حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امبا چوک بھاؤ نگر کی شیعہ خوجہ اثنا عشری جامع مسجد میں حجۃ الاسلام والمسلمین سید تحقیق حسین کی امامت میں نماز جمعہ ادا کی گئی۔ انہوں نے خطبۂ جمعہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان کی نصیحت کے لیے موت ہی کافی ہے۔ انسان کو غفلت سے بیدار کرنے اور سیدھے راستے پر لانے کے لیے ہمیشہ کسی طویل خطاب کی ضرورت نہیں، بلکہ موت کا تصور ہی اس کے لیے بڑی نصیحت اور عبرت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی بے نیازی اور مال داری کے لیے تقویٰ کافی ہے۔ انسان جس مال و دولت کے پیچھے پوری زندگی بھاگتا رہتا ہے، وہ عارضی ہے، جبکہ حقیقی دولت وہ ہے جو انسان کے دل میں اللہ کا خوف پیدا کرے اور اسے سکون عطا کرے۔ اسی طرح وقت کو بہتر طریقے سے گزارنے کے لیے عبادت کافی ہے۔
بھاؤ نگر کے امام جمعہ نے کہا کہ انسان دنیا میں اپنے لیے پناہ تلاش کرتا ہے، لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کو پناہ کی منزل قرار دیا ہے۔ دنیا کی مشکلات، ناانصافیاں اور پریشانیاں عارضی ہیں، جبکہ مومن کے لیے حقیقی اور آخری انصاف کا دن قیامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسان کے اچھے اور برے اعمال کے بدلے کے لیے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے۔ دنیا میں انسان جب فیصلہ کرتا ہے تو کسی نہ کسی طرف اس کا جھکاؤ ہوسکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ مکمل بلا نقص ہے۔ انسان کی ذرہ برابر نیکی بھی اس کے سامنے آئے گی اور ذرہ برابر برائی بھی اس سے پوشیدہ نہیں رہے گی۔
قرآن اور معاشرتی آداب
حجۃ الاسلام والمسلمین سید تحقیق حسین نے سورۂ حجرات کی آیات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس سورت میں انسان کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اہم آداب سکھائے گئے ہیں۔ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احترام اور ادب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم نے آپؐ کے ساتھ گفتگو اور ملاقات کے آداب بھی سکھائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی کے گھر یا ملاقات کے لیے جاتے وقت ادب کا خیال رکھنا چاہیے، دروازہ کھٹکھٹا کر انتظار کرنا چاہیے اور یہ ضروری نہیں کہ سامنے والا شخص فوراً باہر آجائے، کیونکہ ممکن ہے وہ عبادت یا کسی دوسرے کام میں مصروف ہو۔
خبر کی تحقیق اور افواہوں سے بچنے کی ضرورت
حجۃ الاسلام والمسلمین سید تحقیق حسین نے سورۂ حجرات کی چھٹی آیت «إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ہدایت دیتا ہے کہ اگر کوئی فاسق شخص کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور بعد میں اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم ایک طرف خبر کی تحقیق اور اس کی سچائی کی تصدیق کا حکم دیتا ہے، جبکہ اسی سورۂ مبارکہ کی بارہویں آیت میں تجسس سے منع کیا گیا ہے۔ بظاہر دونوں باتوں میں فرق محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں دونوں کا تعلق الگ الگ حالات سے ہے۔
ذاتی زندگی میں تجسس سے اجتناب
انہوں نے وضاحت کی کہ تجسس سے مراد لوگوں کی نجی زندگی میں جھانکنا اور ان کے ذاتی معاملات کی ٹوہ لگانا ہے۔ قرآن کریم نے انسان کو دوسروں کی نجی زندگی، گھریلو معاملات اور ذاتی سرگرمیوں کے بارے میں بلاوجہ جستجو اور کھوج سے منع کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب معاملہ پورے معاشرے اور عوامی زندگی سے متعلق ہو تو صورت حال مختلف ہوجاتی ہے۔ اگر معاشرے میں کوئی افواہ پھیل رہی ہو، غلط اطلاع عام ہورہی ہو یا کسی خبر سے معاشرے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اس کے ماخذ اور حقیقت کے بارے میں تحقیق کرنا ضروری ہے۔ اس کا مقصد کسی کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں بلکہ معاشرے کو نقصان اور گمراہی سے بچانا ہے۔
