جمعہ 4 ستمبر 2026 - 21:01

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علی پور/ مرکزی جامع مسجد مہدیہ، جامعہ علمیہ امام حسن عسکری، گھلواں علی پور میں 4 ستمبر 2026ء کو نماز جمعہ باجماعت ادا کی گئی، جس کی امامت حجۃ الاسلام والمسلمین محمد زکاء الحسن، فاضل حوزہ علمیہ قم و پرنسپل جامعہ علمیہ امام حسن عسکری گھلواں نے انجام دی۔

خطبۂ جمعہ کے پہلے حصے میں حجۃ الاسلام والمسلمین محمد زکاء الحسن نے تقویٰ الٰہی کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے کلماتِ حکمت کی روشنی میں مؤمن کی زندگی میں تقویٰ کے مقام کو واضح کیا۔ انہوں نے نہج البلاغہ کی حکمت نمبر 417 کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ تقویٰ انسان کی دینی اور اخلاقی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور ایک مؤمن کی حقیقی کامیابی اس بات سے وابستہ ہے کہ اس کی زندگی میں تقویٰ عملی طور پر نمایاں ہو۔

انہوں نے تاکید کی کہ تقویٰ صرف زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں بلکہ انسان کے کردار، اعمال اور روزمرہ زندگی میں اس کے آثار ظاہر ہونے چاہئیں۔ انسان کو اپنے ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور جواب دہی کو پیش نظر رکھنا چاہیے اور اپنے کردار و معاملات کو دینی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

مولانا محمد زکاء الحسن نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں انسان کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ انسان کی حقیقی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اپنے اعمال پر نظر رکھے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط بنائے۔ انہوں نے شرکائے نماز کو اپنی انفرادی زندگی میں تقویٰ، خود احتسابی اور دینی ذمہ داریوں پر توجہ دینے کی تاکید کی۔

جامعہ علمیہ امام حسن عسکری گھلواں میں نماز جمعہ کا انعقاد / تقویٰ الٰہی اور سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گفتگو

خطبۂ جمعہ کے دوسرے حصے میں مولانا محمد زکاء الحسن نے رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت، شخصیت اور اخلاق کو موضوعِ گفتگو قرار دیا۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیات اور احادیث و روایات کی روشنی میں سیرتِ نبویؐ کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ مسلمانوں کے لیے بہترین نمونۂ عمل ہے اور امت کو اپنی زندگی کے مختلف شعبوں میں آپؐ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

انہوں نے سیرتِ نبویؐ کے مطالعے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت صرف تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کے لیے عملی رہنمائی کا مکمل سرچشمہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ آپؐ کے اخلاق، کردار، طرزِ معاشرت اور انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔

مولانا محمد زکاء الحسن نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں جب معاشرہ مختلف اخلاقی اور سماجی چیلنجز سے دوچار ہے، سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حقیقی رہنمائی حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسلامی اخلاق و اقدار کو اپنائیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر نافذ کرنے کی کوشش کریں۔

جامعہ علمیہ امام حسن عسکری گھلواں میں نماز جمعہ کا انعقاد / تقویٰ الٰہی اور سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گفتگو

انہوں نے واضح کیا کہ ایک صالح معاشرے کی تشکیل صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ اس کے لیے اچھے اخلاق، باہمی احترام، ذمہ داری کا احساس، دوسروں کے حقوق کی رعایت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا شعور بھی ضروری ہے۔ انہوں نے شرکائے نماز کو دعوت دی کہ وہ تقویٰ اور سیرتِ نبویؐ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرتے ہوئے اپنے کردار اور معاشرے کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں۔

جامعہ علمیہ امام حسن عسکری گھلواں میں نماز جمعہ کا انعقاد / تقویٰ الٰہی اور سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گفتگو

خطبۂ جمعہ کے اختتام پر مسلمانوں کی دینی و اخلاقی تربیت، تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرنے اور سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عملی زندگی میں اپنانے کی ضرورت پر مزید زور دیا گیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha