حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی قمی نے کہا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ میں لوگوں کے ساتھ نرمی، ان کا خیال رکھنے، دعوتِ دین میں اعتدال، مخاطب کی ضروریات اور گنجائش کو سمجھنے اور حسنِ سلوک جیسے نمایاں اوصاف پائے جاتے ہیں، جنہوں نے بہت سے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔
دفتر آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی میں ماہ صفر کے تیسرے عشرے کی مجالسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روایتی اور تاریخی کتابوں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہت سی خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔ ابن شہر آشوب نے اپنی کتاب «مناقب آل ابی طالب» میں آپؐ کی تقریباً 150 خصوصی صفات کا ذکر کیا ہے۔
انہوں نے خاتم النبیین ہونا، جامع اور مختصر کلام کی صلاحیت، پوری انسانیت کے لیے مبعوث ہونا، اسلام کا قیامت تک باقی رہنا اور قرآن کریم کو آپؐ کا دائمی معجزہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شریعت اسلام آسانی اور انسانی گنجائش کو مدنظر رکھتی ہے اور بلاوجہ سختی پر مبنی نہیں۔
اخلاقِ نبویؐ؛ لوگوں کو اسلام کی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ
حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی قمی نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی بات پوری توجہ سے سنتے اور اجنبی افراد کے ساتھ بھی صبر و تحمل سے پیش آتے تھے۔ انہوں نے عدی بن حاتم کے اسلام قبول کرنے کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہؐ کا ایک ضعیف خاتون کی بات تحمل سے سننا اور مہمان کے احترام میں اپنی جگہ اسے دے دینا، عدی بن حاتم پر گہرا اثر چھوڑ گیا اور وہ آپؐ کے اخلاق سے متاثر ہوکر اسلام لے آئے۔
انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذاتی عبادت میں طویل قیام فرماتے تھے، لیکن جماعت کی نماز میں لوگوں کی حالت کا خیال رکھتے اور نماز مختصر کرتے تھے۔ آپؐ نے معاذ بن جبل کو بھی طویل قراءت سے منع کرتے ہوئے تاکید فرمائی کہ ایسا طرزِ عمل اختیار نہ کریں جس سے لوگ جماعت سے دور ہوجائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ رسول اللہؐ نے دعوتِ دین میں بھی تدریج اور اعتدال کی تعلیم دی۔ حضرت علی علیہ السلام کو یمن روانہ کرتے وقت ہدایت فرمائی کہ پہلے لوگوں کو توحید و رسالت کی دعوت دیں، پھر نماز اور اس کے بعد دیگر احکام بیان کریں۔
انہوں نے کہا کہ تبلیغ کرنے والوں کو چاہیے کہ سیرتِ نبویؐ سے رہنمائی لیتے ہوئے لوگوں کی صلاحیت اور حالات کا خیال رکھیں، مختصر اور مؤثر گفتگو کریں، سختی سے گریز کریں اور نرمی و حسنِ اخلاق کے ذریعے دلوں کو دین کی طرف متوجہ کریں۔
انہوں نے حسنِ سلوک کو سیرتِ نبویؐ کا اہم اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ نرمی اور اچھے برتاؤ کو بھی فرائض کی طرح اہم قرار دیا۔ سیرتِ نبویؐ میں عبادت و معنویت کے ساتھ عوام دوستی، صبر، اعتدال اور انسانوں کی عزت و احترام بھی شامل ہے، جو آج کے مبلغین، اساتذہ اور معاشرے سے رابطہ رکھنے والے افراد کے لیے بہترین عملی نمونہ ہے۔









آپ کا تبصرہ