حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے یوم ازدواج کی مناسبت سے رہبر شہید (رہ) نے اپنے متعدد بیانات میں شادی کی راہ میں حائل ثقافتی رکاوٹوں کا جائزہ لیتے ہوئے معاشرے کی آٹھ غلط روایات کو ترک کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور واضح کیا کہ فخر و تفاخر اور ایک دوسرے سے مقابلہ بازی نوجوانوں کی زندگی تلخ کرنے اور آسان شادی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا بنیادی سبب ہے۔
شہید آیت اللہ خامنہ ای قدس اللہ نفسہ الزکیہ نے مختلف تقاریر اور مواقع پر نوجوانوں کو درپیش ازدواجی مشکلات کا جائزہ لیا ہے۔ ان کے نزدیک ثقافتی رکاوٹیں اس سماجی مسئلے کا ایک بڑا حصہ ہیں اور نوجوانوں، خاندانوں اور متعلقہ ذمہ داران کو ان رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ ذیل میں رہبر شہید (رہ) کی جانب سے بیان کردہ شادی کی آٹھ غلط روایات پیش کی جارہی ہیں:
۱۔ بھاری بھر کم مہر
جو لوگ اپنی بیوی کے لیے بہت زیادہ مہر مقرر کرتے ہیں، وہ معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ بہت سی لڑکیاں گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں اور بہت سے لڑکے غیر شادی شدہ رہ جاتے ہیں کیونکہ جب معاشرے میں یہ چیزیں رواج اور عادت بن جائیں تو ’’مَہرُ السّنّة‘‘ کی جگہ "جاہلی مہر" رواج پاتا ہے۔ جب جاہلی مہر معاشرے کی سنت بن جائے تو حالات بھی جاہلیت جیسے ہوجائیں گے۔ (خطبۂ عقد کے موقع پر خطاب، 2 نومبر 1998ء)
بھاری مہر جاہلیت کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے منسوخ کردیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاندان تقریباً قریش کا سب سے معزز خاندان تھا۔ خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس معاشرے کے سربراہ اور رہبر تھے۔ کیا حرج تھا کہ ایسی عظیم بیٹی جسے اللہ تعالیٰ نے’’سیدۃ النساء العالمین‘‘ قرار دیا، اولین و آخرین کی تمام خواتین میں برتر قرار دیا، اور ان کی شادی عالم ہستی کے بہترین بیٹے، یعنی مولائے متقیان علیہ السلام سے ہورہی تھی تو ان کا مہر بھی زیادہ مقرر کیا جاتا؟ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کم مہر مقرر کرکے اسے ’’مَہرُ السّنّة‘‘ کا نام کیوں دیا؟ (خطبۂ عقد، 18 مئی 1995ء)
مہر جتنا کم ہو، وہ ازدواجی زندگی کی فطرت کے اتنا ہی قریب ہے کیونکہ شادی کوئی کاروباری لین دین نہیں، خرید و فروخت نہیں اور نہ ہی کرائے پر دینے کا معاملہ ہے بلکہ دو انسانوں کی مشترکہ زندگی ہے۔ اس کا مالی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ البتہ شارع مقدس نے ایک مہر مقرر کیا ہے کہ کچھ نہ کچھ مہر ہونا چاہیے، لیکن وہ بھاری نہیں ہونا چاہیے۔ مہر معمول کے مطابق اور ایسا ہونا چاہیے کہ سب لوگ اسے ادا کرسکیں۔ (خطبۂ عقد، 9 اگست 1995ء)
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بھاری مہر ازدواجی رشتے کو مضبوط بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔ یہ غلط ہے۔ اگر خدانخواستہ میاں بیوی ہی نااہل ہوں تو وہاں بھاری مہر کوئی معجزہ نہیں کرسکتا۔ (خطبۂ عقد، 2 اگست 1996ء)
بعض دلہن والوں کے خاندان کہتے ہیں کہ ہم اتنا زیادہ مہر نہیں چاہتے، لیکن داماد والوں کے خاندان فخر و تفاخر اور دکھاوے کے لیے کہتے ہیں کہ نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا! اتنے ملین یا اتنی رقم مہر ہونی چاہیے۔ یہ سب اسلام سے دوری ہے۔ کوئی شخص زیادہ مہر کے ذریعہ کبھی خوش حال نہیں ہوا۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر مہر نہ ہو تو ان کی بیٹی کی شادی کا رشتہ متزلزل ہوجائے گا، وہ غلطی پر ہیں۔ اگر شادی ایمان و محبت اور درست بنیادوں پر قائم ہو تو بغیر مہر کے بھی متزلزل نہیں ہوگی۔ لیکن اگر رشتہ بددیانتی، چالاکی، دھوکہ دہی اور فریب پر قائم ہو تو مہر چاہے کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو، بدطینت اور زور زبردستی کرنے والا مرد ایسا راستہ نکال لے گا کہ اس مہر کی ادائیگی سے بھی بچ جائے۔ (خطبۂ عقد، 25 نومبر 1996ء)
۲۔ بھاری جہیز
میرا خیال ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے جہیز میں جس قدر سادگی اختیار کی گئی اور جس حد کو برقرار رکھا گیا، اس میں ایک علامتی پہلو تھا۔ تاکہ لوگوں کے لیے اس پر عمل کرنے کی ایک بنیاد اور نمونہ موجود رہے اور وہ زیادتیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات میں مبتلا نہ ہوں۔ (خطبۂ عقد، 9 جولائی 1998ء)
بعض دلہن والوں کے خاندان خود کو اذیت دیتے اور مشکل میں ڈالتے ہیں۔ اگر ان کے پاس پیسے نہ ہوں تو بھی بڑی مشکل سے رقم فراہم کرتے ہیں اور اگر پیسے ہوں تو بھی بہت زیادہ خرچ کرتے ہیں تاکہ اپنی بیٹی کو ایک شاندار اور پرتعیش جہیز فراہم کرسکیں۔ (خطبۂ عقد، 19 مارچ 1999ء)
زیادہ جہیز نہ کسی لڑکی کو خوش نصیب بناتا ہے اور نہ کسی خاندان کو وہ سکون، اطمینان اور اعتماد فراہم کرتا ہے جس کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ زندگی کی غیر ضروری چیزیں ہیں، زندگی میں مداخلت ہیں اور دردسر، زحمت اور مشکلات پیدا کرنے کے علاوہ ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ (خطبۂ عقد، 9 دسمبر 1996ء)
۳۔ بے جا تکلفات
ایک معاشرے کے لیے تکلفات اور نمود و نمائش نقصان دہ اور نامناسب ہیں۔ جو لوگ تکلفات کی مخالفت کرتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان کی لذتوں اور خوشیوں سے بے خبر ہیں، نہیں! بلکہ وہ اسے معاشرے کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں، جیسے کوئی نقصان دہ دوا یا مضر خوراک۔ بہت زیادہ تکلفات کے باعث معاشرہ نقصان اٹھاتا ہے۔ البتہ مناسب اور معمول کی حد تک اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن جب مسلسل مقابلہ بازی اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ شروع ہوجائے تو یہ چیز اپنی حد سے تجاوز کرکے دوسری جگہوں تک بھی سرایت کر جاتی ہے۔ (خطبۂ عقد، 11 جولائی 1991ء)
کیا وہ لوگ جو تکلفات کے ساتھ شادی کرتے ہیں، زیادہ خوش رہتے ہیں؟ کون یہ دعویٰ کرسکتا ہے؟ ان کاموں کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ بہت سے نوجوانوں اور بہت سی لڑکیوں کو حسرت میں مبتلا کردیا جائے اور ان کی زندگی تلخ کردی جائے۔ اگر وہ اسی طرح شادی نہ کرسکیں تو ہمیشہ حسرت لیے بیٹھے رہیں یا بالکل شادی ہی نہ کرسکیں۔ اس کے علاوہ ان کاموں کا کوئی نتیجہ نہیں۔ جب کوئی لڑکا اس کی بیٹی کا رشتہ مانگنے آئے اور چونکہ اس کے پاس وسائل نہیں ہیں تو یہ لڑکی گھر میں بیٹھی رہے۔ وہ لڑکا، جو طالب علم، مزدور یا معمولی کاروبار کرنے والا ہے، اسی طرح غیر شادی شدہ رہ جائے۔ (خطبۂ عقد، 14 دسمبر 1994ء)
۴۔ اسراف
بعض لوگ اسراف کرتے ہیں۔ بے دریغ خرچ کرتے اور چیزیں ضائع کرتے ہیں۔ ایسے زمانے میں جب معاشرے میں غریب لوگ موجود ہیں اور ایسے افراد بھی ہیں جنہیں زندگی کی بنیادی ضروریات بھی مناسب طور پر میسر نہیں، اس طرح کے کام اسراف، زیادتی اور فضول خرچی ہیں۔ جو بھی ایسا کرے، وہ خلافِ شرع عمل کا مرتکب ہوتا ہے۔ (خطبۂ عقد، 2 ستمبر 1993ء)
بعض لوگ ایسے کام کے ذریعہ، جس سے ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے، گناہ کماتے ہیں۔ وہ جو اسراف کرتے ہیں، جو خلافِ شرع کام انجام دیتے ہیں اور اس نیک اور پسندیدہ عمل کو ان حرام کاموں کے ساتھ ملا دیتے ہیں جو وہ انجام دیتے ہیں۔ حرام صرف یہ نہیں کہ محرم و نامحرم کے مسائل ہوں۔ وہ بھی یقیناً حرام ہیں، لیکن بے جا اور ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا بھی حرام ہے۔ اسراف حرام ہے۔ بعض مواقع پر ان لوگوں کے دل جلانا جو مالی استطاعت نہیں رکھتے، حقیقتاً حرام ہے۔ اپنی بیٹی کا جہیز تیار کرنے کے لیے حد سے تجاوز کرنا اور حلال و حرام کی پروا نہ کرنا بھی حرام ہے۔ (خطبۂ عقد، 29 جنوری 1998ء)
میں ان لوگوں سے راضی نہیں ہوں جو شادی کے معاملے میں بھاری اخراجات اور اسراف کے ذریعہ دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ البتہ ہم جشن، خوشی اور دعوت کے مخالف نہیں ہیں، لیکن اسراف کے مخالف ہیں۔ (خطبۂ عقد، 15 اگست 1995ء)
۵۔ معروف مہنگے مقامات سے خریداری
یہ لڑکیاں جو اپنا جہیز تیار کرنا چاہتی ہیں، عقد اور جہیز کا سامان خریدنے کے لیے تہران یا کسی بھی بڑے شہر کے بعض مہنگے شاپنگ مالز اور ان معروف مہنگے علاقوں میں نہ جائیں۔ میں ان کا نام نہیں لینا چاہتا، البتہ مجھے معلوم ہے کہ کون سے مقامات ایسے ہیں جہاں کی دکانیں مہنگی اشیا کے لیے مشہور ہیں۔ انہیں وہاں قدم بھی نہیں رکھنا چاہیے۔ ان جگہوں پر جائیں جو مہنگائی کے لیے معروف نہیں ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ بے چارے دولہے کو اپنے پیچھے لے کر پھریں کہ دلہن کے سامان اور عقد کی خریداری کرنی ہے۔ افسوس کہ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں۔ (خطبۂ عقد، 9 جون 1993ء)
۶۔ مہنگے ہوٹل اور ہال
ان مہنگے ہوٹلوں، ہالوں اور پرتعیش تقریبات کو چھوڑ دیں۔ ممکن ہے کوئی شخص کسی ہال میں تقریب منعقد کرے لیکن سادگی کے ساتھ، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ لازماً گھر میں ہی تقریب منعقد کی جائے کیونکہ بعض لوگوں کے گھروں میں جگہ یا ضروری سہولیات نہیں ہوتیں، لیکن اسراف نہ کریں۔ (خطبۂ عقد، 18 جنوری 1995ء)
