حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خطبۂ جمعہ میں مولانا سید روح ظفر رضوی نے تقویٰ الٰہی، امام حسن عسکری علیہ السلام کی سیرت و تعلیمات، حقوق العباد، دوسروں کی مدد، زبان و سوشل میڈیا کے محتاط استعمال اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے مضبوط تعلق کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔
مولانا سید روح ظفر رضوی نے تقوائے الٰہی کو انسان کی بنیادی ذمہ داری، زندگی کا مقصد اور حقیقی کامیابی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان کے لئے تقویٰ سے بڑھ کر کوئی زیور نہیں۔ تقویٰ صرف مسجد، مجلس، امام بارگاہ یا عبادت گاہ تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ زندگی کے ہر مرحلے اور ہر معاملے میں اس کا اظہار ہونا چاہیے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا سید روح ظفر رضوی نے کہا کہ معصومین علیہم السلام ہماری زندگی کے لئے اسوہ اور نمونۂ عمل ہیں۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے مختصر عمر میں ایسی سیرت اور تعلیمات پیش کیں جو آج بھی کروڑوں انسانوں کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ اگر ائمہ معصومین علیہم السلام کی زندگی کو اپنی زندگی میں شامل کیا جائے تو دنیا بہتر، گھروں میں سکون، اخلاق میں بہتری اور عبادات میں روح پیدا ہوتی ہے، جبکہ آخرت بھی سنورتی ہے۔
انہوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں تقویٰ کے مختلف پہلو بیان کرتے ہوئے کہا کہ مشتبہ امور میں انسان کا اپنے آپ کو روک لینا تقویٰ کی علامت ہے۔ ہر معاملے کو بلا تحقیق حلال اور جائز سمجھ کر آگے بڑھنے کے بجائے جہاں شبہ ہو وہاں احتیاط اختیار کرنی چاہیے۔ اسی طرح سب سے بڑا عبادت گزار وہ ہے جو اپنے واجبات اور فرائض کی پابندی کرے۔ بعض اوقات انسان نوافل اور مستحبات کی ادائیگی میں تو بہت اہتمام کرتا ہے، لیکن اس دوران واجبات سے غفلت برتتا ہے، جو درست طرزِ عمل نہیں۔
مولانا سید روح ظفر رضوی نے کہا کہ تقویٰ کا ایک اہم تقاضا حرام سے مکمل اجتناب ہے۔ انسان کو یہ سوچ کر حرام کے قریب نہیں جانا چاہیے کہ بعد میں اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا۔ مومن کو ہر حال میں یہ احساس رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اور آخرت میں اسے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
مولانا سید روح ظفر نے عبادات اور زیارات کے عملی اثرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نماز، مجلس، عزاداری اور زیارت کا اثر انسان کے اخلاق و کردار میں ظاہر ہونا چاہیے۔ نماز انسان کو برائیوں سے روکے اور عزاداری انسان کے اندر مظلوم کی حمایت، حق کی پاسداری اور حقوق العباد کا احساس پیدا کرے۔ اگر کسی شخص کے ذمہ کسی کا قرض یا حق باقی ہو، کسی کی زمین، مال یا جائیداد پر ناجائز قبضہ ہو اور وہ حقوق ادا کئے بغیر زیارت کے لئے جائے تو اسے اپنے عمل کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
دوسروں کو فائدہ پہنچانے کو ایمان کی علامت قرار دیتے ہوئے مولانا سید روح ظفر رضوی نے کہا کہ مومن کو صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اسے دوسروں سے کیا فائدہ ملے گا بلکہ اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ دوسروں کے لئے کتنا مفید بن سکتا ہے۔ کسی پریشان حال شخص کو تسلی دینا، بیمار کی عیادت کرنا، ضرورت مند اور مقروض کی مدد کرنا، یتیموں کی سرپرستی کرنا اور دو مؤمنوں کے درمیان اختلاف ختم کرا کے صلح کرانا بھی بڑی نیکی ہے۔
مولانا سید روح ظفر رضوی نے زبان کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنی زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے۔ موجودہ دور میں زبان کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنی انگلیوں کی بھی حفاظت کرنا ضروری ہے، کیونکہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک شخص چند لمحوں میں ایسی بات سیکڑوں افراد تک پہنچا سکتا ہے جس کا اسے خود بھی یقین نہ ہو۔
مولانا سید روح ظفر رضوی نے سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہر خبر، ویڈیو یا پیغام کو بغیر تحقیق آگے بڑھانا ضروری نہیں۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، تہمت اور کسی کی عزت مجروح کرنے والا مواد پھیلانے سے اجتناب کیا جائے۔ سوشل میڈیا کو اصلاح، خیر اور لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ نفرت، اختلاف اور برائی پھیلانے کے لئے۔
انہوں نے دوسروں کے عیوب تلاش کرنے اور انہیں لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے بھی سختی سے منع کیا۔ کسی شخص کو سب کے سامنے نصیحت کرنا بعض اوقات اس کی اصلاح کے بجائے اس کی تذلیل کا سبب بن جاتا ہے، جبکہ تنہائی میں خیرخواہی اور محبت کے ساتھ سمجھانا اس کی عزت کو محفوظ رکھتے ہوئے اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔
مولانا سید روح ظفر رضوی نے والدین کو بھی تاکید کی کہ بچوں کو دوسروں کے سامنے ڈانٹنے یا ایک بچے کا دوسرے بچے سے موازنہ کرنے سے گریز کریں۔
مولانا سید روح ظفر رضوی نے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے مضبوط تعلق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دورِ غیبت میں مؤمن کی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زمانے کے امام سے حقیقی اور مضبوط رشتہ قائم کرے۔ انہوں نے کہا کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف سے تعلق صرف دعوے اور نعرے کا نام نہیں بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے گھر، اخلاق، معاملات، گفتگو اور روزمرہ زندگی کو اس انداز سے سنوارے کہ اگر امامؑ اس کی زندگی کا مشاہدہ کریں تو وہ اس سے راضی ہوں۔
انہوں نے خصوصاً نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنے موبائل فون کے استعمال، سوشل میڈیا پر گفتگو اور آن لائن سرگرمیوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ اگر ہماری زندگی کا بڑا حصہ ایسی سرگرمیوں میں گزر رہا ہے جن سے والدین، اہل خانہ اور معاشرے کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا یہ طرزِ زندگی امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی خوشنودی کا باعث بن سکتا ہے۔
مولانا سید روح ظفر رضوی نے 21 اگست 1969 کو مسجد اقصیٰ میں پیش آنے والے آتش زدگی کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فلسطین اور بیت المقدس کے حوالے سے مسلمانوں کی ذمہ داریوں پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت کے لئے قانونی، پرامن اور مؤثر ذرائع اختیار کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں بھی ظلم ہو رہا ہو، مظلوم کی حمایت اور ظالم کے خلاف آواز بلند کرنا ہماری دینی و انسانی ذمہ داری ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مظلوموں کی آواز ذمہ دار اداروں اور عالمی برادری تک پہنچائی جا سکتی ہے۔
مولانا سید روح ظفر رضوی نے کہا کہ دورِ غیبت میں ضرورت مندوں، غریبوں اور مظلوموں کی مدد کرنا اور ان کے حقوق کے لئے آواز اٹھانا بھی امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی رضایت حاصل کرنے کے اہم ذرائع میں شامل ہے۔









آپ کا تبصرہ