حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بھاونگر، امبا چوک بھاونگر، گجرات کی شیعہ خوجہ اثنا عشری جامع مسجد میں حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید تحقیق حسین کی امامت میں نمازِ جمعہ ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے تقوائے الٰہی، اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت اور دینی زندگی میں خواہشاتِ نفس کو قابو میں رکھنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مومن کو اپنی ذاتی پسند و ناپسند کو دین کا معیار نہیں بنانا چاہیے بلکہ اپنے نفس کو دین کے احکام کے تابع رکھنا چاہیے۔
مولانا سید تحقیق حسین نے کہا کہ قیامت کے دن انسان سے اس کی عمر، جوانی، مال و دولت اور اسے کہاں خرچ کیا، ان سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اہل بیت علیہم السلام کی محبت کے بارے میں بھی انسان سے پوچھا جائے گا۔ اس لیے ہمیں دنیاوی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کے مطابق گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تربیت میں تقویٰ اور ایمان کی اہمیت
خطيبِ نماز جمعہ نے سورۂ حجرات کی آیات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ آیات میں مسلمانوں کو کسی خبر کی تحقیق کیے بغیر اس پر اعتماد کرنے اور اس کی بنیاد پر فیصلہ کرنے سے روکا گیا ہے، جبکہ آیات 7 اور 8 میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی اور حقیقی ایمان کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے۔
انہوں نے سورۂ حجرات کی آیات 7 اور 8 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جان لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں۔ اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیں تو تم مشکلات میں پڑ جاؤ گے، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمہارے دلوں میں مزین کردیا، جبکہ کفر، فسق اور نافرمانی کو تمہارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات پر اعتماد ایمان کی علامت ہے
مولانا نے کہا کہ اگر کسی شخص کا ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ہے تو اسے یقین ہونا چاہیے کہ رسولِ خدا جو حکم دیں گے، اس میں خیر اور حق ہوگا اور جس بات کو پسند فرمائیں گے، اس میں بھی بھلائی ہوگی۔ مومن کے لیے اپنی ذاتی خواہش اور پسند کو دینی حکم پر ترجیح دینا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مومن کا معیار یہ نہیں ہوسکتا کہ جو بات اس کی خواہش کے مطابق ہو اسے قبول کرلے اور جو اس کی پسند کے خلاف ہو اسے رد کردے۔ دین کے معاملے میں اصل معیار قرآن اور اہل بیت علیہم السلام ہیں اور زمانۂ غیبت میں فقہائے اہل بیت علیہم السلام اس دینی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
دین کو خواہشات کے مطابق ڈھالنا درست نہیں
مولانا سید تحقیق حسین نے کہا کہ ہماری ذاتی خواہش یا نفس دین کا معیار نہیں ہونا چاہیے۔ مومن کو اپنی خواہشات کو دین کے تابع رکھنا چاہیے، نہ یہ کہ دین کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات انسان اپنی محدود معلومات کی بنیاد پر ایسی رائے یا مشورہ دے دیتا ہے جو بظاہر اچھا معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے نتائج نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ قرآن ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی خبر یا اطلاع کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کی تحقیق اور تصدیق کرلی جائے، تاکہ نادانستہ طور پر کسی قوم یا گروہ کو نقصان نہ پہنچے اور بعد میں پشیمانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایمان صرف زبان سے اقرار کا نام نہیں
خطیبِ نماز جمعہ نے کہا کہ ایمان صرف زبان سے اقرار کرنے کا نام نہیں بلکہ ایمان ایسی کیفیت ہے جو انسان کے دل میں محبوب ہوجائے اور اس کے اثرات اس کے کردار اور عمل میں بھی ظاہر ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایمان کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ انسان کفر، فسق اور نافرمانی کو معمولی نہ سمجھے بلکہ اس کے دل میں ان برائیوں کے لیے ناپسندیدگی پیدا ہو۔ دینی اصلاح صرف ظاہری اعمال تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ دل کی اصلاح بھی ضروری ہے۔
مولانا نے کہا کہ جب انسان کا دل پاک اور نیک ہوجاتا ہے تو اس کے کردار اور اعمال میں بھی اچھائی ظاہر ہونے لگتی ہے۔ اس لیے دینی اور اخلاقی اصلاح کا آغاز انسان کے اندر سے ہونا چاہیے۔
ہدایت ملنے پر غرور نہیں بلکہ شکر ضروری ہے
انہوں نے کہا کہ انسان کو ہدایت ملنے پر غرور نہیں کرنا چاہیے اور نہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنا چاہیے۔ اسے دوسروں کو اپنا دشمن یا ذلت کے قابل نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ہدایت کی نعمت ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
مولانا نے کہا کہ قرآن ایسے لوگوں کو «الرَّاشِدُونَ» یعنی ہدایت یافتہ افراد قرار دیتا ہے۔
نفس کو دین کے تابع رکھنا مومن کی پہچان ہے
خطبۂ جمعہ کے دوران مولانا سید تحقیق حسین نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ مومن اپنی ذاتی خواہشات کو دین کا معیار نہ بنائے بلکہ اپنے نفس کو دین کے تابع رکھے۔ حقیقی ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنی ذاتی پسند کے بجائے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احکام کو ترجیح دے۔
انہوں نے کہا کہ تقویٰ صرف چند عبادات کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ انسان کی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مطابق ڈھالنے کا نام ہے۔ انسان کو اپنے مال، جوانی، وقت اور صلاحیتوں کے بارے میں بھی جواب دہ ہونا ہے، اس لیے ہر مومن کو اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔
خطبۂ جمعہ کے اختتام پر مولانا سید تحقیق حسین نے حاضرین اور تمام مومنین کے لیے دعا کی۔ انہوں نے مقدس مقامات کی حفاظت، سلامتی اور امن کے لیے بھی بارگاہِ الٰہی میں خصوصی دعا کی۔










آپ کا تبصرہ