ہفتہ 12 ستمبر 2026 - 18:51
رسول اکرمؐ کی سیرت صرف بیان نہیں، زندگی میں اپنانا ضروری ہے: مولانا سید معصوم رضا کیفی

حوزہ/ اترپردیش کے ضلع جونپور، بھادی شاہ گنج میں 11 ستمبر 2026 کو خطبۂ جمعہ کے دوران مولانا سید معصوم رضا کیفی نے سورۂ احزاب کی آیت 21 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت صرف بیان کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے اپنی ذاتی، خاندانی اور سماجی زندگی میں اپنانا ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اترپردیش کے ضلع جونپور، بھادی شاہ گنج میں 11 ستمبر 2026 کو خطبۂ جمعہ کے دوران مولانا سید معصوم رضا کیفی نے سورۂ احزاب کی آیت 21 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت صرف بیان کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے اپنی ذاتی، خاندانی اور سماجی زندگی میں اپنانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بڑی تعداد میں مجالس اور تبلیغی پروگرام منعقد ہوتے ہیں، لیکن حقیقی کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب دینی تعلیمات ہمارے کردار اور رویے میں نظر آئیں۔

مولانا نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے معاشرے میں تشریف لائے جہاں دنیا اور مادی فائدے کو زندگی کا مقصد سمجھا جاتا تھا۔ آپؐ نے انسان کو دنیا پرستی سے نکال کر توحید، خدا پرستی اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کیا۔

انہوں نے حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے فرمان کی روشنی میں کہا کہ انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ دنیا کی خواہشات کے پیچھے زندگی گزار رہا ہے یا آخرت کی کامیابی کو اپنا مقصد بنا رہا ہے۔ قرآن کریم میں آخرت کا بار بار ذکر بھی اسی لیے کیا گیا ہے کہ انسان کو یاد رہے کہ دنیا مستقل ٹھکانہ نہیں بلکہ گزرنے کی جگہ ہے۔

مولانا سید معصوم رضا کیفی نے کہا کہ جب انسان کے اندر آخرت کا یقین مضبوط ہوتا ہے تو اس کے فیصلوں، رویے اور کردار میں بھی اچھا فرق پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے دینی تعلیمات کا مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ انسان کی زندگی اور کردار کو بہتر بنانا ہے۔

انہوں نے مہمان نوازی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اکرمؐ اور انبیائے الٰہی کی سیرت سے ہمیں دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ، محبت اور احترام کا درس ملتا ہے۔ مہمان نوازی اسلامی معاشرے کی اہم خوبی ہے اور انسان کے اچھے اخلاق دوسروں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے معاشرے میں محبت، بھائی چارے اور دینی اقدار کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آخرت پر یقین کے ساتھ رسول اکرمؐ کی سیرت کو اپنے گھر، خاندان اور معاشرتی زندگی میں عملی طور پر اپنانا ہوگا۔ یہی سیرتِ رسولؐ کی حقیقی پیروی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha