حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ مشہد اور خراسانِ رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندے آیت الله سید احمد علم الہدیٰ نے آج امام رضاؑ کی شہادت کی مناسبت سے منعقدہ مجلسِ عزاء سے خطاب کیا۔ یہ تقریبات روضۂ امام رضاؑ کے رواقِ امام خمینیؒ میں زائرین اور خادمین کی بڑی تعداد کی موجودگی میں منعقد ہوئیں۔

انہوں نے امام رضاؑ کی شہادت کی مناسبت سے تعزیت پیش کرتے ہوئے امام کی شہادت کے تاریخی اور اعتقادی پہلوؤں کی وضاحت کی۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے روضۂ رضوی میں زائرین اور خادمین کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امام رضاؑ کے روضۂ مبارک کے جوار میں آپؑ کی عزاداری برپا کرنا اور آپؑ کی غربت و مظلومیت کے مصائب میں اشک بہانا، ان عظیم سعادتوں میں سے ہے جو زائرین اور خادمین کے نصیب میں آئی ہیں۔
انہوں نے یومِ شہادت امام رضاؑ کے موقع پر شہادت نامہ خوانی کی مجلس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امامِ ہشتمؑ کی شہادت ان واقعات میں سے ہے جن کا تاریخی، سیاسی اور اعتقادی پہلوؤں کی روشنی میں ازسرِنو جائزہ لینا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خاندانِ رسول (ص) میں دو عظیم ہستیوں کو «بضعۃ الرسول» کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور امام رضاؑ۔
خراسانِ رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندے نے وضاحت کی کہ بضعہ لفظ بضاعت سے نکلا ہے اور اس کے معنی سرمایہ کے ہیں۔ جب انسان کے وجود کے اس حصے کو، جو اس کی زندگی اور ہستی کا محور ہو، بضعہ کہا جائے تو اس سے اس حصے کی عظمت، اہمیت اور غیر معمولی مقام ظاہر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم (ص) نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو اپنی بضعہ قرار دیا، کیونکہ ولایت کی حفاظت اور صیانت کے لیے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی مجاہدت نے امتِ مسلمہ میں ولایت کے تسلسل کو برقرار رکھا اور مسئلۂ امامت کو مٹنے سے محفوظ رکھا۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے تاریخِ امامت میں امام رضاؑ کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امامِ ہشتمؑ کی زندگی میں بھی ولایت کے دفاع اور اس کی حفاظت کے حوالے سے ایک اہم تاریخی موڑ آیا۔ اگر مأمون کی سازشوں کے مقابلے میں امام رضاؑ کی تدبیر اور حکمتِ عملی موجود نہ ہوتی تو امامت و ولایت کا بنیادی عقیدہ ایک سنگین خطرے سے دوچار ہو سکتا تھا۔
مشہد کے امام جمعہ نے مأمون عباسی کی سیاسی حکمتِ عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مأمون اس حقیقت کو سمجھ چکا تھا کہ صرف ائمہؑ کو شہید کر دینے سے مسئلۂ امامت اور ولایت ختم نہیں ہوگا، کیونکہ امام کی شہادت عوام کے درمیان عقیدۂ امامت کو مزید پھیلا سکتی ہے۔ چنانچہ اس نے ایسی حکمتِ عملی اختیار کی جس کے ذریعے امام کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ خود امامت و ولایت کے بنیادی عقیدے کو بھی نشانہ بنایا جا سکے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے مزید کہا کہ مأمون کا اصل منصوبہ یہ تھا کہ امامت کو خلافت کے ساتھ اس طرح خلط کر دیا جائے کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور پیدا ہو جائے کہ امامت، خلافت کے علاوہ کوئی مستقل منصب نہیں۔ چونکہ خلافت بنی عباس کے اختیار میں تھی، اس لیے امامت کو بھی اسی سیاسی نظام کا حصہ سمجھا جانے لگے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے واضح کیا کہ اسی سازش کے تحت مأمون نے امام رضاؑ کو مدینہ سے خراسان منتقل کرنے کی کوشش کی۔ اس کا منصوبہ بظاہر یہ تھا کہ خلافت امام رضاؑ کے سپرد کر دی جائے اور امامؑ کے مقابلے میں مأمون کو ولی عہد اور جانشین قرار دیا جائے۔ اس طرح مأمون یہ دعویٰ کر سکتا تھا کہ امام رضاؑ کے بعد وہ نہ صرف خلافت کا حقدار ہے بلکہ امامت کے منصب کا بھی دعوے دار ہے۔ یوں وہ امامت کو خلافت سے الگ ایک الٰہی منصب کے طور پر باقی رکھنے کے تصور کو ہی ختم کرنا چاہتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مأمون نے اس سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک طویل منصوبہ ترتیب دیا تھا۔ امام رضاؑ کی شہادت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آپؑ کے مصائب مدینہ سے روانگی ہی کے وقت شروع ہوگئے تھے اور تقریباً دو سال چار ماہ تک جاری رہے۔
خراسانِ رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندے نے بتایا کہ امام رضاؑ ۲۵ ذی القعدہ ۲۰۰ ہجری کو مدینہ سے روانہ ہوئے اور صفر ۲۰۲ ہجری میں شہید ہوئے۔ اس اعتبار سے امامِ ہشتمؑ کی جبری ہجرت سے لے کر شہادت تک کا یہ پورا عرصہ آپؑ کی مظلومیت اور مصائب کے ایک طویل دور کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے مأمون کے وزیر فضل بن سہل کے امام رضاؑ کے نام خط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس خط میں لکھا گیا تھا کہ خلیفہ نے خلافت کو اس کے حقیقی حقدار کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور امام رضاؑ سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ مدینہ سے خراسان تشریف لا کر مسلمانوں کی حکومت کی ذمہ داری سنبھالیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مأمون نے امام رضاؑ کو خراسان منتقل کرنے کے لیے رجاء بن ابی ضحاک کو مامور کیا، جو اس سے قبل مدینہ میں حکومتی ذمہ داریوں پر فائز رہ چکا تھا اور عوام کے ساتھ سخت اور پُرتشدد رویے کے لیے معروف تھا۔
مشہد کے امام جمعہ نے کہا کہ رجاء بن ابی ضحاک کا انتخاب خود اس بات کی علامت تھا کہ یہ محض ایک معمول کی دعوت نہیں تھی، بلکہ ایک حکومتی مشن تھا جس کا مقصد امام رضاؑ کو مدینہ سے خراسان منتقل کرکے حکومتی نگرانی اور کنٹرول میں رکھنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مأمون نے اہلِ مدینہ کے درمیان یہ تاثر بھی پھیلانے کی کوشش کی کہ امام رضاؑ خلافت قبول کرنے کے لیے خراسان جا رہے ہیں، جس کی خبر سن کر لوگ خوش ہوئے۔ لیکن امام رضاؑ اس سفر کے حقیقی انجام سے آگاہ تھے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے امام رضاؑ کے رسولِ اکرم (ص) کی قبرِ اطہر سے آخری وداع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپؑ نے اپنے جدِ بزرگوار سے رخصت ہوتے وقت ایک خاص کیفیت میں، اشکبار آنکھوں کے ساتھ الوداع کیا۔ آپؑ جانتے تھے کہ انہیں اپنے جدِ گرامی کے جوار سے دور کیا جا رہا ہے، سرزمینِ غربت میں شہید کیا جائے گا اور ہارون کی قبر کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔
امام رضاؑ اپنی شہادت سے آگاہ تھے
آیت اللہ علم الہدیٰ نے مزید کہا کہ مدینہ سے روانگی کے وقت امام رضاؑ حضرت امام جوادؑ، جو اس وقت تقریباً سات سال کے تھے، کو اپنے ساتھ قبرِ رسولِ اکرم (ص) پر لے گئے اور انہیں اپنے جدِ بزرگوار کے سپرد کیا۔
خراسانِ رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندے نے بتایا کہ امامِ ہشتمؑ نے اپنے وکلا اور خدمت گزاروں کو بھی واضح طور پر فرما دیا تھا کہ ان کے بعد امام جوادؑ ہی ان کے مرجع اور رہنما ہوں گے، لہٰذا سب کو آپؑ کے احکامات کی پیروی کرنی ہوگی۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے امام رضاؑ کی روانگی کے وقت مدینہ کے ماحول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ مدینہ اس خیال سے آپؑ کو الوداع کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے کہ امام رضاؑ خلافت قبول کرنے کے لیے خراسان جا رہے ہیں۔ لیکن اچانک امامؑ کے گھر سے گریہ و آہ و بکا کی آوازیں بلند ہوئیں اور شہر کی خوشی سوگ میں بدل گئی۔
انہوں نے کہا کہ امام رضاؑ نے اپنے اہلِ خانہ کو حکم دیا تھا کہ ان کی جدائی میں بلند آواز سے گریہ کریں، کیونکہ آپؑ اس سفر کو واپسی کا سفر نہیں سمجھتے تھے۔ آپؑ جانتے تھے کہ مأمون انہیں مدینہ سے شہادت کے لیے لے جا رہا ہے۔
امام جمعۂ مشہد نے مزید کہا کہ امام رضاؑ کے اہلِ خانہ کے شدید گریہ و غم نے اہلِ مدینہ کو اس سفر کی حقیقت سے آگاہ کر دیا اور روانگی کی وہ تقریب، جو بظاہر خوشی اور الوداع کے لیے تھی، اچانک عزاداری اور سوگ کے منظر میں تبدیل ہوگئی۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے امام رضاؑ کے سفر کے اگلے مراحل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مدینہ میں یہ کیفیت پیدا ہونے کے بعد امامِ ہشتمؑ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ مناسکِ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ تشریف لے گئے اور پھر خراسان کی جانب روانہ ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مأمون کے کارندے اس بات کی کوشش کر رہے تھے کہ امام رضاؑ اہم شیعہ مراکز سے گزر نہ سکیں اور شیعیان و عوام سے وسیع پیمانے پر رابطہ قائم نہ کریں۔ اسی لیے امامؑ کے سفر کا راستہ اس انداز سے مقرر کیا گیا کہ آپؑ قم، رے اور کوفہ جیسے اہم شہروں سے نہ گزریں۔
خراسانِ رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندے نے امام رضاؑ کی بصرہ آمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب اہلِ بصرہ کو امامِ ہشتمؑ کی شہر کے قریب آمد کا علم ہوا تو وہ آپؑ کی زیارت اور ملاقات کے لیے راستے میں جمع ہوگئے۔ مأمون کے کارندوں نے امامؑ کو لوگوں سے دور رکھنے کی کوشش کی، لیکن جب امام رضاؑ نے لوگوں کا اجتماع دیکھا تو خود ان کی جانب تشریف لے گئے۔
انہوں نے امام رضاؑ کی نیشاپور آمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امامِ ہشتمؑ خفیہ طور پر نیشاپور میں داخل ہوئے اور چند روز وہاں قیام فرمایا۔ لیکن جب اہلِ شہر کو آپؑ کی موجودگی کا علم ہوا تو کاروان کی روانگی کے وقت لوگ بڑی تعداد میں اطراف میں جمع ہوگئے۔
حدیثِ سلسلۃ الذہب؛ توحید اور ولایت کا باہمی ربط
آیت اللہ علم الہدیٰ نے نیشاپور میں امام رضاؑ کے فقید المثال استقبال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب ہودج کا پردہ ہٹا اور امامِ ہشتمؑ کا چہرۂ مبارک لوگوں کے سامنے آیا تو عقیدت مندوں پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ شدتِ شوق سے اشکبار ہوگئے اور امامؑ سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرنے لگے۔
انہوں نے کہا کہ نیشاپور کے علما اور محدثین نے امام رضاؑ سے درخواست کی کہ انہیں کوئی حدیث بیان فرمائیں۔ امامؑ نے حدیثِ سلسلۃ الذہب نقل فرمائی، جس میں توحید کو اللہ تعالیٰ کے مضبوط قلعے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
مشہد کے امام جمعہ نے مزید کہا کہ امام رضاؑ نے حدیث کے تسلسل میں ولایت کو توحید کی شرط قرار دیا اور یوں مسئلۂ ولایت و امامت کو توحید کے ساتھ جوڑ دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حدیثِ سلسلۃ الذہب کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ توحید اپنے دینی اور اجتماعی تقاضوں کی تکمیل کے لیے ولایت کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ امامِ ہشتمؑ نے اس حدیث کے ذریعے لوگوں کے سامنے توحید اور ولایت کے گہرے باہمی تعلق کو واضح فرمایا۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے نیشاپور کے بعد امام رضاؑ کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امامؑ نیشاپور سے سناباد کی جانب روانہ ہوئے اور راستے میں دہ سرخ کے مقام پر قیام فرمایا جہاں نماز ادا کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخی روایات کے مطابق اس مقام پر امام رضاؑ کے لیے ایک چشمہ جاری ہوا۔ آپؑ نے اس کے پانی سے وضو کیا اور نماز ادا فرمائی۔ آج بھی یہ مقام مقامِ امام رضاؑ کے نام سے معروف ہے۔
خراسانِ رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندے نے کہا کہ امامِ ہشتمؑ دہ سرخ کے بعد سناباد پہنچے۔ اس زمانے میں یہاں حمید بن قحطبہ کا باغ موجود تھا اور اسی علاقے میں ہارون بھی دفن تھا۔
انہوں نے بارگاہِ رضوی کی موجودہ عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امام رضاؑ کو اسی مقام پر دفن کیا گیا، اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ جگہ شیعیانِ اہلِ بیتؑ اور محبانِ خاندانِ رسالت کے لیے زیارت اور اجتماع کا عظیم مرکز بن گئی۔
مأمون کی سازش اور ولایتِ عہدی
آیت اللہ علم الہدیٰ نے مرو میں مأمون کی امام رضاؑ سے پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مأمون نے حکومتی عہدیداروں کی موجودگی میں ایک مجلس منعقد کرکے اعلان کیا کہ خلافت امام رضاؑ کا حق ہے اور وہ یہ خلافت آپؑ کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔
امام رضاؑ نے مأمون کی اس چال کو ناکام بناتے ہوئے فرمایا کہ اگر خلافت اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حق ہے تو مأمون کو یہ اختیار نہیں کہ اسے کسی دوسرے کے حوالے کرے، اور اگر یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حق نہیں تو پھر مأمون خود بھی اس کا مالک نہیں کہ اسے کسی اور کو عطا کر سکے۔
مشہد کے امام جمعہ نے کہا کہ خلافت کی منتقلی کی سازش ناکام ہونے کے بعد مأمون نے امام رضاؑ کو ولی عہد بنانے کی پیشکش کی۔ امامؑ نے واضح فرمایا کہ وہ یہ منصب مجبوری اور جبر کے تحت قبول کر رہے ہیں، جس سے اس اقدام کی سیاسی حقیقت اور مأمون کی سازش بے نقاب ہوگئی۔
مأمون کا خوف اور امامؑ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت
آیت اللہ علم الہدیٰ نے کہا کہ کچھ عرصے بعد مأمون کو احساس ہوا کہ خراسان میں امام رضاؑ کی موجودگی اس کی حکومت کو مضبوط کرنے کے بجائے امامؑ کی مقبولیت اور روحانی اثر و رسوخ میں اضافہ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مأمون نے ابتدا میں امام رضاؑ کو عوام میں مقبول ظاہر کرنے کی کوشش کی، لیکن جب اس نے آپؑ کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو دیکھا تو لوگوں سے آپؑ کے روابط محدود کر دیے اور ایسے اہلکار مقرر کیے جو امامؑ کی آمد و رفت پر نظر رکھیں اور شیعیان کو آپؑ سے ملاقات سے روکیں۔
