حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صوبۂ مرکزی میں نمائندہ ولی فقیہ آیت الله قربانعلی دری نجف آبادی نے امام رضاؑ کی شہادت کے روز اراک میں مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے آج کی نسل تک اہل بیتؑ کی خالص معارف پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا اور امرِ اہل بیتؑ کو زندہ کرنا آج کا سب سے اہم فریضہ قرار دیا۔
انہوں نے رسول اکرم (ص) کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسلامِ ناب محمدی کی حفاظت اور حوزہ ہائے علمیہ کے ذریعے اہل بیتؑ کی تعلیمات کو نسلِ نو تک منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
آیت الله دری نجف آبادی نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام سجادؑ، امام باقرؑ اور امام صادقؑ کے مکتب کے تمام شاگرد، نیز شیخ انصاری اور میرزائے قمی جیسے عظیم علماء درحقیقت علومِ اہل بیتؑ کے جوشاں چشمے تھے اور حوزہ ہائے علمیہ اس بے مثال علمی خزانے کے وارث ہیں۔
نمائندۂ ولی فقیہ نے مرکزی صوبے میں امرِ اہل بیتؑ کو زندہ کرنا اسلامی معاشرے کا آج کا سب سے اہم فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر لوگ اہل بیتؑ کے خالص معارف کو پہچان لیں تو وہ کبھی صہیونی حکومت، امریکہ، داعش اور منافقین جیسے دشمنوں کی کھوکھلی اور بے بنیاد باتوں کے پیچھے نہیں جائیں گے اور نہ ہی دشمنوں کے ریڈیو سنیں گے۔ اہل بیتؑ کی معرفت، دشمنوں کی ثقافتی یلغار کے مقابلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے علامہ حلی، علامہ طباطبائی، شہید مدرس، امام خمینیؒ، آیت اللہ بروجردی اور آیت اللہ اراکی جیسے تشیع کی تاریخ کے عظیم علماء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں تاریخ ساز شخصیات اور اسلامی معاشرے کے ستون قرار دیا اور معاشرے کی رہنمائی میں حوزہ ہائے علمیہ کے کردار کو بے مثال اور انتہائی اہم قرار دیا۔
آیت الله دری نجف آبادی نے مرکزی صوبے میں حوزہ ہائے علمیہ کی توسیع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ عوامی تعاون سے خواہر اور برادر طلبہ کے لیے دینی مدارس کی تعمیر اور توسیع جاری ہے۔ انہوں نے کہا: حوزہ ہائے علمیہ کے بانی خود اہل بیتؑ ہیں اور آج ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نورانی راستے کو پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھائیں۔
انہوں نے 1342 ہجری شمسی میں طلبہ کی تعداد پانچ ہزار ہونے سے لے کر آج کے حالات تک حوزہ ہائے علمیہ میں ہونے والی نمایاں ترقی کا ذکر کرتے ہوئے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ پہلے سے بڑھ کر حوزہ ہائے علمیہ کی حمایت کریں۔ انہوں نے مزید کہا: مرکزی صوبہ، آفتاب، فقاہت اور حکمت کا صوبہ ہے۔ طلبگی یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت؛ جو شخص اس راستے پر قدم رکھتا ہے، وہ پروردگار کے ساتھ تجارت میں سب سے بڑا نفع حاصل کرتا ہے۔
آیت الله دری نجف آبادی نے حضرت علی بن موسیٰ الرضاؑ کے دورِ امامت کی برکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام رضاؑ نے امام موسیٰ کاظمؑ کی شہادت کے بعد تقریباً 20 سال امامت فرمائی اور اس عرصے میں معارفِ رضوی کے چشمے پوری دنیا میں جاری کیے۔ آج مکتبِ رضوی کے شاگردوں اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان نورانی معارف کو حقیقت کے پیاسے انسانوں تک پہنچائیں۔
انہوں نے شہید سردار سلیمانی، شہید باقری اور شہید سلامی جیسے عظیم شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے امام خمینیؒ اور رہبرِ معظم کے راستے کو جاری رکھنے پر زور دیا اور دینی تعلیمات کی روشنی میں ہر دور اور ہر نسل میں امرِ اہل بیتؑ کو زندہ رکھنے کی ضرورت پر تاکید کی۔
انہوں نے آخر میں یاد دلایا کہ فتنوں اور گمراہی کے گرداب سے نجات کا واحد راستہ اہل بیتؑ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔









آپ کا تبصرہ