حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا سید معصوم رضا کیفى نے نماز جمعہ کے خطبے میں نمازیوں کو تقوائے الٰہی کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ تقوا ہماری سب سے پہلی ذمہ داری ہے۔ بلاشبہ جو شخص تقوے کے ساتھ زندگی گزارتا ہے، وہ دنیا میں ایسی مشکلات اور پریشانیوں میں نہیں پھنستا جن سے نکلنا دشوار ہو، کیونکہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں اعلان فرمایا ہے کہ "وَ مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجاً" جو تقوا اختیار کرے گا، اللہ اس کے لیے راستے آسان کر دے گا۔
مولانا سید معصوم رضا کیفى نے ناامیدی اور مایوسی کے نقصانات بیان کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم اور معصومین علیہم السلام کی احادیث کی روشنی میں ناامیدی اور مایوسی کفر ہے۔ مایوسی سب سے بڑا گناہ اور تباہی کا پیش خیمہ ہے؛ مایوسی ایسی آگ ہے جو انسان کو جلا کر رکھ دیتی ہے۔
انہوں نے دعائے کمیل کے فقرے «اِرحَم مَن رَأسُ مالِهِ الرَّجاء» یعنی ’’اے اللہ! اس شخص پر رحم فرما جس کا تمام سرمایہ تجھ سے امید ہے‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں، اس لیے ہمیں ان کے فرامین پر عمل کرنا چاہیے اور یقین رکھنا چاہیے کہ ہمارا اصل سرمایہ امید ہے، ناامیدی نہیں۔
مولانا سید معصوم رضا کیفى نے کہا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ایسے اعمال انجام دیں جن سے ہم اہل بیت علیہم السلام کے قریب ہوں اور ایسے کاموں سے بچیں جن کے ذریعے ہم اہل بیت علیہم السلام سے دور ہو جائیں۔
انہوں نے مؤمنین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر یا دوسروں کو فارورڈ کرنے سے اجتناب کریں جن سے قوم کی بدنامی ہوتی ہے۔ بلکہ اگر کوئی شخص ایسی چیزیں دوسروں کو بھیج رہا ہو تو اسے بھی ایسا کرنے سے روکیں اور اگر کسی کی ویڈیو ہو تو اس شخص سے بات کرکے اسے سمجھائیں کہ آئندہ ایسا نہ کرے۔ ہمیں خود کسی برائی یا برے کام کو پھیلانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
امام جمعہ بھادی شاہ گنج نے امام حسین علیہ السلام کے اس فرمان ’’مجھ جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت تک حسین علیہ السلام یزید کی بیعت نہیں کر سکتے۔ لہٰذا کوئی بھی حسینی کسی یزید کی بیعت نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ آج امریکہ اور اسرائیل دنیا بھر میں ظلم و ستم کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والے بین الاقوامی ادارے آخر کیوں خاموش ہیں؟
مولانا سید معصوم رضا کیفى نے نیک اعمال کے حوالے سے کہا کہ ہمیں لوگوں کو دکھانے کے لیے نیک کام نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمارے اعمال صرف اللہ کی رضا اور اس کی نظر میں قبولیت کے لیے ہونے چاہئیں۔









آپ کا تبصرہ