غلط خبر کو نظر انداز کرنا مسئلے کا حل نہیں
حجۃ الاسلام والمسلمین سید تحقیق حسین نے کہا کہ کبھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی غلط بات کو روکنے سے فتنے کا اندیشہ ہو تو کیا کیا جائے؟ قرآن کریم انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اگر کسی غلط اطلاع یا گمراہی کو روکنے میں فتنے کا اندیشہ ہو تو اسے مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے نتیجے میں مستقبل میں اس سے بڑا فتنہ پیدا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذمہ داری یہ ہے کہ بڑے فتنے کو روکنے کے لیے بروقت چھوٹے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے، تاکہ معاملہ وہیں ختم ہوجائے اور معاشرے کو مستقبل کے نقصان سے محفوظ رکھا جاسکے۔
خبر پھیلانے سے پہلے تحقیق ضروری ہے
انہوں نے سورۂ حجرات کی مذکورہ آیت سے حاصل ہونے والے اہم نکات بیان کرتے ہوئے کہا کہ کسی حساس خبر، پیغام یا معاملے کی مکمل تحقیق اور اس کی سچائی کی تصدیق کیے بغیر اسے آگے پھیلانے یا اس کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کسی خبر کو قبول کرنے سے پہلے خبر لانے والے کے کردار، اس کے سابقہ رویے اور اس کے مقصد کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ آج کے دور میں سماجی ذرائع ابلاغ پر تیزی سے پھیلنے والی خبریں بھی اسی اصول کے دائرے میں آتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غصے، جلد بازی یا محض افواہ کی بنیاد پر اٹھایا گیا قدم دوسروں کے لیے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ بغیر تحقیق کے اٹھایا گیا غلط قدم انسان کو بعد میں شرمندگی اور پشیمانی سے دوچار کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر فاسق شخص کی خبر کی تحقیق کا حکم دیا گیا ہے تو اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ قابل اعتماد اور عادل شخص کی خبر کو قبول کیا جاسکتا ہے۔ علمِ اصولِ فقہ میں بھی اس آیت سے یہ اصول اخذ کیا جاتا ہے کہ فاسق اور غیر عادل شخص کی خبر کو بغیر تحقیق کے قبول نہیں کیا جاتا۔
حجۃ الاسلام والمسلمین سید تحقیق حسین نے کہا کہ اس آیت کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ خبر سن لینا آسان ہے، لیکن اس کی تحقیق کرنا ایمان اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
فاسق کسے کہتے ہیں؟
انہوں نے فاسق کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر فاسق کا ذکر ہوا ہے اور اس کی مختلف خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ قرآن و روایات سے حاصل ہونے والے مفہوم کے مطابق فاسق ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو کھلے عام گناہ کرتا، اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کرتا اور دین کا مذاق اڑاتا ہے۔ ایسے شخص کی جانب سے کوئی اہم خبر پیش کی جائے تو اسے فوراً قبول کرنے کے بجائے اس کی سچائی کی تصدیق ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے خبریں اور پیغامات بہت تیزی سے پھیلتے ہیں، اس لیے ہر مومن کی ذمہ داری ہے کہ کسی حساس خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی سچائی کی تحقیق کرے، تاکہ اس کی وجہ سے کسی فرد، خاندان یا پورے معاشرے کو نقصان نہ پہنچے۔
خطبۂ جمعہ کے اختتام پر انہوں نے مومنین کو تقوائے الٰہی اختیار کرنے، عبادت و اطاعتِ پروردگار کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے اور قرآن کریم کی تعلیمات کو انفرادی و اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے کی نصیحت کی۔









آپ کا تبصرہ