ہفتہ 12 ستمبر 2026 - 10:18
آخرت پر یقین اور مہمان نوازی سے معاشرے کی اسلامی تربیت ممکن ہے

حوزہ/ امام جمعہ غازی پور حجۃ الاسلام مولانا تنویر الحسن نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونۂ عمل ہے۔ اگر ہمارے دل میں آخرت کا یقین مضبوط ہو اور ہم سیرتِ رسولؐ کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں تو ہمارے کردار، گھر اور معاشرے میں اسلامی تعلیمات کے حقیقی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غازی پور، اتر پردیش میں خطبۂ جمعہ کے دوران حجه الاسلام مولانا تنویر الحسن نے سورۂ احزاب کی آیت 21 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت بیان کرنا کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ آج مجالس اور تبلیغی پروگرام بڑی تعداد میں منعقد ہوتے ہیں، لیکن ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ان تعلیمات کا ہماری عملی زندگی پر کتنا اثر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے معاشرے میں مبعوث ہوئے جہاں لوگ دنیا اور مادی مفادات کو زندگی کا مقصد سمجھتے تھے۔ آپؐ نے لوگوں کو دنیا پرستی سے نکال کر توحید، خدا پرستی اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کیا۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان کی روشنی میں انسان دو طرح کے ہیں؛ ایک دنیا کے طلب گار اور دوسرے آخرت کی کامیابی کے لیے زندگی گزارنے والے۔ ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ ہم کس راستے پر ہیں۔

مولانا تنویر الحسن نے کہا کہ قرآن مجید میں بار بار آخرت کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ انسان یہ سمجھ سکے کہ دنیا مستقل ٹھکانہ نہیں بلکہ گزرنے کی جگہ ہے۔ جب انسان کے اندر آخرت کا یقین مضبوط ہوتا ہے تو اس کے فیصلوں اور کردار پر بھی اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف عقائد اور عبادات کی تعلیم نہیں دی بلکہ معاشرے میں موجود اچھی عادات کو بھی درست سمت عطا کی۔ ان میں مہمان نوازی ایک اہم صفت تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انبیائے الٰہی کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ مہمان نوازی محض کھانا کھلانے کا نام نہیں بلکہ محبت، انسانیت اور ہدایت کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب اس واقعے کا ذکر کیا جس میں ایک غیر مؤمن شخص کو دسترخوان سے اٹھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہوئی کہ وہ شخص کافر ہونے کے باوجود اللہ کے رزق سے محروم نہیں تھا۔ حضرت ابراہیمؑ نے اسے واپس بلایا، جس کے نتیجے میں وہ شخص اللہ کی نعمت اور کرم سے متاثر ہو کر ایمان لے آیا۔

امام جمعہ غازی پور نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہمان نوازی کو ایک عظیم اسلامی قدر کے طور پر اجاگر کیا۔ مہمان گھر میں محبت، برکت اور رحمت کا سبب بن سکتا ہے۔ افسوس ہے کہ آج دنیاوی مصروفیات اور مادی سوچ کے باعث بعض لوگ مہمان نوازی کو بوجھ سمجھنے لگے ہیں۔

انہوں نے تاکید کی کہ اگر ہم معاشرے میں محبت، بھائی چارہ اور دینی اقدار کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو آخرت پر یقین مضبوط کرنے کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو اپنے گھرانے اور معاشرتی زندگی میں عملی طور پر نافذ کرنا ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha