حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت امام علی بن موسیٰ الرضاؑ کی شہادت کی مناسبت سے مشہد مقدس کی جانب جانے والے تمام راستوں پر لاکھوں عزاداروں اور اہل بیت علیہم السلام کے عقیدت مندوں کا ہجوم ہے۔
گزشتہ شب سے ہی اور آج اول صبح سے ایران کے مختلف علاقوں سے آنے والے زائرین، ماتمی انجمنوں اور سینہ زنی و زنجیر زنی کے جلوسوں نے حرم امام رضاؑ کا رخ کیا، جس کے باعث مشہد مقدس کی فضا سوگ اور ماتم میں ڈوب گئی۔
اس موقع پر علما، حوزات علمیہ کے اساتذہ، طلبہ اور فضلا کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں اور مشہد سے حوزوی افراد پیدل قافلوں کی صورت میں ماتمی لباس پہن کر اور سیاہ پرچم اٹھائے حرم کی جانب رواں دواں ہیں۔ عزاداروں کے لبوں پر نوحہ خوانی کے ساتھ زیارت امین اللہ اور زیارت عاشورا کی تلاوت بھی جاری ہے۔
علما اور طلبہ کی عوام کے ساتھ بڑی تعداد میں شرکت، امام رضاؑ سے مؤمنین کی گہری عقیدت اور اتحاد و یکجہتی کی عکاسی کرتی ہے۔
دوسری جانب ماتمی انجمنوں، مخیر حضرات، خدام اور اہل ایمان کی جانب سے زائرین اور عزاداروں کی خدمت کے لیے شہر کے داخلی راستوں، حرم مطہر کے اطراف اور مختلف مقامات پر بڑی تعداد میں موکب قائم کیے گئے ہیں۔ ان موکبوں میں چائے، شربت، کھانے، رہائش اور دیگر رفاہی و ثقافتی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
زائرین کی غیر معمولی بھیڑ کے باعث ان اوقات میں حرم امام رضاؑ تک پہنچنے کا واحد ممکنہ راستہ پیدل چلنا ہے، کیونکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے جگہ نہیں ہے۔
حرم کی انتظامیہ، امدادی کارکنان، ہلال احمر اور گاڑیوں کی امدادی ٹیمیں بھی صبح سے حرم کی جانب جانے والے راستوں پر زائرین اور عزاداروں کو خدمات فراہم کرنے کے لیے موجود ہیں۔









آپ کا تبصرہ