خراسانِ رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندے نے مزید کہا کہ مأمون نے امام رضاؑ کو راستے سے ہٹانے کے لیے متعدد سازشیں کیں، جن میں سے بعض اللہ کی عنایت سے ناکام رہیں، لیکن بالآخر اس نے امامؑ کو زہر دے کر شہید کر دیا۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے امام رضاؑ کی زندگی کے آخری لمحات سے متعلق روایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امامِ ہشتمؑ اپنی شہادت کے قریب آنے سے آگاہ تھے اور پہلے ہی فرما چکے تھے کہ مأمون انہیں زہر دے کر شہید کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخی روایات کے مطابق مأمون نے زہر آلود غذا کے ذریعے امام رضاؑ کو مسموم کیا، جس کے نتیجے میں آپؑ نے شدید درد و تکلیف برداشت کرنے کے بعد جامِ شہادت نوش فرمایا۔
انہوں نے کہا کہ امام رضاؑ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی اپنے اطراف موجود افراد اور غلاموں کا خیال رکھا اور انہیں کھانا کھانے کی تاکید فرمائی۔ یہ آپؑ کی رأفت، شفقت اور کریمانہ اخلاق کی وہ جھلک تھی جو شہادت کے آخری لمحات میں بھی نمایاں رہی۔
امام جوادؑ کی آمد اور شہادتِ امام رضاؑ
مشہد کے امام جمعہ نے امام جوادؑ کی اپنے والدِ گرامی کے آخری لمحات میں موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام جوادؑ کم سنی کے باوجود اللہ کے اذن اور ارادے سے اپنے والدِ بزرگوار کے پاس پہنچے اور امام رضاؑ کی غسل و کفن کی ذمہ داری انجام دی۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے آخر میں کہا کہ امام رضاؑ نے غربت اور مظلومیت کی حالت میں شہادت پائی اور آپؑ کے پیکرِ اطہر کو سناباد میں ہارون کی قبر کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔
زنانِ نوغان؛ امام رضاؑ سے والہانہ محبت کی ایک لازوال روایت
آیت اللہ علم الہدیٰ نے امام رضاؑ کے پیکرِ مطہر کی تشییعِ جنازہ کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مأمون نے کوشش کی کہ امامِ ہشتمؑ کی تشییعِ جنازہ عام اور عوامی انداز میں نہ ہو۔ اس نے حکم دیا کہ آپؑ کے جسدِ اطہر کو مخصوص حالات میں، لوگوں کی وسیع شرکت کے بغیر، منتقل کرکے دفن کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں نوغان کی خواتین امام رضاؑ کے جنازے میں شرکت کے لیے نکل پڑیں۔ رکاوٹوں کے باوجود وہ کاروان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں اور امامِ مظلومؑ کی مصیبت میں سوگ مناتے ہوئے عزاداری کی۔
خراسانِ رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندے نے کہا کہ نوغان کی ان خواتین کی یہ تاریخی محبت آج بھی مشہد کی اجتماعی ثقافت میں زندہ ہے۔ آج بھی مشہد میں تشکلِ زنانِ نوغان اسی تاریخی جذبۂ محبت سے الہام لیتے ہوئے مجالسِ عزا اور مختلف سماجی و ثقافتی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔
زیارتِ امام رضاؑ؛ ولایت اور شفاعتِ اہلِ بیتؑ سے وابستگی
آیت اللہ علم الہدیٰ نے زیارتِ امام رضاؑ کے مقام و مرتبے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر وہ زائر جو امامِ ہشتمؑ کے روضۂ مطہر کی زیارت کے لیے حاضر ہوتا ہے، اسے چاہیے کہ یہ زیارت معرفت، محبت اور خلوصِ عقیدت کے ساتھ انجام دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نمازِ زیارت، زائر کی جانب سے امام رضاؑ کی خدمت میں ایک ہدیہ ہے، لہٰذا زیارت کے بعد نمازِ زیارت ادا کرنا نہایت شائستہ اور مستحسن عمل ہے۔
مشہد کے امام جمعہ نے کہا کہ لاکھوں زائرین کا مشہد میں حاضر ہونا اور امام رضاؑ کے مرقدِ مطہر کی زیارت کرنا اسی وعدے کے تسلسل کی علامت ہے جس کی طرف امامِ ہشتمؑ نے اشارہ فرمایا تھا کہ یہ سرزمین شیعیان اور محبانِ اہلِ بیتؑ کی آمد و رفت اور زیارت کا مرکز بن جائے گی۔









آپ کا تبصرہ