شادی، عقد اور خوشی اچھی چیز ہے۔ حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی بیٹی کے لیے شادی کی تقریب منعقد فرمائی، خوشی منائی گئی اور لوگوں نے اشعار پڑھے۔ خواتین نے تالیاں بجائیں اور خوشی کا اظہار کیا۔ لیکن عقد و شادی کی ان تقریبات میں اسراف نہیں ہونا چاہیے۔ اسراف کی ایک صورت یہی عقد و شادی کی مہنگی تقریبات ہیں۔ بڑے ہوٹلوں اور ان مہنگے ہالوں میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ بڑی مقدار میں مٹھائیاں، پھل اور کھانے پینے کی اشیا ضائع ہوجاتی ہیں، زمین پر گر کر برباد ہوتی ہیں۔ آخر کیوں؟ ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کے لیے؟ اسراف کی دوڑ میں پیچھے نہ رہنے کے لیے؟ (خطبۂ عقد، 21 مارچ 1993ء)
بہترین اور خوشگوار شادی وہ نہیں جس میں بہت زیادہ خرچ کیا جائے اور بہت زیادہ اسراف ہو۔ خوشگوار شادی وہ ہے جو محبت اور خلوص کے ساتھ منعقد ہو۔ جب شادی میں خلوص و محبت ہو تو وہ خوشگوار ہوجاتی ہے، خواہ مختصر ہی کیوں نہ ہو۔ گھر کے ایک یا دو کمرے بھی جہاں رشتہ دار، دوست، احباب اور آشنا لوگ جمع ہوجائیں تو یہی شادی ہے۔ یہ طویل و مفصل دعوتیں، اس قسم کے مہنگے ہال یا ہوٹل، بہت زیادہ اخراجات اور مہمانوں کے لیے مہنگی اشیا، یہ سب مناسب نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان چیزوں سے شادی باطل ہوجاتی ہے، نہیں! شادی درست ہے۔ لیکن یہ چیزیں معاشرے اور زندگی کے ماحول کو تلخ کردیتی ہیں۔ (خطبۂ عقد، 3 دسمبر 1998ء)
۷۔ مہنگا شادی کا لباس
بعض لوگ شادی کا مہنگا لباس خریدتے ہیں۔ نہیں! اس کی کیا ضرورت ہے؟ اگر دلہن کو عروسی لباس چاہیے تو بعض لوگ اسے کرائے پر لے لیتے ہیں۔ اس میں کیا حرج ہے؟ کیا یہ باعثِ ننگ و عار ہے؟ نہیں! کیسی ننگ اور کیا حرج؟ بعض لوگ اسے باعثِ ننگ سمجھتے ہیں۔ اصل ننگ و عار تو یہ ہے کہ انسان بہت زیادہ رقم خرچ کرکے ایسی چیز خریدے جسے صرف ایک مرتبہ استعمال کرے اور پھر پھینک دے۔ صرف ایک بار استعمال ہونے والی چیز! وہ بھی ایسے حالات میں جب معاشرے کے بعض لوگ مشکلات سے دوچار ہوں۔ (خطبۂ عقد، 26 دسمبر 1995ء)
۸۔ دولت کی نمائش
اگر شادی میں مادی معاملات کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگئی تو یہ جذباتی، روحانی اور انسانی تعلق ایک مادی لین دین میں تبدیل ہوجائے گا۔ یہ مہنگی تقریبات، بھاری بھرکم جہیز، ایک دوسرے سے مقابلہ بازی اور دولت و پیسے کی نمائش، جو بعض غافل اور بے خبر لوگ کرتے ہیں، درحقیقت شادی کو خراب کردیتی ہیں۔ اسی لیے شریعتِ مقدسہ میں کم مہر مقرر کرنا مستحب ہے اور ’’مَہرُ السّنّة‘‘ اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔ (خطبۂ عقد، 4 مارچ 1999ء)
شادی کو آسان بنائیں
میں تمام لوگوں کو سفارش کرتا ہوں کہ شادیوں کو آسان بنائیں۔ بعض لوگ شادی کو مشکل بنادیتے ہیں۔ مہنگے مہر اور بھاری جہیز شادی کو مشکل بناتے ہیں۔ لڑکے والوں کے خاندان بھاری جہیز کی توقعات رکھتے ہیں۔ لڑکی والوں کے خاندان دوسروں سے مقابلہ کرنے کے لیے جہیز، رسومات اور عقد و شادی کی تقریبات کو مزید شاندار بناتے ہیں۔ آخر کیوں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کاموں کا نتیجہ کیا ہے؟ ان کاموں کا نتیجہ یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں شادی کے بغیر گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں اور ان امور کی وجہ سے کوئی شادی کے قریب جانے کی جرأت نہیں کرتا۔ (خطبۂ عقد، 24 نومبر 1994ء)









آپ کا تبصرہ