعا کرتے ہیں اس وقت ایک منادی آواز دیتا ہے : الجنۃ تحت ظلال السیوف یعنی جنت تلواروں کے سائے میں ہے ۔ اس وقت شہید کے جسم پر دشمن کے وار زیادہ آسان اور گرمیوں میں ٹھنڈا پانی پینے سے زیادہ خوشگوار ہوتے ہیں اور جب شہید اپنی سواری سے لوٹتا ہوا گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے حوران جنت اس کے استقبال کو آتی ہیں اور اسے ان تمام عظیم روحانی و مادی نعمتوں کی خبر دیتی ہیں جو خداوند متعال نے اس کے لئے فراہم کر رکھی ہیں اور جب زمین پر گرچکتا ہے تو زمین کہتی ہے : آفرین ہے پاکیزہ روح کے لئے جو پاکیزہ بدن سے پرواز کررہی ہے، تیرے لئے خوشخبری ہے " تیرے انتظار میں ایسی نعمتیں ہیں جنہیں کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہے نہ کسی کان نے ان کے بارے میں سنا ہے اور نہ کسی دل میں ان کا خیال آیا ہے " نیز خدا فرماتا ہے: میں اس کے پسماندگان کا سرپرست ہوں ، جو کوئی انہیں خوش کرے گا اس نے مجھے خوش کیا اور جو انہیں ناراض کرے گا اس نے مجھے ناراض اور غضب ناک کیا۔ (تفسیر مجمع البیان، ذیل آیہ مذکورہ)









آپ کا تبصرہ