جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 15:29
تقویٰ دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے: مولانا نعمت علی

حوزہ/ جامع مسجد کشمیری گیٹ دہلی میں مولانا نعمت علی نے خطبۂ جمعہ میں دنیاوی زندگی کی ناپائیداری، آخرت کی دائمی زندگی، تقویٰ اور گناہوں سے اجتناب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامع مسجد کشمیری گیٹ دہلی میں 2 اکتوبر 2026 کو نمازِ جمعہ ادا کی گئی، جس کی امامت حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا نعمت علی نے کی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے دنیاوی زندگی کی ناپائیداری، آخرت کی دائمی زندگی، تقویٰ اور گناہوں سے اجتناب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

مولانا نعمت علی نے کہا کہ دنیا کی زندگی بہت مختصر جبکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، اس لیے عقلمند انسان کو چند روزہ دنیاوی زندگی کی خاطر اپنی ابدی آخرت کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انسان کی موجودہ زندگی کا ایک بڑا حصہ بے شعوری، تعلیم، روزگار، نیند اور دیگر ضروریات میں گزر جاتا ہے اور حقیقت میں اس کے پاس بہت کم وقت باقی رہتا ہے، لیکن اسی مختصر زندگی کے بدلے اللہ تعالیٰ نے ابدی جنت کا وعدہ کیا ہے۔ کوئی عقلمند انسان معمولی فائدے کے لیے بڑے نقصان کو قبول نہیں کرتا، اسی طرح مومن بھی دنیا کی عارضی لذتوں کے لیے اپنی آخرت کو تباہ نہیں کرتا۔

خطیبِ نماز جمعہ نے کہا کہ دنیاوی زندگی مختلف پریشانیوں سے بھری ہوئی ہے، اس کے باوجود انسان اسی دنیا کو حاصل کرنے کے لیے اپنی آخرت کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں اگر کوئی سب سے خوبصورت اور سکون بخش لمحہ ہے تو وہ وقت ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا ہوتا ہے، بالخصوص سجدے کی حالت میں۔

مولانا نعمت علی نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بڑھاپا، بیماری، کمزوری اور دنیاوی پریشانیوں کا کوئی تصور نہیں ہوگا۔ انسان ہمیشہ جوانی اور خوبصورتی کی حالت میں رہے گا اور اس کی جائز خواہشات پوری ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ چند سالہ دنیاوی زندگی کے بدلے ابدی جنت ملنا ایسا عظیم معاملہ ہے جس کی حفاظت ہر مومن کو کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جنت کی تمام نعمتوں میں سب سے بڑا انعام اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی طرف سے سلام ہے۔ جب اہلِ جنت اپنے پروردگار کی رضامندی کی آواز سنیں گے تو ان کی خوشی کی کوئی حد نہیں ہوگی۔

مولانا نے تقویٰ اور زہد کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ زاہد ہونا بہت بلند مقام ہے، جبکہ متقی بننا ہر مومن کے لیے ممکن ہے۔ متقی وہ شخص ہے جو واجبات ادا کرے، حرام کاموں سے بچے اور اپنے دامن کو گناہوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام زہد اور تقویٰ کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھے، ہمیں بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے کم از کم واجبات کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب کو یقینی بنانا چاہیے۔

خطبۂ جمعہ کے دوران مولانا نعمت علی نے غیبت کو معاشرے میں پھیلنے والا ایک سنگین گناہ قرار دیتے ہوئے مومنین کو اس سے بچنے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات انسان غیر ارادی طور پر کسی تیسرے شخص کے بارے میں ایسی بات کہہ دیتا ہے جو غیبت کے دائرے میں آتی ہے۔

انہوں نے سورۂ حجرات کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید نے غیبت کی سخت مذمت کی ہے اور اسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے۔

مولانا نعمت علی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص میں واقعی کوئی عیب موجود ہو اور اس کی عدم موجودگی میں اسی عیب کا ذکر کیا جائے تو یہ غیبت ہے، لیکن اگر وہ عیب اس شخص میں موجود ہی نہ ہو اور اس کے بارے میں ایسی بات کہی جائے تو یہ بہتان ہے، جو مزید سنگین گناہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض مخصوص حالات میں شریعت نے کسی شخص کے بارے میں برائی بیان کرنے کی اجازت دی ہے، مثلاً کسی کے دینی فرائض میں سنگین کوتاہی کے بارے میں متعلقہ شخص کو آگاہ کرنا، شادی کے معاملے میں ضروری معلومات فراہم کرنا یا کسی شخص کے ظلم کی شکایت کرنا۔ تاہم ایسے مواقع پر بھی حد سے تجاوز کرنے اور غیر ضروری باتیں شامل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

مولانا نے مومنین کو ایسی محفلوں سے دور رہنے کی نصیحت کی جہاں دوسروں کی غیبت شروع ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی مجلس میں غیبت کا ماحول پیدا ہوجائے تو گفتگو کا رخ تبدیل کرنا چاہیے اور ایسی بات شروع کرنی چاہیے جس سے غیبت کا سلسلہ رک جائے۔

انہوں نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنی محفلوں کو ذکرِ علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے سجایا جائے۔ اس طرح انسان اپنی گفتگو کو نیک اور مفید موضوعات کی طرف لے جاسکتا ہے اور غیبت جیسی برائی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

خطبۂ جمعہ کے اختتام پر مولانا نعمت علی نے مومنین اور دنیا بھر کے تمام مظلوموں کے لیے دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے تقویٰ، نیک اعمال، گناہوں سے اجتناب اور آخرت میں کامیابی کی توفیق طلب کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha