حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خطبہ جمعہ کے دوران حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا محمد محسن تقوی نے اسراف و تبذیر سے بچنے اور زندگی میں اعتدال اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنا مال غیر ضروری اور نامناسب کاموں میں خرچ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس شخص کے پاس مال ہو، اسے اس کی حفاظت کرنی چاہیے اور اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص اپنا مال ایسی جگہ خرچ کرے جہاں خرچ کرنا مناسب نہ ہو تو یہ تبذیر کے زمرے میں آتا ہے۔
مولانا محسن تقوی نے اسراف اور تبذیر میں فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسراف حد سے تجاوز کرتے ہوئے خرچ کرنے کو کہتے ہیں، جبکہ تبذیر مال کو ایسی جگہ خرچ کرنا ہے جہاں خرچ کرنا ہی مناسب نہ ہو۔ مثال کے طور پر شادی میں ضرورت سے زیادہ اخراجات اسراف ہیں، جبکہ کسی نامناسب یا خلافِ شرع کام میں مال خرچ کرنا تبذیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج معاشرے میں دکھاوے کے لیے ہونے والے غیر ضروری اخراجات ایک سنگین مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ شاندار شادی، مہنگی سجاوٹ اور فضول خرچی سے کچھ وقت کے لیے لوگوں کی توجہ تو حاصل ہو سکتی ہے، لیکن یہ تعریف جلد ختم ہوجاتی ہے، جبکہ مالی نقصان دیرپا رہتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسراف کا نقصان صرف مالی نہیں بلکہ روحانی بھی ہے۔ غیر ضروری کاموں میں مال خرچ کرنے سے انسان حقیقی ضروریات، اہل خانہ کی ذمہ داریوں، نیک کاموں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے وسائل سے محروم ہوجاتا ہے۔
مولانا محسن تقوی نے کہا کہ نہ بخل درست ہے اور نہ فضول خرچی؛ اسلام انسان کو اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ سخاوت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی پوری دولت کسی کو دے کر اپنے اور اپنے اہل خانہ کی ضروریات کو نظرانداز کردے، بلکہ آمدنی اور حالات کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، خاندان کی ضروریات اور علم و کتاب پر اخراجات کو محض دکھاوے کے لیے منعقد ہونے والی مہنگی تقریبات پر ترجیح دینی چاہیے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: «إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ»؛ بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔
انہوں نے تاکید کی کہ ہمیں لوگوں کی عارضی تعریف کے بجائے اللہ کی رضا، خاندان کی ضروریات، ضرورت مندوں کی مدد، تعلیم اور معاشرے کی بھلائی کو ترجیح دینی چاہیے۔









آپ کا تبصرہ