حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ شہر میں واقع جامعہ مسجد غازی امام بادشاہ میں حجۃ الاسلام مولانا لیاقت علی رانجھا نے خطبہ جمعہ دیتے ہوئے قرآن مجید کی سورۂ حجرات کی آیت نمبر 6 کی روشنی میں خبروں کی تحقیق، افواہوں سے اجتناب اور غیر مصدقہ اطلاعات کو آگے پھیلانے کے نقصانات پر روشنی ڈالی۔
مولانا لیاقت علی رانجھا نے اپنے خطبۂ جمعہ میں سورۂ حجرات کی آیت نمبر 6 کی تلاوت کرتے ہوئے مؤمنین کو خبر کی تحقیق اور تصدیق کی اہمیت کی طرف متوجہ کیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ۔ ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے۔
انہوں نے اس آیت کریمہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: قرآن مجید انسان کو یہ بنیادی اصول سکھاتا ہے کہ کسی بھی خبر پر فوری یقین کرنے یا اسے دوسروں تک پہنچانے سے پہلے اس کی صحت کی تحقیق کی جائے، خصوصاً اس وقت جب خبر کا ذریعہ غیر معتبر ہو یا اس کی صداقت کے بارے میں شکوک موجود ہوں۔

سوشل میڈیا کے دور میں تحقیق کی اہمیت
مولانا لیاقت علی رانجھا نے کہا: موجودہ دور میں غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کا پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہر شخص کو معلومات آگے پہنچانے کا موقع حاصل ہے لیکن بدقسمتی سے بعض اوقات لوگ تحقیق کیے بغیر خبریں پھیلا دیتے ہیں یا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے سورۂ حجرات کی آیت میں بیان کردہ قرآنی اصول فَتَبَيَّنُوا یعنی تحقیق و تصدیق کرو، کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا: کسی خبر کی حقیقت جانے بغیر اسے آگے پھیلانا نہ صرف غلط فہمیوں کا سبب بن سکتا ہے بلکہ اس سے افراد، خاندانوں اور معاشروں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر مسلمان کو خبر کی صحت جانچنے، اس کے اصل ماخذ تک پہنچنے اور درست معلومات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ ذمہ دارانہ طرزِ عمل یہی ہے کہ سنی سنائی بات کو بلا تحقیق قبول نہ کیا جائے اور نہ ہی اسے دوسروں تک منتقل کیا جائے۔

حقائق کی شناخت اور تحقیق کا شعور
خطبے کے دوران حضرت علی علیہ السلام سے منسوب ایک قول کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں حق اور باطل کے درمیان فرق سمجھانے کے لیے آنکھ اور کان کے درمیان فاصلے کی مثال بیان کی جاتی ہے۔ اس مثال کے ذریعہ یہ نکتہ واضح کیا گیا کہ کسی بات کو خود دیکھنے اور محض سننے میں فرق ہے۔ سنی سنائی بات لازماً درست نہیں ہوتی، اس لیے اس کی تصدیق ضروری ہے۔
مولانا لیاقت علی رانجھا نے اس تناظر میں سامعین کو متوجہ کیا کہ کسی بھی خبر کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے ماخذ، شواہد اور اصل حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی جائے، تاکہ غلط فہمی، بدگمانی اور دوسروں کو ناحق نقصان پہنچانے سے بچا جا سکے۔

سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ پر گفتگو
خطبۂ جمعہ کے اختتام پر مولانا لیاقت علی رانجھا نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ سے متعلق بھی آگاہی دی اور حملوں کی مذمت کی۔ اس موقع پر ان کی گفتگو میں جنگی صورتِ حال اور حملوں کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کیا گیا۔
انہوں نے اپنے خطبے میں قرآنی تعلیمات کی روشنی میں تحقیق، ذمہ داری اور درست معلومات کی اہمیت کو نمایاں کیا جو موجودہ دور میں دینی و سماجی زندگی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات کو سمجھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔











آپ کا تبصرہ